Land accusations |Process Error Appeal Rejected The Supreme Court declared in the request for increase in the compensation of land acquired by the government in the direct district court that the request for increase is given to the collector and the collector makes a reference and sends it to the district court. The appeal is rejected. 2024 S C M R 481
![]() |
| 2024 S C M R 481 |
زمین کے معاوضے میں اضافہ کیلئے براہِ راست عدالت سے رجوع کیوں غیرقانونی ہے؟
(تفصیلی اردو آرٹیکل)
---
🔷 تعارف
زمین کے حصول (Land Acquisition) کے مقدمات میں اکثر زمین مالکان یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہیں معاوضہ کم ملا ہے تو وہ سیدھا ڈسٹرکٹ جج یا سول کورٹ میں درخواست دائر کرکے معاوضہ بڑھوا سکتے ہیں۔
لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2024 SCMR 481 میں اس غلط فہمی کو مکمل طور پر دور کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ زمین کے حصول کے قانون (Land Acquisition Act 1894) کی دفعات 18 تا 21 کی وضاحت کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ عدالت کی اختیارِ سماعت (jurisdiction) کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں تک محدود رہتا ہے۔
---
🔷 کیس کا پس منظر
گل زمان (زمین مالک) نے اپنی زمین کے بدلے جزوی معاوضہ وصول کیا۔
مگر وہ معاوضے سے مطمئن نہ تھا، اس لیے اس نے سیکشن 18 کے تحت براہِ راست ڈسٹرکٹ جج کے سامنے درخواست دائر کر دی کہ مجھے زیادہ معاوضہ دیا جائے۔
ڈسٹرکٹ جج نے اسے ایک سول مقدمہ سمجھ کر رجسٹر کر لیا اور کارروائی شروع کر دی۔
سوال یہ بنا:
❗کیا زمین مالک براہ راست ڈسٹرکٹ جج کے پاس جا سکتا ہے؟
سپریم کورٹ کا جواب: نہیں! ہرگز نہیں۔
---
🔷 سپریم کورٹ کا اصولی فیصلہ
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ:
➡ زمین کے معاوضے پر اعتراضات کا فیصلہ صرف اسی وقت عدالت کر سکتی ہے جب لینڈ ایکوزیشن کلکٹر (Collector) اس معاملے کو باقاعدہ ریفرنس کے طور پر عدالت بھیجے۔
یعنی:
عدالت کا اختیار کلکٹر کے ریفرنس سے شروع ہوتا ہے
زمین مالک براہ راست عدالت نہیں جا سکتا
کلکٹر کو ریفرنس بھیجنے سے پہلے چار لازمی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں
---
🔷 سیکشن 18 کے تحت کلکٹر کو ریفرنس بھیجنے سے پہلے چار لازمی شرائط
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ کلکٹر کے پاس ریفرنس بھیجنے کا اختیار خودکار نہیں ہے۔ اس کے لیے زمین مالک کو لازماً:
(1) کلکٹر کو تحریری درخواست دینا
زبانی درخواست، یا سیدھی عدالت میں درخواست، دونوں ناقابلِ قبول ہیں۔
(2) درخواست دینے والا متعلقہ زمین میں دلچسپی رکھنے والا شخص ہو
اور وہ کلکٹر کے دیے گئے معاوضے کو قبول نہ کرتا ہو۔
(3) اعتراضات کی بنیاد واضح طور پر درج ہوں
جیسے:
زمین کی پیمائش
معاوضے کی مقدار
معاوضہ کس کو ملے گا
تقسیم کیسے ہو گی
(4) یہ درخواست قانون میں دی گئی مدت کے اندر اندر دی جائے
یہ شرائط بنیادی (jurisdictional facts) ہیں۔
ان کے بغیر کلکٹر ریفرنس نہیں بھیج سکتا، اور عدالت کیس نہیں سن سکتی۔
---
🔷 عدالت کا اختیار کہاں سے شروع ہوتا ہے؟
سپریم کورٹ کے مطابق:
عدالت کا اختیار صرف کلکٹر کے بھیجے گئے ریفرنس سے پیدا ہوتا ہے۔
اس سے پہلے عدالت کا کوئی کردار نہیں۔
لہٰذا:
ڈسٹرکٹ جج نے جو براہِ راست درخواست سنی
اسے دوسرے مقدمے کی طرح ٹرائل کیا
اس کی ساری کارروائی باطل (void ab initio) قرار پائی
---
🔷 سپریم کورٹ کی سخت آبزرویشن
عدالت نے کہا:
> “سیکشن 18 کسی بھی شخص کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ براہ راست عدالت میں درخواست دے۔”
“ڈسٹرکٹ جج کو اس قسم کی درخواست سننے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔”
عدلیہ نے یہ بھی کہا کہ:
> “قانون کا مقصد تنازعات ختم کرنا ہے، نہ کہ انھیں بڑھانے کے طریقے ایجاد کرنا۔”
---
🔷 حوالہ جات (Precedents)
سپریم کورٹ نے درج ذیل فیصلوں کا حوالہ دیا:
AIR 2003 SC 2302
AIR 2007 SC 215
2019 MLD 968
PLD 1971 SC 124
یہ سب فیصلے اس اصول کو تقویت دیتے ہیں کہ براہ راست عدالت سے رجوع ممنوع ہے۔
---
🔷 فیصلہ
سپریم کورٹ نے واضح کیا:
براہ راست عدالت جانا غیر قانونی ہے
ڈسٹرکٹ جج کی کارروائی صفر درجہ سے باطل
اپیل خارج
---
🔷 نتیجہ — زمین مالکان کیلئے اہم پیغام
اگر کسی زمین مالک کو:
معاوضہ کم ملا ہے
پیمائش غلط ہوئی ہے
تقسیم غلط ہے
تو:
✔ وہ کلکٹر کو سیکشن 18 کے تحت تحریری درخواست دے
❌ براہِ راست عدالت میں نہیں جا سکتا
ورنہ پوری کارروائی غیرقانونی قرار دی جائے گی۔
یہ کیس ایک زمین کے مالک گل زمان سے متعلق تھا جس نے اپنی زمین کے معاوضے میں اضافے کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔ گل زمان نے زمین ایکوزیشن کلکٹر کے فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں براہ راست درخواست دائر کی، جس میں اس نے معاوضے میں اضافے کی استدعا کی۔
قانون کے مطابق زمین کے مالک کو اگر معاوضے پر اعتراض ہو تو اسے سب سے پہلے لینڈ ایکوزیشن کلکٹر کے پاس تحریری درخواست دینی ہوتی ہے۔ کلکٹر یہ درخواست وصول کرنے کے بعد خود عدالت میں معاملہ بھیجتا ہے، جسے حوالہ (Reference) کہا جاتا ہے۔ جب تک کلکٹر یہ حوالہ عدالت کو نہ بھیجے، عدالت کو اس پر فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔
گل زمان نے براہ راست عدالت سے رجوع کیا تھا، جو کہ قانون کے مطابق نہیں تھا، اس لیے سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ڈسٹرکٹ جج کے پاس اس درخواست کو سننے کا اختیار نہیں تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ براہ راست درخواست دائر کرنا غیر قانونی ہے، اور ڈسٹرکٹ جج کی کارروائی کو غیر مؤثر قرار دے کر درخواست کو مسترد کر دیا۔
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.
Popular articles
