Legal Heirs’ Right to Challenge Property Mutation: Limitations and Precedents.
ورثا کا جائیداد کے انتقال کو چیلنج کرنے کا حق: قانونی حدود اور نظائر
وراثت اور جائیداد کے مقدمات میں ایک اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا کسی متوفی شخص کے ورثا اس کی زندگی میں ہونے والے کسی متنازعہ انتقال کو چیلنج کر سکتے ہیں؟ اس حوالے سے پشاور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے 2024 CLC 890 نے ایک اہم اصول طے کیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں کسی قانونی اقدام کو چیلنج نہیں کرتا تو اس کے ورثا بھی بعد میں اس پر اعتراض نہیں کر سکتے۔
پسِ منظر:
یہ مقدمہ مدعی حاجی اکبر اور مخالف فریق جہانگیر کے درمیان تھا۔ مدعیان نے دعویٰ کیا کہ ان کے مورث کی ملکیتی جائیداد کا انتقال 1929 میں اس وقت کر دیا گیا جب وہ نابالغ تھے۔ مدعیان نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ انتقال غیر قانونی تھا اور اسے منسوخ کیا جائے۔
عدالتی تجزیہ اور فیصلہ:
- عدالت نے Specific Relief Act, 1877 کے تحت دفعہ 42، 12، اور 54 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص نابالغی میں کسی جائیداد سے متعلق متنازعہ لین دین کا سامنا کرے تو وہ بالغ ہونے کے بعد تین سال کے اندر اسے چیلنج کر سکتا ہے۔
- مدعیان کے مورث 1988 میں وفات پا گئے، لیکن انہوں نے اپنی زندگی میں یہ انتقال چیلنج نہیں کیا، حالانکہ وہ اس سے بخوبی واقف تھے۔
- 1991 میں مدعیان کے حق میں وراثتی انتقال ہوا، لیکن انہوں نے مزید 18 سال انتظار کیا اور 2009 میں مقدمہ دائر کیا، جو 1929 میں ہونے والے انتقال کو چیلنج کرنے کے لیے حدِ قانون (Limitation) کے تحت ناقابلِ سماعت تھا۔
- عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ مورث نے اپنی زندگی میں انتقال کو چیلنج نہیں کیا، اس لیے ورثا کے پاس بھی اسے چیلنج کرنے کا حق نہیں رہا۔
- لہٰذا، نظرثانی درخواست 2024 میں مسترد کر دی گئی۔
قانونی اصول:
یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ:
- اگر کسی شخص نے اپنی زندگی میں کسی جائیداد کے انتقال یا فروخت کو چیلنج نہیں کیا، تو اس کے ورثا بعد میں ایسا کرنے کے اہل نہیں ہوتے۔
- قانونی حد بندی (Limitation) کے قوانین کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اور بلاجواز تاخیر کی بنیاد پر دعویٰ خارج ہو سکتا ہے۔
- کسی بھی جائیداد سے متعلق تنازعہ جلد از جلد عدالت میں لے جانا ضروری ہے، ورنہ قانونی حق ضائع ہو سکتا ہے۔
نتیجہ:
2024 CLC 890 کا فیصلہ جائیداد کے تنازعات میں تاخیر سے دائر کیے جانے والے مقدمات پر ایک نظیر فراہم کرتا ہے
Must read Judgement
Citation Name : 2024 CLC 890 PESHAWAR-HIGH-COURT
Side Appellant : Haji AKBAR
Side Opponent : JEHANGIR
S. 18 & Art. 120---Specific Relief Act (I of 1877), Ss. 42, 12 & 54---Suit for declaration, possession and permanent injunction---Property owned by a minor---Sale-mutation regarding such property, challenging of---Limitation---Claim of the plaintiffs was that sale mutation -in-question qua their predecessor-in-interest was illegal for having been attested at the time when he (the predecessor-in-interest) was minor---Suit was concurrently dismissed---Validity---A person who is aggrieved from any transaction, which is made during his minority can challenge it within three years after getting the age of majority---However , in the present case, predecessor-in-interest of the petitioners/plaintiffs died way back in the year 1988 but he did not challenge the sale mutation-in-question in his life time before any competent Court of Law, despite having full knowledge of the same, therefore, his legal heirs were precluded to challenge its validity after his death as it is settled that the legal heirs cannot challenge the validity of a mutation , which was not questioned by their predecessor-in-interest in his / her life time---More so, the inheritance mutation of the said predecessor-in-interest was attested in favour of his legal heirs (petitioners/plaintiffs) way back in the year 1991, but even after the said date, the petitioners remained silent for long 18 years in filing civil suit, challenging therein the sale-mutation having been attested in the year 1929, which was hopelessly time-barred---No illegality or infirmity had been noticed in the impugned judgments passed by both the Courts below while non-suiting the petitioners/plaintiffs---Revision filed by the plaintiffs was dismissed, in circumstances.
Popular articles
