Adducing Additional Evidence at Appellate Stage and Cheque Recovery Claims — Key Principles from 2024 CLC 1727
![]() |
| Additional evidence application |
Must read Judgement
2024 C L C 1727
لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ
(Abdul Majid through General Attorney v. Anjum Akhtar)
جامع آرٹیکل / تجزیہ (اردو میں)
یہ فیصلہ دو اہم قانونی نکات پر مبنی ہے:
1️⃣ اپیل میں اضافی شواہد (Additional Evidence) پیش کرنے کا معیار اور حدود
2️⃣ چیک کی بنیاد پر Recovery Suit میں شواہد کا معیار، نمائندہ (Attorney) کا بیان، اور Fingerprint Expert کی اہمیت
لاہور ہائیکورٹ نے ان دونوں نکات کا تفصیلی جائزہ لے کر اپیل خارج کر دی۔
---
⭐ مقدمہ کا پس منظر
عبدال مجید نے ایک چیک کی بنیاد پر Order 37 CPC کے تحت ریکوری کا دعویٰ کیا۔
ٹرائل کورٹ نے دعویٰ مسترد کر دیا۔
اپیل میں Appellant نے کوشش کی کہ وہ نئے شواہد (documents) اضافی طور پر پیش کرے۔
ہائیکورٹ نے اس عمل کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ برقرار رکھا۔
---
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
⭐ حصہ اول: اپیل میں اضافی شواہد — اصول و معیار
( Order XLI Rule 27 & Order VII Rule 14 CPC )
عدالت نے واضح کیا کہ:
🔹 1. اپیل میں Additional Evidence صرف مخصوص حالات میں قبول ہوتی ہے
اپیل میں اضافی شواہد دینے کے لیے ضروری ہے کہ:
✔ شواہد ٹرائل کورٹ میں بوقتِ ضرورت موجود نہ ہوں
✔ یا یہ کہ شواہد کسی معقول وجہ (plausible reason) کے باعث پیش نہ کیے جا سکے
✔ یا عدالت کو خود کسی ایشو کے حل کے لیے ضروری لگے
❌ محض اپنے کیس کو بہتر کرنے کے لیے اضافی ثبوت نہیں دیے جا سکتے۔
---
🔹 2. O.VII Rule 14 CPC کا صریح تقاضا
جو دستاویزات مقدمہ کا حصہ بنانے ہیں:
> “Plaint فائل کرتے وقت ہی جمع کروائی جائیں۔”
چونکہ اپیل کنندہ نے یہ دستاویزات پہلے دن نہیں دی تھیں نہ ہی کوئی وجہ بتائی، اس لیے اپیل میں انہیں پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تھی۔
---
🔹 3. اپیل میں کمزور کیس کو مضبوط کرنا قانوناً ممنوع
عدالت نے اصول واضح کیا:
> “جو فریق ٹرائل کورٹ میں ثبوت پیش نہیں کرتا، اسے اپیل میں اپنی کمزوری چھپانے یا کیس بہتر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔”
یہ “filling up lacuna” تصور ہوتا ہے، جو قانون منع کرتا ہے۔
🔻 نتیجہ:
اضافی شواہد کی درخواست مسترد — اپیل خارج
---
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
⭐ حصہ دوم: چیک کی بنیاد پر Recovery Suit — شہادت کا معیار
( Order XXXVII CPC + Qanun-e-Shahadat Articles 59 & 84 )
🔹 1. چیک کے پیچھے اصل مقصد (consideration) ثابت نہیں کیا گیا
چیک صرف ایک “Instrument” ہے۔
یہ ثابت کرنا لازمی ہے کہ:
✔ یہ چیک کیوں دیا گیا؟
✔ کس مقصد کے لیے رقم واجب الادا تھی؟
✔ واقعی کوئی لین دین ہوا تھا؟
Appellant یہ بنیادی پہلو ثابت نہ کر سکا۔
---
🔹 2. General Attorney کا بیان — اپنے ہی مؤقف کے خلاف
یہ ایک اہم نکتہ ہے:
Appellant عدالت میں پیش نہیں ہوا، بلکہ اس کا General Attorney آیا۔
Attorney نے ایسا بیان دیا جو خود Appellant کے دعوے کے خلاف تھا۔
قانونی اصول:
> Attorney کے بیان کی حد وہی ہے جو اسے Principal نے بتائی ہو، مگر اگر وہ مرکزی دعویٰ کی تردید کرے تو دعویٰ کمزور ہو جاتا ہے۔
اس سے پورا کیس کمزور ہوا۔
---
🔹 3. آزاد گواہ (Independent Witness) کی عدم موجودگی
کوئی بھی ایسا گواہ پیش نہیں کیا گیا جو:
✔ لین دین کا گواہ ہو
✔ یا چیک کے اجرا کے پس منظر کو جانتا ہو
یوں چیک کی بنیاد مزید مشکوک بن گئی۔
---
🔹 4. Fingerprint Expert رپورٹ کی حیثیت
عدالت نے کہا:
> “صرف Fingerprint Expert کی رپورٹ پر حقوق کا تعین نہیں ہو سکتا، مگر اگر دیگر شہادت کمزور ہو تو اس رپورٹ کو weightage دی جا سکتی ہے۔”
یہ رپورٹ corroborative evidence کے طور پر قابلِ قبول ہے، خاص طور پر جب دعویٰ پہلے ہی ناقص ہو۔
---
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
⭐ حصہ سوم: اصولِ انصاف
(Administration of Justice)
عدالت نے ایک بنیادی اصول دہرایا:
> “ہر فریق نے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوتا ہے۔ مخالف کی کمزوریاں آپ کو فائدہ نہیں دیتیں۔”
یعنی:
اگر آپ اپنی شہادت مکمل دینے میں ناکام رہے ہیں تو آپ کو دوسرے کی غلطی سے فائدہ نہیں ملتا۔
---
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
⭐ فیصلہ (Outcome)
Additional Evidence مسترد
Appellant کا دعویٰ ناقص اور کمزور
Consideration ثابت نہیں ہوئی
Attorney کا بیان دعویٰ کے خلاف
آزاد شہادت ندارد
Expert رپورٹ کے باوجود دعویٰ مشکوک
🔻 لہٰذا: اپیل خارج
Popular articles
Tags
Additional evidence
