G-KZ4T1KYLW3 Amendment in civil suit

Amendment in civil suit

Amendment in civil suit.




مقدمے کا مرکزی قانونی سوالاس مقدمے میں بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا مدعی کو دعوے میں ترمیم کے ذریعے قبضے (possession) کا ریلیف شامل کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، حالانکہ یہ ریلیف ابتدائی دعوے میں شامل نہیں تھا، اور آیا ایسی ترمیم سے مقدمے کی نوعیت اور کردار تبدیل ہو جاتا ہے یا نہیں۔

مقدمے کا پس منظر

مدعا علیہ نے مخصوص ریلیف ایکٹ کی دفعات کے تحت دعویٰ دائر کیا تھا جس میں ملکیت یا حق کے تعین کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم ابتدا میں قبضے کا ریلیف شامل نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں، مبینہ بے دخلی (dispossession) کے بعد مدعا علیہ نے دعوے میں ترمیم کی درخواست دائر کی تاکہ قبضے کا ریلیف بھی شامل کیا جا سکے۔

پٹیشنر کے اعتراضات

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ دعوے میں قبضے کا ریلیف شامل کرنا مقدمے کی نوعیت اور اس کے بنیادی کردار کو بدل دے گا۔ مزید یہ کہ ترمیم کی درخواست تاخیر سے دائر کی گئی ہے اور اس سے حدِ میعاد اور قابلِ سماعت ہونے کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے، لہٰذا ایسی ترمیم قانوناً ناقابلِ قبول ہے۔

عدالت کا قانونی تجزیہ

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اگر قبضے کا ریلیف اعلانیہ دعوے (declaration) کا فطری اور لازمی نتیجہ ہو تو اس کا اضافہ کسی نئے مقدمے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر اعلانیہ دعویٰ کامیاب ہو جائے تو قبضے کا ریلیف بطور نتیجہ دیا جانا لازم ہو جاتا ہے، چاہے وہ ابتدائی دعوے میں شامل ہو یا نہ ہو۔

دعوے میں ترمیم کے قانونی اصول

عدالت نے سول پروسیجر کوڈ کے آرڈر ششم رول 17 کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ دعوے میں ترمیم کسی بھی مرحلے پر کی جا سکتی ہے، حتیٰ کہ اپیل یا نظرثانی کے مرحلے پر بھی، بشرطیکہ وہ ترمیم مقدمے کے مؤثر اور منصفانہ فیصلے کے لیے ضروری ہو۔ محض تاخیر ترمیم کو مسترد کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔

قبضے کے ریلیف کی نوعیت

عدالت کے مطابق قبضے کا ریلیف اس مقدمے میں ضمنی اور نتیجتی (consequential) نوعیت کا تھا اور یہ پہلے سے موجود حقائق سے ہم آہنگ تھا۔ اس لیے اسے مقدمے کی نوعیت یا بنیاد میں تبدیلی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مخالف فریق کے حقوق کا تحفظ

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسی ترمیم سے مخالف فریق کو کوئی ناقابلِ تلافی نقصان نہیں پہنچتا، کیونکہ ترمیم کی اجازت کے ساتھ عدالت فریق کو عدالت فیس ادا کرنے اور جواب داخل کرنے کا پورا موقع فراہم کرتی ہے۔

عدالتی فیصلہ

عدالت نے قرار دیا کہ ماتحت عدالت کا ترمیم کی اجازت دینے کا حکم قانون کے عین مطابق ہے اور اس میں کوئی قانونی سقم یا بے ضابطگی موجود نہیں۔ چنانچہ سول نظرثانی مسترد کر دی گئی۔

قانونی اہمیت

یہ فیصلہ اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ دعویٰ میں محض ریلیف کی نوعیت میں تبدیلی، جب وہی حقائق برقرار رہیں، مقدمے کے کردار کو تبدیل نہیں کرتی۔ نیز یہ فیصلہ وکلاء اور عدالتوں کے لیے دعوے میں ترمیم سے متعلق ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔


For Amendment in civil suit.


یہ ایک سول کیس ہے جو بنیادی طور پر دعوے میں ترمیم (amendment of pleadings) سے متعلق ہے۔ مدعا علیہ نے اپنے دعوے میں قبضے (possession) کا ریلیف شامل کرنے کے لیے عدالت سے درخواست کی تھی، جو ابتدائی دعوے میں شامل نہیں تھا۔ درخواست گزار (پٹیشنر) نے اعتراض کیا کہ دعوے میں ترمیم سے کیس کی نوعیت اور دعوے کا کردار بدل جائے گا اور ترمیم کی درخواست ناقابل قبول ہے۔

کہانی


1. پس منظر:

مدعا علیہ نے ایک مقدمہ دائر کیا تھا جس میں کچھ جائیداد یا ملکیت سے متعلق ریلیف مانگا تھا (شاید ملکیت یا حقوق کی تصدیق کے لیے)۔ تاہم، مدعا علیہ نے ابتدا میں قبضے کا ریلیف (possession of property) طلب نہیں کیا تھا۔


2. نئی درخواست:

بعد میں، مدعا علیہ نے دعوے میں ترمیم کرنے کی درخواست دی تاکہ وہ قبضے کا ریلیف بھی شامل کر سکے۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر دعویٰ کامیاب ہو تو قبضے کا ریلیف منطقی نتیجہ ہوگا، اور عدالت کو یہ ریلیف دینا ہوگا چاہے یہ دعوے میں شامل ہو یا نہ ہو۔


3. پٹیشنر کا اعتراض:

درخواست گزار (پٹیشنر) نے اعتراض کیا کہ
دعوے میں ترمیم کیس کی نوعیت اور کردار بدل دے گی
ترمیم کے لیے بہت دیر ہو چکی ہے (یعنی یہ درخواست تاخیر سے دائر کی گئی)
اس سے ان کے حقوق پر اثر پڑے گ


4. عدالت کا فیصلہ:

عدالت نے یہ کہتے ہوئے اعتراض مسترد کر دیا کہ
قبضے کے ریلیف کا دعویٰ شامل کرنا کیس کے بنیادی حقائق یا نوعیت کو نہیں بدلتا
ترمیم کسی بھی مرحلے پر ہو سکتی ہے، حتیٰ کہ اپیل یا نظرثانی کے دوران بھی، اگر یہ کیس کے مؤثر فیصلے کے لیے ضروری ہو
اگر دعویٰ میں کامیابی ہوتی ہے تو قبضہ فطری طور پر دیا جائے گا، چاہے یہ شروع میں دعوے کا حصہ نہ ہو
عدالت نے درخواست گزار کو کوئی غیر قانونی پہلو ظاہر کرنے میں ناکام قرار دیتے ہوئے نظرثانی مسترد کر دی۔

خلاصہ

یہ کیس دعوے میں ترمیم کی اجازت، قبضے کے ریلیف کے اضافے، اور تاخیر کے باوجود عدالت کے اختیار سے متعلق ایک اہم اصول کی وضاحت کرتا ہے
2024 C L C 1735

Must read judgement 


[Lahore]

Before Muhammad Sajid Mehmood Sethi, J

IFTIKHAR AHMAD----Petitioner

Versus

MUHAMMAD ANWAR and others----Respondents

Civil Revision No.20763 of 2024, heard on 30th May, 2024.

Civil Procedure Code (V of 1908)---

----S.115 & O.VI, R.17---Specific Relief Act (I of 1877), Ss. 42 & 54---Powers of the courts to amend the pleadings qua possession at any stage---Scope---Amendments in the pleadings where possession was to be granted only as a consequential relief without altering the core facts or basis of original pleadings---Permissibility---Contention of the petitioner was that since consequential relief by way of possession had not been claimed by the respondent in his plaint, therefore, any amendment to that effect would change the nature and character of the suits and he also raised objections as to maintainability and limitation for filing the application for amendment---Validity---Addition of relief of possession in view of alleged development could not be termed as setting up of a new case---Factum of dispossession gelled well with other facts contained in the plaints and by no stretch of imagination it could be considered a change in the nature and complexion of the suit for the reason that natural result of declaration if successful would be that consequential relief had to be given by the court even if same was not claimed, and the Court in such circumstances was bound to call upon the party to amend the plaint to the extent of possession and direct him to pay the court-fee---Application under O.VI, R.17, C.P.C., can be entertained and allowed at any stage of the proceedings if the same is necessary for effective decision thereof---Amendment can be allowed while ignoring delay whatsoever, even at any stage of proceedings in the trial, and in certain cases amendments can be permitted at the stage of appeal or even in revisional jurisdiction---Keeping in view the beneficial rule, the proposed amendment was expedient for the purpose of determining the real questions involved in controversy between the parties and it did not change the nature of pleadings---Alteration in the relief does not ordinarily change the character or substance of the suit, if it is based on the same averments, and if such an amendment is allowed, no injustice can be done to the other party---Amendments to pleadings are permissible at any juncture of the legal proceedings, provided they serve to crystallize the substantive issues at hand without transmuting the fundamental character of the original pleadings---Petitioner had failed to point out any illegality in the impugned order---Revision was dismissed, in circumstances.

Mian Haseeb ul Hassan for Applicant.  

   Nemo for Respondent.  

   Muhammad Saad Bin Ghazi and Chaudhry Faza Ullah, Assistant Advocates General on Court's call.


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 





































and

Post a Comment

Previous Post Next Post