History of Shamlat land.
![]() |
| History of Shamlat land |
شاملات زمین کی تاریخ
شاملات زمین کا تصور برصغیر میں قدیم دور سے چلا آ رہا ہے۔ مختلف ادوار میں یہ زمینیں مقامی روایات، برطانوی راج کے قوانین، اور بعد ازاں پاکستانی قانونی نظام کے تحت مختلف مراحل سے گزریں۔ شاملات زمین کی تاریخ کو درج ذیل ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1. قدیم دور (قبل از 1849)
برصغیر میں زراعتی معیشت کے آغاز سے ہی زمینوں کی تقسیم اور مشترکہ ملکیت کا نظام موجود تھا۔ شاملات زمین کا بنیادی مقصد گاؤں کے باشندوں کو اجتماعی طور پر ایسی زمین مہیا کرنا تھا جو مشترکہ ضروریات جیسے چراگاہ، تالاب، قبرستان، مساجد، اور دیگر عوامی سہولیات کے لیے استعمال ہو سکے۔
اس دور میں مقامی زمیندار اور پنچایتیں شاملات زمین کے انتظامات کی نگرانی کرتی تھیں۔
ہر فرد کو زمین کا مخصوص حصہ کاشت کرنے کے لیے دیا جاتا تھا لیکن چراگاہ اور دیگر عوامی مقاصد کے لیے مختص زمین پر سب کا حق ہوتا تھا۔
2. برطانوی دور (1849 – 1947)
1849 میں برصغیر پر برطانوی راج قائم ہونے کے بعد زمینوں کے قوانین میں بڑی تبدیلیاں کی گئیں۔
پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1887 اور دیگر قوانین کے تحت زمین کی ملکیت کے اصول طے کیے گئے۔
شاملات زمین کا باضابطہ ریکارڈ مرتب کیا گیا اور اسے گاؤں کی ملکیت تسلیم کیا گیا، لیکن بعض اوقات زمینوں کو نوآبادیاتی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔
انگریزوں نے بعض مقامی جاگیرداروں اور زمینداروں کو ان زمینوں کا انتظام سونپا، جس کی وجہ سے کئی علاقوں میں طاقتور طبقے نے ناجائز قبضے شروع کر دیے۔
3. پاکستان کے قیام کے بعد (1947 – تا حال)
قیامِ پاکستان کے بعد زمینوں کی تقسیم اور اصلاحات کا عمل شروع ہوا۔
1950 اور 1960 کی دہائی میں زرعی اصلاحات کے تحت شاملات زمین کو باضابطہ طور پر مقامی حکومتوں اور کمیونٹیز کے زیرِ انتظام کیا گیا۔
پنجاب ویلیج کامن لینڈ ایکٹ 1961 کے تحت شاملات زمین کے استعمال اور ملکیتی حقوق کا تعین کیا گیا۔
عدالتوں میں وقتاً فوقتاً شاملات زمین کے مقدمات سامنے آئے، جن میں ناجائز قبضوں، زمینوں کی فروخت، اور حکومتی کنٹرول کے حوالے سے فیصلے دیے گئے۔
4. جدید دور اور حالیہ قانونی پیش رفت
حالیہ دہائیوں میں شاملات زمین پر قبضے، قانونی پیچیدگیاں، اور عدالتی مقدمات میں اضافہ ہوا ہے۔
سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس نے مختلف مقدمات میں شاملات زمین کے غلط استعمال کو روکا ہے۔
حکومت نے ناجائز قبضوں کے خلاف آپریشن کیے ہیں اور شاملات زمین کو اصل مقاصد کے لیے محفوظ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
نتیجہ
شاملات زمین کی تاریخ سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تصور قدیم زمانے سے چلا آ رہا ہے اور وقت کے ساتھ اس کے قوانین اور استعمال میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ آج بھی اس زمین کی قانونی حیثیت اور ملکیت کے معاملات کئی مسائل کو جنم دیتے ہیں، جس کے لیے مناسب قوانین اور ان کا نفاذ ضروری ہے۔
Tags
History of Shamlat

اسکا آسان حل یہ ھے کہ شاملاتی زمینوں کو مقامی حکومت اپنی تحویل رکھتے ھوئے خرید و فروخت پر پابندی لگائے' آبادی دہہہ چونکہ روز بروز بڑھ ریی ھے تو متعلہ دیہہ کے باشندوں کو گھروں کے بنانے کے لیئے لوکل حکومت شناختی کارڈ پر زندگی میں ایک بار 1 کنال 50 ھزار کے عوض دینی چاھیئے ' تاکہ غریبوں کو اپنے آبائی گاوں میں اپنا مکان میسر هو' کھیوٹدار حکومت کو کیا دیتے هیں؟ 1 ھزار فی کنال اور آگے یہی کھیوٹدار اپنے گاوں کے باسی کو 5 سے 8 یا 10 لاکھ روپے کنال بیچتے ھیں
ReplyDeleteمسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں کھیتی باڑی دن بدن کم ہوتی جا رہی ہے، نوجوان نسل کا اس طرف بالکل کوئی رجحان نہیں ہے، زرعی زمینوں پہ پراپرٹی ڈیلرز پلاٹنگز کر کر کہ فروخت کر رہے ہیں اور اس طرح اصل زمیندار اپنی ملکیتی اراضی فروخت کر کہ بنوں وول کا سوٹ اور بونینزا کی سویٹرز پہن کر پرسنیلٹی بنا کر گھوم رہے ہیں اور اپنی ملکی اور لیمبرادری کا بھرم قائم کئے ہوئے ہیں، پیچھے شاملاتیں ہی رہ جاتی ہیں جنہیں وہی مالکان اسٹامپ پیپرز پہ آدھی قیمت پہ بیچ رہے ہیں اور وہاں بھی مکان اور دوکانیں بنتی چلی جا رہی ہیں پانچوں گھی میں ہیں اور پیاز ٹماٹر 200 روپے کلو ،کیمیکل والا دودھ موجاں ہی موجاں
ReplyDelete