Punjab women property rights act 2021 declared unlawful.
اس مقدمے میں عدالت نے نہ صرف مذکورہ قانون کی متعدد دفعات کو غیر آئینی قرار دیا بلکہ اس اصول کو بھی واضح کیا کہ ایک صوبے کی ہائیکورٹ کا فیصلہ دوسری ہائیکورٹ کے لیے اگرچہ پابند نہیں ہوتا، تاہم وہ قوی ترغیبی (persuasive) حیثیت رکھتا ہے۔
1. پنجاب انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی رائٹس ایکٹ، 2021 کے آئینی نکات
تمہید
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ 2024 CLC 1108 پنجاب انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی رائٹس ایکٹ، 2021 کی آئینی حیثیت کے حوالے سے ایک نہایت اہم اور دور رس اثرات رکھنے والا فیصلہ ہے۔ اس مقدمے میں عدالت نے نہ صرف مذکورہ قانون کی متعدد دفعات کو غیر آئینی قرار دیا بلکہ اس اصول کو بھی واضح کیا کہ ایک صوبے کی ہائیکورٹ کا فیصلہ دوسری ہائیکورٹ کے لیے اگرچہ پابند نہیں ہوتا، تاہم وہ قوی ترغیبی (persuasive) حیثیت رکھتا ہے۔
مقدمے کا پس منظر
درخواست گزاران نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور Punjab Enforcement of Women’s Property Rights Act, 2021 کی دفعات 3 تا 9 اور 11 کو چیلنج کیا۔ درخواست گزاران کا مؤقف تھا کہ یہ قانون آئینِ پاکستان سے متصادم ہے، اختیارات کی تقسیم کے اصول کی خلاف ورزی کرتا ہے اور شہریوں کے بنیادی حقوق میں غیر قانونی مداخلت کا باعث بنتا ہے۔
درخواست گزاران نے عدالت کی توجہ اس جانب بھی دلائی کہ انہی دفعات کو اسلام آباد ہائیکورٹ پہلے ہی اپنے فیصلے 2024 CLC 953 میں غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔
بنیادی آئینی سوال
لاہور ہائیکورٹ کے سامنے اصل سوال یہ تھا کہ آیا پنجاب انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی رائٹس ایکٹ، 2021 کی مذکورہ دفعات آئینِ پاکستان سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں، اور آیا اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے مختلف نقطۂ نظر اختیار کرنے کی کوئی آئینی یا قانونی ضرورت موجود ہے۔
دوسری ہائیکورٹ کے فیصلے کی قانونی حیثیت
عدالت نے اس اصول کو واضح کیا کہ اگرچہ ایک ہائیکورٹ کا فیصلہ دوسری ہائیکورٹ کے لیے binding precedent نہیں ہوتا، تاہم وہ ایک مضبوط persuasive value رکھتا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں دی گئی وجوہات، استدلال اور آئینی تشریح اس قدر مضبوط ہے کہ اس سے اختلاف کیے بغیر بھی وہی نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
قانون کی دفعات کا آئینی جائزہ
لاہور ہائیکورٹ نے تفصیلی تجزیے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ Punjab Enforcement of Women’s Property Rights Act, 2021 کی دفعات 3، 4، 5، 6، 7، 8، 9 اور 11 آئینِ پاکستان سے متصادم ہیں۔ عدالت کے مطابق ان دفعات کے ذریعے ایسے انتظامی اور عدالتی اختیارات تخلیق کیے گئے جو نہ صرف آئینی اسکیم کے خلاف ہیں بلکہ شہریوں کے قانونی حقوق اور عدالتی عمل میں بھی غیر ضروری مداخلت کا باعث بنتے ہیں۔
دفعات کو غیر آئینی قرار دینے کا نتیجہ
عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ دفعات غیر آئینی، غیر قانونی اور بلا اختیار ہیں اور ان کا کوئی قانونی اثر باقی نہیں رہے گا۔ تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا اطلاق ان تمام مقدمات پر ہو گا جو لاہور ہائیکورٹ کے سامنے زیرِ سماعت ہیں یا جن میں محتسب (Ombudsperson) کے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔
ماضی کے فیصلوں اور بند معاملات کی حیثیت
لاہور ہائیکورٹ نے ایک متوازن مؤقف اختیار کرتے ہوئے یہ وضاحت کی کہ وہ معاملات جو پہلے ہی حتمی شکل اختیار کر چکے ہیں اور جنہیں عدالت کے سامنے چیلنج نہیں کیا گیا، انہیں اس فیصلے کے ذریعے دوبارہ نہیں کھولا جائے گا۔ اس طرح عدالت نے قانونی استحکام اور ماضی کے بند لین دین (past and closed transactions) کے اصول کو برقرار رکھا۔
خواتین کے حقوق اور قانون سازی کی ضرورت
عدالت نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ خواتین کے جائیدادی حقوق ایک نہایت اہم اور حساس مسئلہ ہیں، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی تناظر میں عدالت نے صوبائی حکومت پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ آئین کے مطابق، مناسب قانونی تقاضوں اور عدالتی رہنمائی کو مدنظر رکھتے ہوئے نیا قانون مرتب کرے تاکہ خواتین کے جائیدادی حقوق کا مؤثر اور آئینی تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
سپریم کورٹ و دیگر عدالتی نظائر کا حوالہ
فیصلے میں PLD 2018 Lahore 322 اور 2020 CLD 829 سمیت دیگر عدالتی نظائر کا حوالہ دیا گیا، جن میں اس اصول کو تسلیم کیا گیا ہے کہ قانون سازی کے دوران آئینی حدود اور بنیادی حقوق کا تحفظ بنیادی شرط ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کا حتمی فیصلہ
لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزاران کی آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے Punjab Enforcement of Women’s Property Rights Act, 2021 کی دفعات 3 تا 9 اور 11 کو غیر آئینی قرار دے دیا اور صوبائی حکومت کو نئی قانون سازی کی ہدایت جاری کی۔
قانونی و سماجی اہمیت
یہ فیصلہ نہ صرف آئینی قانون بلکہ خاندانی اور جائیدادی حقوق کے حوالے سے بھی ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس فیصلے سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی ضروری ہے، مگر ایسی قانون سازی آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی مؤثر اور پائیدار ہو سکتی ہے۔
درخواست گزاروں نے پنجاب انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی رائٹس ایکٹ، 2021 کی دفعات (3، 4، 5، 6، 7، 8، 9 اور 11) کو آئین کے خلاف قرار دینے کی استدعا کی۔
2. اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ
اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی ان دفعات کو آئین کے خلاف قرار دے چکی تھی۔
لاہور ہائی کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو persuasive value کے تحت اپنایا اور الگ مؤقف اختیار کیے بغیر وہی فیصلہ کیا۔
3. ہائی کورٹ کا فیصلہ
مذکورہ دفعات کو غیر آئینی، غیر قانونی اور بے اثر قرار دیا۔
ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف ان معاملات پر نافذ ہوگا جو عدالت کے سامنے ہیں اور وہ معاملات جو پہلے ہی ختم ہوچکے ہیں یا حتمی ہوچکے ہیں ان پر اطلاق نہیں ہوگا۔
4. قانون سازی کی تجویز
عدالت نے حکومت پنجاب کو ہدایت دی کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے نیا قانون بنایا جائے، کیونکہ یہ ایک اہم سماجی مسئلہ ہے۔
5. درخواست گزاروں اور فریقین کی نمائندگی
درخواست گزاروں اور سرکاری و نجی فریقین کی جانب سے متعدد وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔
6. فیصلے کا حوالہ جات کے ساتھ ربط
اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ: Saleem Ahmed Jan v. Deputy Commissioner, Islamabad 2024 CLC 953۔
دیگر متعلقہ عدالتی فیصلے:
United Bank Limited v. Federation of Pakistan PLD 2018 Lah. 322۔
Muslim Commercial Bank Ltd. v. Federation of Pakistan 2020 CLD 829۔
خلاصہ
لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب انفورسمنٹ آف ویمنز پراپرٹی رائٹس ایکٹ، 2021 کی مخصوص دفعات کو آئین کے خلاف قرار دیا اور حکومت کو نئے قانون کی تشکیل کا حکم دیا تاکہ خواتین کے جائیداد کے حقوق کا مؤثر تحفظ ممکن ہو۔
