Right to Inheritance and Limitation: Legal Principles and Judicial Precedents.
 |
Right to Inheritance and Limitation: Legal Principles and Judicial Precedents |
اپنی زندگی میں اگر کوئی واراثت نہیں مانگتا بعد میں اس کے ورثا بھی چیلنج نہیں کر سکتے۔
وراثتی جائیداد میں حقِ دعویٰ: قانونی اصول اور عدالتی نظائر
وراثتی جائیداد کے مقدمات میں اکثر ایسے سوالات سامنے آتے ہیں جہاں کسی وارث کو اس کے جائز حق سے محروم کر دیا جاتا ہے، لیکن وہ زندگی بھر خاموش رہتا ہے۔ بعد میں اس کے ورثا جائیداد پر دعویٰ دائر کرتے ہیں، تاہم قانونی طور پر ایسے دعوے ہمیشہ قابلِ سماعت نہیں ہوتے۔ پشاور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے (2021 CLC 1506) میں اس معاملے کو تفصیل سے واضح کیا گیا ہے۔
کیس کا پس منظر
اس مقدمے میں درخواست گزار حیات خان نے مؤقف اختیار کیا کہ گُل رحمان کو منتقل کی گئی جائیداد میں ان کے پیشرو کا حق شامل تھا، جو انہیں نہیں ملا۔ انہوں نے وراثتی انتقال (Mutation) کو چیلنج کیا اور مقدمہ دائر کیا۔
عدالتی کارروائی اور فیصلے
ٹرائل کورٹ نے دعویٰ منظور کرتے ہوئے درخواست گزار کے حق میں فیصلہ دیا۔
ماتحت اپیلٹ کورٹ نے یہ فیصلہ کالعدم کر دیا اور دعویٰ مسترد کر دیا۔
پشاور ہائی کورٹ نے بھی اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور درخواست مسترد کر دی۔
قانونی نکات اور عدالت کا مؤقف
1. حقِ وراثت کی حفاظت
قانون ہر وارث کو اس کے جائز حصے کی ضمانت دیتا ہے، لیکن اگر کوئی وارث خود اپنی زندگی میں اس حق سے محروم رہے اور اس پر اعتراض نہ کرے تو اس کے بعد آنے والے ورثا کے لیے دعویٰ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
2. مدتِ معیاد (Limitation) کا اطلاق
عدالت نے قرار دیا کہ اگر وراثتی حق کو چیلنج کرنے میں غیر معمولی تاخیر ہو، تو دعویٰ قابلِ سماعت نہیں ہوتا۔ اس کیس میں:
درخواست گزاروں کے پیشرو 1937 میں اپنے حق سے محروم ہوئے۔
مقدمہ 1993 میں دائر کیا گیا، یعنی 56 سال بعد۔
اس عرصے میں جائیداد کئی بار منتقل ہو چکی تھی، جس کے باعث مقدمہ قانونی حد سے باہر قرار پایا۔
3. لُوکس اسٹینڈائی (Locus Standi)
عدالت نے قرار دیا کہ جب اصل قانونی وارث اپنی زندگی میں وراثتی حق کے لیے کوئی دعویٰ نہیں کرتا، تو اس کے بعد آنے والے وارثین کو بھی دعویٰ دائر کرنے کا قانونی حق حاصل نہیں رہتا۔
عدالتی نظیر اور قانونی اہمیت
یہ فیصلہ وراثتی تنازعات میں ایک اہم نظیر (Precedent) بن سکتا ہے۔ اس سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ وراثت کے معاملات میں تاخیر سے دائر کیے گئے دعوے قابلِ قبول نہیں ہوتے، خصوصاً جب جائیداد متعدد بار منتقل ہو چکی ہو۔
نتیجہ
یہ فیصلہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ وراثتی حق کے لیے بروقت قانونی کارروائی کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی وارث اپنی زندگی میں خاموش رہتا ہے، تو اس کے بعد آنے والے ورثا کے لیے حقِ دعویٰ قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لہٰذا، قانونی وارثین کو چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری قانونی کارروائی کریں تاکہ مستقبل میں کسی پیچیدگی کا سامنا نہ ہو۔
حوالہ:
2021 CLC 1506, Peshawar High Court
Must read judgement
Citation Name : 2021 CLC 1506 PESHAWAR-HIGH-COURT
Side Appellant : HAYAT KHAN
Side Opponent : GUL REHMAN
Ss.42 & 45---Suit for declaration and injunction---Mutation of inheritance ---Inheritable rights---Scope---Plaintiffs-petitioners assailed transfer of suit property in favour of respondents-defendants on the plea that the property included shares of their predecessor-in-interests which was not given to them---Suit was decreed by Trial Court but Lower Appellate Court dismissed the same---Validity---When legal heir was deprived of his/her right of inheritance and he/she remained alive for a considerable period and did not challenge his/her deprivation from legacy of predecessor, then at later stage when legacy had changed many hands, further legal heirs had no locus standi to challenge inheritance Mutation which remained unchallenged during life time of their predecessor---Predecessor-in-interest of petitioners-plaintiffs were deprived of their legacy in year 1937, therefore, suit filed in year 1993, when entire property had changed so many hands was not within the period of limitation---Revision was dismissed, in circumstances
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.