Process of leaving share of inheritance.
![]() |
| Process of leaving share of inheritance |
تعارف
وراثت کے اسلامی قانون میں بعض اوقات ورثاء باہمی رضامندی سے اپنے حصص کی تقسیم اس انداز میں کرتے ہیں کہ کوئی ایک وارث مکمل حقِ وراثت لینے کے بجائے کسی مخصوص حصے پر اکتفا کر لیتا ہے۔ اس طرزِ تقسیم کو فقہی اصطلاح میں تخارج کہا جاتا ہے۔ زیرِ نظر فیصلہ پشاور ہائیکورٹ کا ہے جس میں تخارج کے تصور، اس کی نوعیت اور شرعی و قانونی حیثیت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔
تخارج کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم
تخارج کا لغوی مطلب خارج ہونا، علیحدہ ہونا یا دستبردار ہونا ہے۔ اصطلاحی طور پر تخارج اس عمل کو کہا جاتا ہے جس میں کوئی وارث وراثتی جائیداد میں سے اپنے پورے حصے کا مطالبہ ترک کر کے کسی مخصوص حصے یا مال پر رضامند ہو جاتا ہے اور باقی جائیداد سے خود کو خارج کر لیتا ہے۔
حقِ وراثت کی شرعی حیثیت اور تخارج
اسلامی قانون کے تحت وراثت ایک لازمی حق ہے جس سے اصولی طور پر انکار کی گنجائش نہیں۔ تاہم شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ ورثاء باہمی رضامندی سے اپنے حصے آپس میں تقسیم کریں۔ اسی تناظر میں تخارج کو ایک جائز طریقہ تصور کیا گیا ہے، بشرطیکہ یہ عمل رضاکارانہ ہو اور کسی جبر یا دھوکہ دہی پر مبنی نہ ہو۔
تخارج اور صلح (تسالُح) کا تعلق
عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ تخارج درحقیقت صلح کی ایک شکل ہے، جسے فقہی اصطلاح میں تسالُح کہا جاتا ہے۔ جب کوئی وارث مخصوص مال یا حصے پر راضی ہو کر باقی وراثتی حق سے دستبردار ہو جاتا ہے تو یہ عمل صلح کے زمرے میں آتا ہے، اور اسی بنیاد پر تخارج کو تسالح سمجھا جاتا ہے۔
تخارج کی بنیاد رضامندی پر
تخارج اسی صورت معتبر ہوتا ہے جب کوئی وارث اپنی آزاد مرضی سے وراثتی مال کے مجموعے میں سے کسی خاص چیز پر رضامند ہو جائے اور اپنے پورے حصے کا مطالبہ نہ کرے۔ اس میں بنیادی شرط یہ ہے کہ وارث کو اپنے حق کا مکمل علم ہو اور وہ جان بوجھ کر جزوی حق قبول کر رہا ہو۔
تخارج اور ھبہ (Gift) کی حیثیت
عدالت کے مطابق تخارج بعض پہلوؤں سے ھبہ کی حیثیت بھی اختیار کر لیتا ہے۔ جب کوئی وارث اپنے باقی حصے سے دستبردار ہوتا ہے تو یہ عمل دیگر ورثاء کے حق میں ھبہ شمار ہو سکتا ہے۔ اس لیے تخارج کے معاملے میں ھبہ کے اصولوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
تقسیمِ وراثت اور قبضہ کی شرط
فیصلے میں اس نکتے پر خاص زور دیا گیا ہے کہ تخارج مکمل وراثت کی تقسیم کے وقت ہونا چاہیے تاکہ ہر وارث پہلے اپنے حصے پر قبضہ حاصل کرے۔ اسلامی قانون کے مطابق غیر منقسم جائیداد (مشاع) کا ھبہ درست نہیں کیونکہ قبضہ ھبہ کا لازمی جزو ہے۔ لہٰذا تخارج اس مرحلے پر ہونا چاہیے جب وراثتی جائیداد کی باقاعدہ تقسیم ممکن ہو۔
عدالتی نتیجہ
پشاور ہائیکورٹ نے اس مقدمے میں واضح کیا کہ تخارج ایک تسلیم شدہ اسلامی و قانونی تصور ہے، مگر اس کے لیے رضامندی، وضاحت، اور شرعی اصولوں کی مکمل پابندی لازم ہے۔ اگر یہ شرائط پوری نہ ہوں تو تخارج کو قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔
حوالہ
Must read judgement
2024 CLC 1705
Peshawar High Court
ATTA-UR-REHMAN بنام Mst. GHULAM BIBI
Citation Name : 2024 CLC 1705 PESHAWAR-HIGH-COURT
Side Appellant : ATTA-UR-REHMAN
Side Opponent : Mst. GHULAM BIBI
nheritance---Takharuj, concept of---Meanings---Literal meaning of takharuj is to exclude; to abort---Given the obligatory nature of the right of inheritance which carves out no room for refusal, inheritors may distribute their respective shares in an amicable manner---In the process, an inheritor may agree to take a specific portion or kind of the inherited property and give a part or other kind to other inheritors---Having stepped down, such an inheritor stands excluded---This is called takharuj---In this perspective, the exclusion amounts to compromise (sulh) and takharuj becomes tasaluh.---In Islamic Law of inheritance , takharuj could be understood as tasaluh (sulh or compromise on something)---Takharuj as tasaluh comes into play in a situation where one of the legal heirs of a propositus voluntarily agrees on something specific from the pool of the inherited property and does not press for his/her whole share---Takharuj assumes the status of a gift in two ways---Firstly, the property from which one inheritor will stand excluded will be that of a gift of his/her remaining property to other inheritors---Takhuruj has to take place at the time of distribution by means of partition of the entire legacy, so that each inheritor is able to get possession of his/her due share first---Gift of an undivided property (musha'a) is not valid as delivery of possession is one of its essential elements.
وراثت میں تخارج: ایک شرعی اور قانونی جائزہ
وراثت کا حق اسلام میں لازمی اور غیر مشروط ہے، یعنی ہر وارث کو اس کا حصہ ملنا ضروری ہے۔ تاہم، بعض اوقات ورثاء باہمی رضامندی سے اپنے حصے کی تقسیم کا فیصلہ کرتے ہیں، جس میں ایک وارث اپنا پورا یا کچھ حصہ دوسرے ورثاء کے حق میں چھوڑ دیتا ہے۔ اس عمل کو "تخارج" کہا جاتا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے (2024 CLC 1705) میں تخارج کے اصول کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے، جو وراثتی معاملات میں ایک اہم قانونی اور شرعی طریقہ کار ہے۔
---
تخارج کیا ہے؟
تخارج کا مطلب کسی وارث کا اپنے حصے سے دستبردار ہو جانا ہے، تاکہ دوسرے ورثاء اپنی وراثتی جائیداد میں اضافہ کر سکیں۔ یہ ایک قسم کا باہمی تصفیہ (صلح) ہوتا ہے، جس میں ایک وارث کسی مخصوص جائیداد یا رقم پر راضی ہو کر اپنے مکمل وراثتی حق سے الگ ہو جاتا ہے۔
---
پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ
پشاور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ:
1. تخارج دراصل صلح (تصالح) کی ایک شکل ہے، جہاں ایک وارث باقی ورثاء کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے۔
2. اگر کوئی وارث کسی خاص جائیداد یا رقم پر راضی ہو کر باقی جائیداد کے حق سے دستبردار ہو جائے تو یہ تخارج کہلائے گا۔
3. تخارج تقسیمِ وراثت کے وقت ہی مؤثر ہوگا، یعنی جب تمام ورثاء کو ان کے حصے دیے جا رہے ہوں۔
4. یہ عمل ہبہ (عطیہ) کی طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے، کیونکہ ایک وارث اپنا حق چھوڑ کر دوسروں کو دے دیتا ہے۔
5. مشترکہ جائیداد (مشاع) کو بغیر تقسیم کیے ہبہ کرنا جائز نہیں، کیونکہ ہبہ کے لیے قبضہ دینا ضروری ہوتا ہے۔
---
تخارج کیوں کیا جاتا ہے؟
ورثاء مختلف وجوہات کی بنا پر تخارج کر سکتے ہیں، مثلاً:
خاندانی اتفاق: بعض اوقات ورثاء آپس میں محبت اور حسنِ سلوک کی بنا پر اپنے حصے سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔
مالی فوائد: بعض ورثاء مخصوص جائیداد یا نقد رقم پر اتفاق کر کے دیگر جائیداد سے دستبردار ہو سکتے ہیں۔
قانونی سہولت: بعض حالات میں جائیداد کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے بجائے باہمی تصفیہ کر لیا جاتا ہے۔
---
شرعی اور قانونی نقطۂ نظر
اسلامی قانون کے مطابق، تخارج جائز ہے بشرطیکہ یہ مکمل رضامندی سے ہو اور کوئی دباؤ یا زبردستی نہ ہو۔ مزید برآں، تخارج صرف تقسیم کے وقت مؤثر ہوگا، کیونکہ مشترکہ جائیداد (مشاع) کی ہبہ شرعاً جائز نہیں۔
قانونی طور پر، تخارج ایک تحریری معاہدے کے ذریعے کیا جا سکتا ہے تاکہ مستقبل میں کوئی تنازع پیدا نہ ہو۔
---
نتیجہ
تخارج وراثت کے معاملات میں صلح، باہمی رضا مندی اور آسانی پیدا کرنے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔ تاہم، اسے شرعی اصولوں اور قانونی تقاضوں کے مطابق انجام دینا ضروری ہے، تاکہ کسی بھی وارث کے حقوق متاثر نہ ہوں۔
یہ اصول وراثت کی تقسیم میں شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے میں مدد دیتا ہے، اور اگر باہمی اتفاق سے کیا جائے تو خاندانی تعلقات کو بہتر رکھنے میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
