Contract with a Minor: Legal Status and Judicial Precedent
 |
"Contract with a Minor: Legal Status and Judicial Precedent"
|
نابالغ کے ساتھ معاہدہ: قانونی حیثیت اور عدالتی نظیر
تعارف:
پاکستانی قانون کے مطابق، کسی بھی معاہدے کی درستگی کے لیے ضروری ہے کہ فریقین معاہدہ کرنے کی قانونی اہلیت (Competency) رکھتے ہوں۔ کنٹریکٹ ایکٹ 1872 کے سیکشن 11 کے تحت نابالغ کے ساتھ کیا گیا کوئی بھی معاہدہ باطل (Void ab initio) ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے 2024 SCMR 150 میں بھی اس اصول کو واضح کیا گیا، جہاں زمین کی خرید و فروخت کا ایک معاہدہ نابالغ فریقین کی موجودگی کی بنا پر غیر مؤثر قرار دیا گیا۔
کیس کا پس منظر:
اس کیس میں نوراللہ اور دیگر خریداروں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 2 ستمبر 1986 کو غلام مرتضیٰ اور دوسرے فروخت کنندگان سے 2,45,000 روپے میں زمین خریدی اور بعد میں انتقال (Mutation) درج کروا لیا۔ جب فروخت کنندگان نے زمین منتقل کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی، تو خریداروں نے عدالت سے رجوع کیا۔
تاہم، عدالتی کارروائی کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ 1986 میں غلام مرتضیٰ کی عمر 14 سال تھی اور دوسرا فروخت کنندہ بھی نابالغ تھا۔ مزید برآں، زمین دراصل ان کے پیشرو (Predecessor-in-interest) کی ملکیت تھی، اور خریدار نہ تو فروخت کی کوئی مستند دستاویز پیش کر سکے اور نہ ہی ادائیگی کے کوئی گواہ۔
عدالتی تجزیہ اور فیصلہ:
1. نابالغ کے ساتھ معاہدے کی حیثیت:
کنٹریکٹ ایکٹ 1872 کے مطابق، معاہدہ صرف بالغ اور عاقل شخص ہی کر سکتا ہے۔ چونکہ فروخت کنندگان نابالغ تھے، اس لیے زمین کی فروخت شروع سے ہی باطل تھی (Void ab initio)۔
2. دستاویزی اور زبانی شہادت کی عدم موجودگی:
خریدار معاہدے یا ادائیگی کا کوئی تحریری ثبوت پیش نہ کر سکے۔
قانون شہادت 1984 (آرٹیکلز 17(2)(اے) اور 79) کے مطابق کسی معاہدے کے لیے دو گواہ درکار ہوتے ہیں، لیکن یہاں کوئی گواہ پیش نہیں کیا گیا۔
3. غیر قانونی انتقال (Mutation):
زمین کی اصل ملکیت فروخت کنندگان کے پیشرو کے پاس تھی، اس کے باوجود بغیر کسی قانونی بنیاد کے انتقال درج کروا لیا گیا، جو کہ قانوناً ناقابل قبول تھا۔
نتیجہ:
ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ زمین فروخت کنندگان کی ملکیت ہی رہے گی اور انتقال و معاہدہ دونوں کو کالعدم قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے اپیل خارج کر دی۔
نتائج اور قانونی اثرات:
یہ کیس ایک اہم نظیر (Precedent) ہے، جو درج ذیل اصول واضح کرتا ہے:
نابالغ کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ قانونی طور پر ناقابلِ عمل ہوتا ہے۔
زمین کی فروخت کے لیے مکمل اور مستند قانونی ثبوت درکار ہوتے ہیں۔
بغیر کسی قانونی جواز کے انتقال درج کروانا عدالت میں ناقابل قبول ہے۔
یہ عدالتی فیصلہ مستقبل میں زمین کے معاملات اور معاہدوں کی قانونی حیثیت کو سمجھنے کے لیے ایک اہم حوالہ فراہم کرتا ہے۔
حوالہ:
2024 SCMR 150، سپریم کورٹ آف پاکستان
کنٹریکٹ ایکٹ 1872، سیکشن 11
قانون شہادت 1984، آرٹیکل 17(2)(اے) اور 79
Must read Judgement
Citation Name : 2024 SCMR 150 SUPREME-COURT
Side Appellant : NOORULLAH
Side Opponent : GHULAM MURTAZA
S. 54---Contract Act (IX of 1872), S. 11---Qanun-e-Shahadat (10 of 1984), Arts. 17(2)(a) & 79---Sale transactions---Proof---Contract with a minor void---Appellants/petitioners claimed that the land in question was purchased by them from the respondents on 02.09.1986 against a sale consideration of Rs.2,45,000/- and since the respondents were reluctant to Transfer the same, thus a contract of sale was executed vide the impugned mutation---Validity---Respondent while recording his statement before the trial Court had mentioned his age as 45 years, which indicated that at the time of purchase of land in the year 1986, he was fourteen years of age---Similarly, the other respondent was also a minor in 1986, therefore alleged sale of the land in question in such behalf was void in terms of section 11 of the Contract Act, 1872---Furthermore in 1986, the actual owner of the suit land was predecessor-in-interest of the respondents, but neither any documentary proof of such sale was adduced in evidence nor any witness of the sale transaction was produced during the case proceedings, thus question was as to how could the appellants/petitioners purchase the suit land from the respondents in the year 1986---Appellants/petitioners also failed to prove execution of the impugned mutation by summoning two attesting witnesses i.e. Assistant Collector and the Patwari as per Qanun-e-Shahadat, 1984---High Court had rightly declared that the respondents were the owners of the suit land, and that the impugned mutation and contract of sale were void---Appeal and petition were dismissed accordingly.
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.