Right of Grandchildren in Inheritance: A Legal and Sharia Perspective.
![]() |
| Citation Name : 2013 CLC 542 PESHAWAR-HIGH-COURT |
پوتے/نواسے کا وراثتی حق: ایک قانونی و شرعی جائزہ
تعارف
وراثت کا قانون اسلامی تعلیمات اور ملکی قوانین میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 کے سیکشن 4 کے تحت پوتے/نواسے کو اپنے مرحوم والد کا حصہ دادا/نانا کی جائیداد سے ملنے کا حق دیا گیا، لیکن اس شق کو بعد میں شرعی تقاضوں سے متصادم قرار دیا گیا۔ اس مضمون میں پشاور ہائی کورٹ کے ایک اہم فیصلے (2013 CLC 542) کے تناظر میں اس مسئلے کا تجزیہ کیا جائے گا۔قانونی پس منظر
مسلم عائلی قوانین آرڈیننس 1961 کا سیکشن 4 یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی بیٹا/بیٹی اپنے والدین کی زندگی میں وفات پا جائے، تو اس کے بچے (پوتے/نواسے) اپنے والد کے حصے کے حق دار ہوں گے۔ یعنی وہ حصہ جو مرنے والے بیٹے/بیٹی کو ملنا تھا، وہ ان کی اولاد کو منتقل ہو جائے گا۔
لیکن بعد میں وفاقی شرعی عدالت نے اس شق کو اسلامی شریعت کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ پوتے/نواسے کو دادا کی جائیداد میں حصہ نہیں ملے گا، کیونکہ اسلامی قانون کے مطابق، وراثت صرف ان ورثاء میں تقسیم ہوتی ہے جو مورث کے انتقال کے وقت زندہ ہوں۔
پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ (2013 CLC 542)
اس کیس میں پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم قانونی نکتہ اٹھایا کہ چونکہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا، اس لیے آئین کے آرٹیکل 203-D کے مطابق، جب تک سپریم کورٹ کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرتی، وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ معطل تصور کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ:
- پوتے/نواسے کو اپنے دادا کی جائیداد میں اپنے مرحوم والد کا حصہ مل سکتا ہے۔
- سیکشن 4 بدستور مؤثر رہے گا جب تک سپریم کورٹ کوئی حتمی فیصلہ نہیں دے دیتی۔
شرعی اور قانونی نقطہ نظر
اسلامی نقطہ نظر سے، قرآن و حدیث میں وراثت کے اصول واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ عام فقہی رائے کے مطابق پوتے/نواسے کو براہ راست دادا کی وراثت میں حصہ نہیں ملتا، کیونکہ وہ "ذوی الفروض" یا "عصبہ" کی کیٹیگری میں نہیں آتے۔ تاہم، تدارکِ نقصان کے اصول کے تحت، جدید قانونی اصلاحات میں یہ حق دیا گیا تاکہ یتیم بچوں کے حقوق محفوظ کیے جا سکیں۔
نتیجہ
پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ اس وقت تک مسلم عائلی قوانین آرڈیننس، 1961 کے سیکشن 4 کو قابلِ عمل قرار دیتا ہے جب تک کہ سپریم کورٹ کوئی حتمی فیصلہ نہ دے دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پوتے/نواسے کو اپنے دادا/نانا کی جائیداد میں اپنے مرحوم والد کا حق ملے گا، لیکن مستقبل میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اس معاملے کو مستقل طور پر طے کر سکتا ہے۔
یہ مسئلہ قانونی اور شرعی دونوں حوالوں سے اہم ہے اور اس پر مزید عدالتی فیصلے مستقبل میں صورتحال کو مزید واضح کر سکتے ہیں۔
