G-KZ4T1KYLW3 Order 37 after part payment.Partial Payment on Cheque and Section 56 of Negotiable Instruments Act: Jurisdiction under Order XXXVII, CPC

Order 37 after part payment.Partial Payment on Cheque and Section 56 of Negotiable Instruments Act: Jurisdiction under Order XXXVII, CPC

Part payment of cheque and Jurisdiction under Order XXXVII, CPC.

Order 37 suit  and part payment 

چیک کی جزوی ادائیگی اور دفعہ 56 نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ: أرڈر 37 سی پی سی کے تحت دائر دعویٰ کی اہلیت


تعارفِ فیصلہ

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن کا یہ فیصلہ، جو 2024 CLC 1643 میں رپورٹ ہوا، چیک کی بنیاد پر دائر کیے جانے والے Order XXXVII, CPC کے مقدمات میں جزوی ادائیگی (Part Payment) کے قانونی اثرات سے متعلق ایک نہایت اہم عدالتی نظیر ہے۔ اس فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر چیک کے ذریعے جزوی رقم وصول کی جائے تو بغیر قانونی توثیق (endorsement) کے نہ تو چیک دوبارہ پیش کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی خلاصہ دعویٰ (Summary Suit) قابلِ سماعت رہتا ہے۔

مقدمے کا پس منظر

یہ اپیل R.F.A. No.11759 of 2021 محمد افضل بمقابلہ بنیامین ساجد کے درمیان دائر کی گئی۔ اپیل کنندہ نے مختلف چیکس کے ذریعے جزوی رقوم وصول کیں، جو ایک ہی چیک بُک سے جاری ہوئے تھے۔ بعد ازاں اپیل کنندہ نے ایک چیک کو پوری رقم کے لیے بینک میں پیش کیا اور اسی بنیاد پر Order XXXVII, CPC کے تحت ریکوری کا دعویٰ دائر کر دیا۔

بنیادی قانونی سوال

اس مقدمے میں اصل سوال یہ تھا کہ آیا چیک کے ذریعے جزوی ادائیگی وصول کرنے کے بعد، بغیر Negotiable Instruments Act, 1881 کی دفعہ 56 کے تحت توثیق کیے، چیک کو مکمل رقم کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے اور آیا ایسے حالات میں Order XXXVII کے تحت خلاصہ دعویٰ قابلِ سماعت ہے یا نہیں۔

دفعہ 56، نیگوشی ایبل انسٹرومنٹس ایکٹ کی تشریح
لاہور ہائی کورٹ نے واضح طور پر قرار دیا کہ دفعہ 56 کے تحت اگر کسی قابلِ انتقال دستاویز (Negotiable Instrument) کے بدلے جزوی رقم ادا کر دی جائے تو لازم ہے کہ اس جزوی ادائیگی کی توثیق چیک پر درج کی جائے۔ اس کے بعد وہی چیک صرف بقیہ رقم کے لیے قابلِ استعمال رہتا ہے۔
عدالت کے مطابق اگر فریقین دفعہ 56 کے تحت مقررہ طریقہ کار اختیار کریں تو چیک کو صرف بقایا رقم کے لیے دوبارہ پیش کیا جا سکتا ہے، بصورتِ دیگر چیک اپنی قانونی حیثیت کھو دیتا ہے۔

اپیل کنندہ کی قانونی غلطی

عدالت نے مشاہدہ کیا کہ اپیل کنندہ نے جزوی ادائیگی وصول کرنے کے باوجود چیک پر کسی قسم کی توثیق نہیں کی اور اسے پوری رقم کے لیے بینک میں پیش کر دیا۔ یہ عمل نہ صرف Negotiable Instruments Act کی صریح خلاف ورزی تھا بلکہ اس کی بنیاد پر Order XXXVII, CPC کے تحت خلاصہ دعویٰ دائر کرنا بھی قانوناً ممکن نہیں تھا۔
Order XXXVII کے اطلاق پر اثر

لاہور ہائی کورٹ نے واضح کیاآرڈر سنتیس کے جاری تحت دعوی کب قابل سماعت ھوتا۔

 کہ  کے تحت دعویٰ صرف اسی صورت میں قابلِ سماعت ہوتا ہے جب دعویٰ ایک درست اور قابلِ نفاذ قابلِ انتقال دستاویز پر مبنی ہو۔ جب چیک جزوی ادائیگی کے بعد قانونی طور پر ناقابلِ استعمال ہو جائے تو خلاصہ دعویٰ دائر کرنے کا حق خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔

درست قانونی فورم کی نشاندہی

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ایسے حالات میں مدعی کے پاس واحد راستہ یہ تھا کہ وہ دیوانی عدالت (Court of Plenary Jurisdiction) میں بقایا رقم کی وصولی کے لیے باقاعدہ سول دعویٰ دائر کرتا، جہاں شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کیا جا سکتا۔

ٹرائل کورٹ کی قانونی ذمہ داری

لاہور ہائی کورٹ نے اس نکتے پر بھی زور دیا کہ ٹرائل کورٹ کو چاہیے تھا کہ وہ اس دعویٰ کو Order VII Rule 10, CPC کے تحت واپس کر دیتی تاکہ اسے مجاز عدالت میں پیش کیا جا سکے، خصوصاً اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ دعویٰ مدتِ معیاد کی پابندیوں سے بھی مشروط ہو سکتا ہے۔

حتمی فیصلہ

عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کی کارروائی کو غیر درست قرار دیا اور حکم دیا کہ دعویٰ Order VII Rule 10, CPC کے تحت واپس کیا جائے تاکہ اسے مناسب عدالت میں دائر کیا جا سکے۔ اس طرح Order XXXVII کے تحت دائر کردہ دعویٰ ناقابلِ سماعت قرار پایا۔

قانونی اہمیت اور اثرات

یہ فیصلہ چیک پر مبنی ریکوری مقدمات میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے یہ اصول مضبوط ہوا کہ جزوی ادائیگی کے بعد قانونی توثیق کے بغیر نہ چیک قابلِ نفاذ رہتا ہے اور نہ خلاصہ دعویٰ دائر کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ وکلاء، بینکاروں اور کاروباری حضرات کے لیے ایک واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ چیک کی بنیاد پر قانونی چارہ جوئی سے قبل دفعہ 56 کی مکمل پابندی ناگزیر ہے۔

یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے کیا، جو کہ 2024 CLC 1643 میں درج ہے۔ فیصلہ ایک اپیل (R.F.A. No. 11759 of 2021) کے تحت کیا گیا، جو "Muhammad Afzal" (اپیل کنندہ) اور "Binyameen Sajid" (مدعا علیہ) کے درمیان تنازع پر مبنی تھا

Order 37 suit and part payment

یہ فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے کیا، جو کہ 2024 CLC 1643 میں درج ہے۔ فیصلہ ایک اپیل (R.F.A. No. 11759 of 2021) کے تحت کیا گیا، جو "Muhammad Afzal" (اپیل کنندہ) اور "Binyameen Sajid" (مدعا علیہ) کے درمیان تنازع پر مبنی تھا۔

مقدمے کا خلاصہ

یہ مقدمہ "Negotiable Instruments Act, 1881" کی دفعہ 56 کے تحت تھا اور اس میں دیوانی ضابطہ (CPC) کی او.XXXVII کی دفعات پر بحث کی گئی۔ مقدمہ ایک ایسے چیک پر مبنی تھا جس سے جزوی ادائیگی کی گئی تھی۔ اپیل کنندہ نے چیک کو مکمل رقم کے لیے دوبارہ پیش کیا، بغیر جزوی ادائیگی کے لیے قانونی عمل (endorsement) اپنانے کے۔

اہم نکات:

  1. دفعہ 56، Negotiable Instruments Act, 1881:
    اس دفعہ کے مطابق، اگر کسی چیک کے ذریعے جزوی رقم وصول کی جاتی ہے تو اس کی توثیق (endorsement) ضروری ہے۔

چیک کو صرف بقیہ رقم کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ جزوی ادائیگی کا عمل مکمل طور پر قانون کے مطابق ہو۔

2. قانونی عمل کی خلاف ورزی:

اپیل کنندہ نے جزوی ادائیگی وصول کرنے کے باوجود چیک پر توثیق نہیں کی اور اسے مکمل رقم کے لیے بینک میں جمع کروا دیا۔
اس عمل کی بنا پر، اپیل کنندہ کو او.XXXVII کے تحت فوری طور پر دعویٰ دائر کرنے کا حق حاصل نہیں تھا۔

3. دعویٰ کا صحیح فورم

عدالت نے قرار دیا کہ اپیل کنندہ کو دیوانی عدالت میں مقدمہ دائر کرنا چاہیے تھا، جہاں وہ بقایا رقم کا دعویٰ کر سکتا تھا۔
ٹرائل کورٹ کو دعویٰ واپس کر دینا چاہیے تھا تاکہ اسے متعلقہ فورم پر دائر کیا جا سکے۔

4. نتیجہ

عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ ٹرائل کورٹ کی کارروائی درست نہیں تھی، اور دعویٰ او.VII ر.10، CPC کے تحت واپس کر دیا جائے۔
یہ فیصلہ چیک کے جزوی ادائیگی اور قانونی عمل کے حوالے سے ایک اہم نظیر فراہم کرتا ہے، خاص طور پر یہ بتانے کے لیے کہ کس طرح چیک کی توثیق کے بغیر قانونی چارہ جوئی محدود ہو سکتی ہے۔

Must read judgement 

2024 C L C 1643

[Lahore]

Before Shahid Bilal Hassan, J

MUHAMMAD AFZAL---Appellant

Versus

BINYAMEEN SAJID---Respondent

R.F.A. No.11759 of 2021, heard on 16th May, 2024.

Negotiable Instruments Act (XXVI of 1881)---

----S.56---Civil Procedure Code (V of 1908), O.XXXVII Rr.1, 2 & O.VII, R.10---Recovery suit on the basis of negotiable instrument---Part performance---Payments received by the appellant in pursuance of different cheques issued from the same cheque books---Non-adoption of procedure of endorsement on the cheque before presenting it---Effect---Section 56 of the Negotiable Instruments Act, 1881 ('Act, 1881'), specifically provides for an endorsement on a negotiable instrument with regards to part-payment and thereafter the instrument could be negotiated for the balance amount---If the drawer and the payee of the cheque adopt the procedure given in S.56 of the Act 1881, then it would be open to the payee of the cheque to present the cheque for payment of only the endorsed balance amount, due to him---Without adopting the procedure as provided in S.56 ibid, the cheque could not be presented for encashment and suit under O.XXXVII, Rr.1 & 2 of C.P.C. could not be filed, rather a suit for recovery of balance amount of cheque before a court of plenary jurisdiction has to be instituted---After receipt of part payment, appellant did not adopt the procedure as provided under S.56 of the Act, 1881, therefore, he was barred from presenting the cheque in question in the bank for its encashment and instituting suit under O.XXXVII, Rr.1 & 2 of C.P.C.---Proper forum in this regard was Court of plenary jurisdiction i.e. Civil Court for getting his grievance redressed---Trial Court should have returned the plaint under O.VII, R.10, C.P.C. for its presentation before the court of competent jurisdiction, obviously, keeping in view barricade of limitation---Appeal was allowed accordingly.

        Chaudhry Mohsin Iftikhar Gujjar for
 Appellant.  

        Mehboob Rasool Awan and Imran A. 
Mian for Respondent



or more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 





































and

Post a Comment

Previous Post Next Post