Bail Denied in Gang Rape Case – Lahore High Court’s Decision.
![]() |
| Bail Denied in Gang Rape Case – Lahore High Court’s Decision |
اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں ملزم کی ضمانت خارج – لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
لاہور ہائی کورٹ نے حالیہ فیصلے میں ایک کم سن بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں نامزد ملزم شہباز کی بعد از گرفتاری ضمانت مسترد کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ جرم کی نوعیت انتہائی سنگین ہے اور ایسے افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
مقدمے کے حقائق
یہ مقدمہ ایک کم عمر لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور فحش مواد کی فراہمی سے متعلق تھا۔ استغاثہ کے مطابق، متاثرہ بچی نے پولیس کو بیان دیا کہ ملزم اور اس کے ساتھیوں نے نہ صرف اس کے ساتھ زیادتی کی بلکہ اس گھناؤنے فعل کی ویڈیو بھی بنائی۔
تحقیقات کے دوران درج ذیل شواہد سامنے آئے:
- متاثرہ لڑکی کا بیان: بچی نے دفعہ 161 اور 164 ضابطہ فوجداری کے تحت دیے گئے بیانات میں واضح طور پر ملزم پر زیادتی کا الزام لگایا۔
- ویڈیو ثبوت: پولیس نے ایک USB برآمد کی، جس میں مبینہ جرم کی ویڈیو موجود تھی، جو استغاثہ کے مؤقف کو مزید مضبوط کرتی تھی۔
- جھوٹے الزام کی کوئی بنیاد نہیں: ملزم کے وکیل یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ اسے بدنیتی کی بنیاد پر جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا۔
عدالتی فیصلہ
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ:
- ملزم کے خلاف کافی شواہد موجود ہیں – متاثرہ بچی کے بیانات اور ویڈیو شواہد ملزم کے خلاف مضبوط گواہی فراہم کرتے ہیں۔
- جرم کی نوعیت سنگین ہے – اجتماعی زیادتی جیسے جرائم نہ صرف متاثرہ فرد بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں، اور ایسے مجرموں کو کسی رعایت کا مستحق نہیں سمجھا جا سکتا۔
- قانونی ممانعت – چونکہ جرم دفعہ 376 (زیادتی) اور 293 (فحش مواد کی فراہمی) کے زمرے میں آتا ہے، اور اس کی سزا سخت ہے، اس لیے یہ دفعہ 497 ضابطہ فوجداری کے تحت ممانعتی شق میں شامل ہے، جس میں ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
نتیجہ
عدالت نے ملزم کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی اور قرار دیا کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو سختی سے نمٹنا چاہیے تاکہ معاشرے میں اخلاقی برائیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔ یہ فیصلہ جنسی جرائم کے خلاف سخت مؤقف کو ظاہر کرتا ہے اور ایسے معاملات میں انصاف کی فراہمی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
Must read Judgement.
Name : 2024 MLD 597 LAHORE-HIGH-COURT-LAHORE
Side Appellant : SHAHBAZ
Side Opponent : State
S. 497---Penal Code (XLV of 1860), Ss. 376 & 293---Gang rape with a minor, sale etc., of obscene objects to young person---bail , refusal of---Victim of the case supported case of the prosecution against the petitioner (accused) through her statement recorded under S.161, Cr.P.C.---Victim clearly levelled allegation of rape against the petitioner as well as his co-accused through her statement recorded under S. 164, Cr.P.C.---USB containing video of the alleged act had also been secured during investigation of the case and allegation levelled against the petitioner had been established after thorough investigation---Any reason for false implication of the petitioner in the case with such heinous allegation which had stigmatized life of the victim as well as honor of her family could not be referred to by counsel for the petitioner---Prima facie, reasonable grounds were available on the record to connect the petitioner with the commission of alleged offences and punishment of offence of rape with minor attracted the prohibition contained in S.497, Cr.P.C.---Persons involved in such like activities did not deserve any leniency rather they were liable to be dealt with iron hands in order to curb such like nefarious activities, falling in moral turpitude, from the society---Therefore, no case for grant of post arrest bail to the petitioner was made out---bail petition was dismissed
