Written statement right.
![]() |
| Right of written statement |
Must read Judgement
اہم نکات:
-
یکطرفہ کارروائی کا حکم:
مدعا علیہان کے خلاف غیر حاضری کی وجہ سے مقدمہ یکطرفہ طور پر چلایا گیا، اور انہیں تحریری جواب جمع کرانے سے محروم کر دیا گیا۔ -
درخواست کا مسترد ہونا:
- مدعا علیہان نے آرڈر IX، رول 7 سی پی سی کے تحت یکطرفہ حکم ختم کرنے کی درخواست دی۔
- سول کورٹ اور نظرثانی عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تحریری جواب وقت پر جمع نہیں ہوا اور درخواست وقت کی حد سے تجاوز کر چکی ہے۔
-
آرٹیکل 10-A (آئین پاکستان):
- عدالت نے فیصلہ دیا کہ تکنیکی بنیادوں پر مدعا علیہان کو مقدمے کے فعال مقابلے سے محروم کرنا آئین کے آرٹیکل 10-A (منصفانہ ٹرائل کے حق) کے خلاف ہوگا۔
- مقدمے کے درست فیصلے کے لیے مدعا علیہان کو شامل کرنا ضروری ہے۔
-
حدود کا اصول:
- سی پی سی یا حدود ایکٹ میں یکطرفہ حکم ختم کرنے کے لیے کوئی خاص مدت مقرر نہیں۔
- آرٹیکل 181 کے تحت، تین سال کی مدت لاگو ہوتی ہے، جو درخواست کے حق کے پیدا ہونے کے وقت سے شروع ہوتی ہے۔
-
عدالتی فیصلہ:
- ہائی کورٹ نے سول کورٹ اور نظرثانی عدالت کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا۔
- مدعا علیہان کو 30 دن کے اندر تحریری جواب جمع کرانے کی اجازت دی، بشرطیکہ وہ مدعی کو 10,000 روپے بطور جرمانہ ادا کریں۔
-
قانونی حوالہ:
- Wali Muhammad v. Hakeem Muhammad Khan and others 1993 MLD 1101۔
یہ نکات منصفانہ ٹرائل کے اصول اور تکنیکی پیچیدگیوں کے خلاف عدالتی تحفظ کو نمایاں کرتے ہیں۔
