Conviction in rape and kidnapping.The Legal Justification of Mental State and Intent.
![]() |
| "High Court's Unique Ruling: The Legal Justification of Mental State and Intent" |
ہائی کورٹ کا منفرد فیصلہ: ذہنی کیفیت اور نیت کا قانونی جواز
تعارف
پاکستانی عدالتی نظام میں کسی ملزم کی مجرمانہ ذہنیت اور نیت کو ثابت کرنا ہمیشہ ایک پیچیدہ معاملہ رہا ہے۔ عام طور پر، ماضی کے جرائم کو بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا (آرٹیکل 68 قانونِ شہادت 1984 کے تحت)، لیکن حالیہ ہائی کورٹ کے ایک فیصلے نے آرٹیکل 27 کے تحت ملزم کی ذہنی کیفیت (State of Mind) اور ارادے (Intention) کو جرم کے تعین کے لیے اہم قرار دیا۔کیس کا پسِ منظر
اس مقدمے میں ملزم پر دفعہ 365-B (اغوا برائے زنا) اور دفعہ 376 (زیادتی) کے تحت الزامات تھے۔ استغاثہ کے مطابق، ملزم نے متاثرہ کو اغوا کیا، اس کے ساتھ زیادتی کی اور نازیبا تصاویر بنا کر اسے بلیک میل کیا۔ دفاع نے جرح کے دوران خود یہ تسلیم کیا کہ ملزم ماضی میں ڈکیتی جیسے جرائم میں ملوث رہا ہے۔ عدالت نے اس بیان کو ملزم کی نیت اور ارادے کو سمجھنے کے لیے اہم قرار دیا۔عدالتی فیصلہ اور منفرد قانونی نقطہ
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ:-
ذہنی کیفیت اور ارادے کی اہمیت (آرٹیکل 27 قانونِ شہادت 1984)
- عدالت نے کہا کہ اگر کسی ملزم کی ماضی کی حرکات اس کے مجرمانہ ارادے کو ثابت کرتی ہیں، تو انہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
- چونکہ دفاع نے خود ملزم کے ماضی کے جرم کا ذکر کیا، اس لیے یہ ملزم کے ذہنی رجحان اور نیت کو ظاہر کرنے کے لیے قابل قبول ٹھہرا۔
-
ماضی کے جرائم بطور ثبوت (آرٹیکل 68 قانونِ شہادت 1984)
- عام طور پر، کسی ملزم کے پچھلے جرائم کو نئے مقدمے میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا۔
- لیکن اس کیس میں، دفاع کے بیان کی روشنی میں عدالت نے ملزم کے پچھلے جرائم کو اس کے جرم کے ارادے کو ثابت کرنے کے لیے قابل غور سمجھا۔
-
ملزم کی متاثرہ سے وابستگی اور شادی کی خواہش جرم کے ارادے کو ثابت کرتی ہے
- عدالت نے تسلیم کیا کہ ملزم بچپن سے متاثرہ کو جانتا تھا اور اس سے شادی کا خواہش مند تھا۔
- یہ تعلق ملزم کی ذہنی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے، جس نے اسے جرم کی طرف راغب کیا۔
-
استغاثہ نے کیس شک و شبہ سے بالاتر ثابت کر دیا
- عدالت نے قرار دیا کہ تمام شواہد ملزم کے خلاف ہیں، اور اس کا جرم ثابت ہو چکا ہے۔
قانونی اثرات اور اہمیت
یہ فیصلہ مستقبل میں زیادتی، اغوا، اور بلیک میلنگ کے مقدمات میں نظیر (Precedent) بن سکتا ہے۔ خاص طور پر:- اگر دفاع خود ملزم کے ماضی کے جرائم کا ذکر کرے، تو وہ آرٹیکل 27 کے تحت ملزم کی نیت کے تعین میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
- عدالتیں صرف جرم کی نوعیت نہیں بلکہ ملزم کی ذہنی کیفیت اور ارادے کو بھی دیکھیں گی۔
- یہ فیصلہ ماضی کے مجرمانہ رویے اور حالیہ جرم کے درمیان تعلق کو ثابت کرنے کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
نتیجہ
یہ فیصلہ پاکستان کے قانونی نظام میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ ہائی کورٹ نے **روایتی قانونی تشریح سے ہٹ کر آرٹیکل 27 اور آرٹیکل 68 کی ایک نئی جہت متعMust read judgement
Ss. 365-B & 376---Bad character of accused---Scope---Accused was charged that he along with his co-accused kidnapped the complainant and raped her, and accused also prepared her nude pictures for blackmailing---Bad character of accused in criminal cases was not relevant under Art.68 of the Qanun-e-Shahadat, 1984---Perusal of evidence showed that defence itself conceded the involvement of the appellant in offence of dacoity while putting question upon the victim during her cross-examination, which turned attention to Art. 27 of Qanun-e-Shahadat, 1984 dealing with relevancy of facts showing existence of state of mind, or of body or bodily feeling---In the evidence of that case facts were brought on record that the appellant had affiliation with victim since her childhood and also wanted to marry her, therefore what he had done could not be regarded as innocent mistake rather his state of mind and bodily feeling made him to commit such a heinous offence---Thus, inclination and attraction of accused towards victim was a relevant fact in the case which could safely be read against him for his intention to commit act of rape and preparation of nude pictures---Circumstances established that prosecution had proved the case against the appellant beyond shadow of reasonable doubt---
2025 PCrLJ 589
PLJ 2025 Cr.C. 72
