G-KZ4T1KYLW3 Documents exhibit under the statement of lawyer is illegal

Documents exhibit under the statement of lawyer is illegal

Documents exhibit under the statement of lawyer is illegal.


Documents exhibit under the statement of lawyer is illegal  

دستاویزات کی قانونی حیثیت

مقدمے کا تعارف

یہ فیصلہ 2024 CLC 1503 ہے جو لاہور ہائی کورٹ، راولپنڈی بنچ نے جناب جسٹس مرزا وقاص رؤف کی سربراہی میں صادر کیا۔ مقدمہ ایک سول نظرثانی درخواست پر مبنی تھا جس میں خواجہ جاوید محمود بطور درخواست گزار اور پنجاب اسمال انڈسٹریز کارپوریشن بطور فریقِ مخالف شامل تھے۔

مقدمے کا پس منظر

درخواست گزار نے ملکیت کے اعلان اور دائمی حکمِ امتناعی کے لیے دعویٰ دائر کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے یہ دعویٰ دو دستاویزات کی بنیاد پر مسترد کر دیا جو فریقِ مخالف نے پیش کیں، جبکہ یہ دستاویزات نہ تو درخواست گزار کو دکھائی گئیں اور نہ ہی ان پر جرح کا موقع دیا گیا۔ یہ دستاویزات محض وکیل کے بیان کے ذریعے ریکارڈ کا حصہ بنائی گئیں۔

بنیادی قانونی سوال

اہم سوال یہ تھا کہ آیا متنازع دستاویزات کو محض وکیل کے بیان کے ذریعے بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے، اور کیا ایسی دستاویزات پر مبنی فیصلے کو درست قانونی فیصلہ قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

شہادت سے متعلق قانونی اصول

ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ قانونِ شہادت 1984 کی دفعات 72 اور 78 کے تحت کسی بھی متنازع دستاویز کو بطور ثبوت پیش کرنے کے لیے اس کی باقاعدہ توثیق اور شہادت ضروری ہے۔ صرف وکیل کے بیان کے ذریعے دستاویز کو ثبوت بنانا قانوناً ناقابلِ قبول ہے کیونکہ اس طریقے سے مخالف فریق جرح کے حق سے محروم ہو جاتا ہے۔

جرح کے حق کی اہمیت

عدالت نے قرار دیا کہ جرح کا حق منصفانہ ٹرائل کا بنیادی جزو ہے۔ اگر کسی فریق کو دستاویز کی صداقت کو چیلنج کرنے کا موقع نہ دیا جائے تو ایسا ثبوت قانونی حیثیت نہیں رکھتا۔ اسی بنیاد پر ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو سنگین قانونی خامی قرار دیا گیا۔

شواہد کی غلط تشریح اور عدم مطالعہ

عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے شواہد کو نہ صرف غلط طور پر پڑھا بلکہ بعض اہم شواہد کو مکمل طور پر نظر انداز بھی کیا۔ اپیلیٹ کورٹ نے بھی اسی غلطی کو برقرار رکھتے ہوئے مادی بے قاعدگی کا ارتکاب کیا۔

نظرثانی اختیار کی حدود اور استعمال

ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ اگرچہ دفعہ 115 ضابطہ دیوانی کے تحت نظرثانی کا اختیار محدود ہے، تاہم یہ کوئی آہنی اصول نہیں کہ قانونی خامیوں کے باوجود عدالت مداخلت نہ کرے۔ جہاں ماتحت عدالتوں کے فیصلے قانونی نقائص سے بھرپور ہوں، وہاں ہائی کورٹ کا مداخلت کرنا نہ صرف جائز بلکہ فرض بن جاتا ہے۔

ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ماتحت دونوں عدالتوں کے فیصلے درست قانونی جانچ پر مبنی نہیں تھے، اس لیے انہیں کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً درخواست گزار کا دعویٰ منظور کر لیا گیا اور نظرثانی درخواست قبول کر لی گئی۔

قانونی اہمیت

یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ متنازع دستاویزات کو بغیر شہادت اور جرح کے محض وکیل کے بیان سے ثبوت نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ فیصلہ ٹرائل کورٹس کے لیے ایک واضح رہنمائی ہے کہ شواہد کی درست قانونی جانچ کے بغیر فیصلہ دینا عدالتی غلطی کے زمرے میں آتا ہے۔

متنازعہ دستاویزات کو وکیل کے بیان کے ذریعے بطور شہادت پیش کرنا غیر قانونی قرار دیا گیا کیونکہ اس عمل سے مخالف فریق کو ان دستاویزات پر جرح کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ یہ قانون شہادت کے اصولوں کے خلاف ہے۔


2. شواہد کی غلط تشریح:

نچلی عدالت نے درخواست گزار کے مقدمے کو ایسے دستاویزات کی بنیاد پر مسترد کیا جنہیں درخواست گزار کے سامنے پیش نہیں کیا گیا اور جن پر وہ جرح نہیں کر سکا۔ یہ شواہد کی غلط اور غیر مناسب تشریح تھی۔


3. نچلی عدالتوں کی غلطی:

ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ دونوں نے شواہد کا غلط جائزہ لیا اور اپنے فیصلوں میں مادی غلطیاں کیں۔


4. سی پی سی (سیکشن 115):

عدالت نظرثانی کے اختیارات کے تحت نچلی عدالتوں کے غلط فیصلوں کو کالعدم قرار دے سکتی ہے، خاص طور پر جب یہ فیصلے شواہد کے غیر مناسب جائزے پر مبنی ہوں۔


5. ہائی کورٹ کا کردار:

ہائی کورٹ نے نچلی عدالتوں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ درخواست گزار کے حق میں فیصل کر دیا اور قرار دیا کہ جب شواہد میں واضح خامیاں ہوں تو نظرثانی عدالت کو اپنا اختیار استعمال کرنا لازم ہے۔


6. قانونی اصول کی وضاحت:

متنازعہ دستاویزات کو قانونی طور پر پیش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مخالف فریق کو ان کی تصدیق یا جرح کرنے کا موقع دیا جائے۔ ایسا نہ کرنا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔



نتیجہ:


ہائی کورٹ نے نچلی دونوں عدالتوں کے فیصلوں کو غیر قانونی اور شواہد کی غلط تشریح پر مبنی قرار دیا اور مقدمہ درخواست گزار کے حق میں طے کر دیا۔


Must read judgement 


2024 C L C 1503

[Lahore (Rawalpindi Bench)]

Before Mirza Viqas Rauf, J

Khawaja JAVED MEHMOOD----Petitioner

Versus

PUNJAB SMALL INDUSTRIES CORPORATION through Regional Director Rawalpindi and 2 others----Respondents

Civil Revision No.233-D of 2022, heard on 21st March, 2024.

Qanun-e-Shahadat (10 of 1984)---

----Arts. 72 & 78---Civil Procedure Code (V of 1908), S. 115---Specific Relief Act (I of 1877), Ss. 42 & 54---Suit for declaration and injunction---Documentary evidence---Document tendered in evidence through statement of counsel---Legality---Misreading and non-reading of evidence---Effect---Suit filed by petitioner / plaintiff was dismissed by Trial Court on the basis of two documents produced by respondent / defendant which documents were never confronted to petitioner / plaintiff and the same were made part of record through statement of counsel---Validity---Disputed documents cannot be tendered in evidence through statement of counsel of the party producing the document---Reason for such restriction is that through such procedure opposing party becomes deprived to challenge authenticity of such document by way of cross-examination---Revisional jurisdiction is hedged in S.115, C.P.C. and though ordinarily concurrent findings of facts are not disturbed but such findings are neither sacrosanct nor it is an inflexible rule that despite observing material flaws, revisional court has to abdicate to exercise its jurisdiction---Judgments passed by two Courts below were not based on proper appraisal of evidence---Trial Court while dismissing suit of petitioner / plaintiff grossly misread the evidence---Lower Appellate Court while upholding judgment and decree of Trial Court committed material irregularity---High Court under S.115, C.P.C. was obliged and fully competent to correct such error in exercise of its revisional jurisdiction---Once it was established on record that concurrent findings were fraught with legal infirmities, it had become bounden duty of court exercising revisional powers to curb and stifle such illegalities and material irregularities---High Court set aside judgments and decrees passed by two Courts below and suit was decreed in favour of petitioner / plaintiff---Revision was allowed, in circumstances.

   Mst. Akhtar Sultana v. Major Retd. Muzaffar 
Khan Malik through his legal heirs and 
others PLD 2021 SC 715; Manzoor Hussain 
(deceased) through L.Rs. v. Misri Khan
 PLD 2020 SC 749; National Command Authority
 through D.G. SPD, Rawalpindi and others v.
 Zahoor Azam and others 2024 CLC 1;
 Khan Muhammad Yusuf Khan Khattak v. S. M. 
Ayub and 2 others PLD 1973 SC 160; 
Malik Muhammad Khaqan v. Trustees of 
the Port of Karachi (KPT) and another 2008
 SCMR 428 and Imam Din and 4 others v.
 Bashir Ahmed and 10 others PLD 2005
 SC 418 rel.  

   Muhammad Taimur Malik for Petitioner.  

   Waqar ul Haq Sheikh for 
Respondents Nos.1 and 2.


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 





































and

Post a Comment

Previous Post Next Post