Declaration vs specific performance
 |
| Declaration |
مقدمے کا تعارف
اس مقدمے میں درخواست گزار چکر بیجرانی اور دیگر نے عبدالرشید بیجرانی اور دیگر کے خلاف سول ریویژن درخواست نمبر S-33 آف 2023 دائر کی تھی، جو لاہور ہائی کورٹ (لارکانا بنچ) میں 18 جنوری 2024 کو سنا گیا۔ مقدمہ خاص طور پر زمین کے دعوے، قبضے اور انجنکشن سے متعلق تھا اور اس میں مخصوص معاہدے کی غیرعملدرآمدگی کو بطور دفاع پیش کیا گیا تھا۔
فریقین اور پس منظر
درخواست گزاران دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے جواب دہندگان سے متعلقہ زمین خریدی تھی۔ وہ عدالتوں کے فیصلے کے خلاف ریویژن کی درخواست لے کر آئے، جس میں انہیں لگتا تھا کہ عدالتیں ذاتی معاہدے کی موجودگی کے باوجود جواب دہندگان کے حق میں فیصلہ کر گئی ہیں۔ مقدمے کا پس منظر یہ تھا کہ درخواست گزاران زمین کے مشترکہ مالک تھے اور ان کا دعویٰ تھا کہ ان کا حصہ ایک تہائی ہے۔
مقدمے کی نوعیت
یہ مقدمہ اس بات پر مرکوز تھا کہ درخواست گزاران نے مخصوص کاروائی کی بنیاد پر زمین خریدی تھی، لیکن عدالتوں نے اس ذاتی معاہدے کو اہمیت نہ دیتے ہوئے زمین کے اصل مالک کے حق میں فیصلہ کیا۔ درخواست گزاران نے خصوصی کارکردگی کو بطور دفاع پیش کیا، لیکن کوئی کاؤنٹر کلیم یا زمین کے حق کو محفوظ کرنے کے لیے قانونی کارروائی نہیں کی۔
ٹرائل اور اپیل کورٹ کے فیصلے
ٹرائل کورٹ اور اپیل کورٹ دونوں نے درخواست گزاران کے موقف کو مسترد کیا۔ عدالتوں نے یہ پایا کہ درخواست گزاران کے پاس کوئی باقاعدہ رجسٹرڈ سیل ڈیڈ نہیں تھی اور ذاتی معاہدہ نہ ہی جواب دہندگان نے دستخط کیا تھا اور نہ ہی گواہوں نے اس کی تصدیق کی تھی۔ لہذا، عدالتوں نے جواب دہندگان کے حق میں زمین کے قبضے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
درخواست گزاران کے دلائل برائے ریویژن
درخواست گزاران نے عدالت کو بتایا کہ ذاتی معاہدہ دونوں فریقین کے رضامندی سے کیا گیا تھا اور اس بنیاد پر زمین کے قبضے میں ان کا حق ہے۔ انہوں نے استدلال کیا کہ عدالتوں نے اس معاہدے کو نظرانداز کیا، جو کہ عدالتی غلطی ہے۔ درخواست گزاران نے یہ بھی کہا کہ وہ زمین کے خریداری کے حقیقی مالک ہیں اور اس کی بنیاد پر فیصلہ ہونا چاہیے۔
ہائی کورٹ کا تجزیہ
ہائی کورٹ نے درخواست گزاران کے دلائل کا جائزہ لیا اور پایا کہ خصوصی کارکردگی کو بطور دفاع پیش کرنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے، خصوصاً جب درخواست گزاران مدعا علیہ کے طور پر مقدمہ میں شامل ہوں۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ درخواست گزاران نے نہ کاؤنٹر کلیم دائر کیا اور نہ ہی زمین کے حق کو محفوظ رکھنے کے لیے کوئی عملی اقدام کیا۔ اس کے علاوہ، ذاتی معاہدہ نہ تو جواب دہندگان نے دستخط کیا اور نہ ہی کوئی گواہ موجود تھا۔
قانونی اصولوں کا اطلاق
عدالت نے واضح کیا کہ کسی ذاتی معاہدے کا ہونا، جس پر عمل درآمد نہ ہوا ہو، مدعا علیہ کے دفاع کو مضبوط نہیں بنا سکتا، خصوصاً جب یہ دیر سے عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ عدالتی کارروائی میں کسی قسم کی جوریسڈکشنل غلطی یا غیر قانونی اقدام نہیں پایا گیا، اور نہ ہی ٹرائل یا اپیل کورٹ کے فیصلوں میں کوئی ایسا شق موجود تھی جو ہائی کورٹ کی مداخلت کی ضرورت کو ظاہر کرے۔
ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ
عدالت نے درخواست گزاران کی سول ریویژن درخواست مسترد کر دی۔ ہائی کورٹ نے ٹرائل اور اپیل کورٹ کے فیصلوں کو برقرار رکھا اور کہا کہ درخواست گزاران کا دفاع قانونی اور حقیقتاً کمزور تھا، اور عدالتوں کے فیصلے منطقی اور شواہد کی بنیاد پر درست تھے۔
اہم قانونی نکات
یہ فیصلہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ خصوصی معاہدے کو بطور دفاع پیش کرنا، خصوصاً دیر سے اور بغیر کاؤنٹر کلیم کے، عدالتوں میں کامیاب ہونا بہت مشکل ہے۔ عدالتوں کے فیصلے شواہد اور قانونی اصولوں کی بنیاد پر مستحکم رہے اور ہائی کورٹ نے مداخلت سے انکار کیا۔
Must read judgement
2024 C L C 1645
[Sindh (Larkana Bench)]
Before Jawad Akbar Sarwana, J
CHAKAR BIJARANI and 2 others---Applicants
Versus
ABDUL RASOOL BIJARANI and others---Respondents
Civil Revision Applications No.S-33 of 2023, decided on 18th January, 2024.
Specific Relief Act (I of 1877)---
----Ss.42 & 54---Civil Procedure Code (V of 1908), S.115---Suit for declaration, possession and injunction---Specific performance as defence---Scope---Lack of counter claim and preservation of rights---Effect---Non-execution of private agreement (Faisla)---Effect---Concurrent findings of trial and appellate courts---Scope---Joint owner of the suit land with 1/3 share---Petitioners claimed to have purchased suit land from the respondent---Contention of the petitioners was that courts below erred in law in giving decision in favour of the respondent in oblivion of the private agreement, which was made with the consent of the parties---Validity---Petitioners were pleading specific performance as a defence, which would always be an uphill task being implead as defendants---Petitioners had not raised a counter claim in the suit and did not take any other action to agitate and preserve their rights as purchasers, therefore, their defence always stood on thin ice, particularly at the belated stage of revision---Private agreement was not signed by the respondent and witnesses and suit land was not conveyed by a registered sale deed, therefore, it did not help the cause of the petitioners---No jurisdictional error or irregularity in the concurrent findings of facts recorded by the courts of competent jurisdiction or on the point of law had been identified in the judgments and decrees of the courts below that could justify interference by the Revisional Court under S.115, C.P.C---Civil Revision was dismissed accordingly.
Abdul Rehman Bhutto for Applicants Nos.1 to 3.
Nemo for Respondent No.1.
Nemo for Respondent No.2
For more information call us 0092-3244010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.