Tenant’s Ejection Despite Claim of Ownership — Supreme Court Upholds Rent Controller’s Order.
![]() |
| 2024 S C M R 452 |
کرایہ دار کی ملکیت کے دعوے کے باوجود بے دخلی — سپریم کورٹ نے رینٹ کنٹرولر کا حکم برقرار رکھا
مقدمے کا پس منظر
اس مقدمہ میں ناصر خان، کرایہ دار، نے اپنی کرایہ کی جائیداد پر ملکیت کے دعوے کے لیے عدالت میں سُوٹ برائے اعلان ملکیت دائر کی۔ اس کے خلاف، نادیہ علی بٹ اور دیگر نے ایجیکٹمنٹ پیٹیشن دائر کی تاکہ کرایہ دار کو جائیداد سے بے دخل کیا جا سکے۔
کرایہ دار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ جائیداد کا مالک ہے اور اس لیے کرایہ داری ختم نہیں کی جا سکتی۔ تاہم حقیقت یہ تھی کہ عدالت نے پہلے ہی جائیداد کی قانونی وراثت نادیہ علی بٹ اور دیگر کو مرحوم مالک کے وارث قرار دے دی تھی۔ بعد میں کرایہ دار نے صرف اپنے دعوے کے ذریعے سُوٹ برائے مخصوص کارکردگی دائر کیا، جو ایجیکٹمنٹ پیٹیشن کے بعد آیا۔
عدالتِ عالیہ کا موقف
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ کرایہ دار صرف یہ دعویٰ کرنے کی بنیاد پر کہ وہ مالک ہے، اپنی کرایہ داری کو طول نہیں دے سکتا۔ کرایہ دار صرف کرایہ دار ہی رہتا ہے، اور جائیداد پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے اسے عدالتی حکم کی ضرورت ہوتی ہے۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ کرایہ دار نے کرایہ ٹریبونل میں جان بوجھ کر غیر حاضر رہ کر مقدمے میں تاخیر پیدا کی۔ نوٹس اور عوامی اطلاع دی جانے کے باوجود کرایہ دار نے پیش نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ نے اس غیر حاضری کو اس کے مقصدِ تاخیر اور کرایہ داری برقرار رکھنے کی نیت کے طور پر دیکھا۔
نتیجتاً، رینٹ کنٹرولر نے ایجیکٹمنٹ پیٹیشن کو بجا قرار دیتے ہوئے کرایہ دار کو حکم دیا کہ وہ پر امن اور خالی قبضہ جائیداد کے قانونی وارث کو منتقل کرے۔ سپریم کورٹ نے کرایہ دار کی اپیل مسترد کر دی اور leave to appeal بھی منظور نہیں کی۔
قانونی سبق اور اہم نکات
یہ کیس واضح کرتا ہے کہ کرایہ دار اپنی کرایہ داری کو صرف دعوے یا ملکیت کے دعوے سے طول نہیں دے سکتا۔ قانونی طور پر کرایہ دار صرف کرایہ دار ہی رہتا ہے، جب تک کہ عدالت کسی حکم کے ذریعے اسے مالک کے طور پر تسلیم نہ کرے۔ اگر کرایہ دار جان بوجھ کر مقدمے میں غیر حاضر رہے اور ایجیکٹمنٹ کو ٹالنے کی کوشش کرے، تو عدالت ایجیکٹمنٹ کو درست قرار دے کر کرایہ دار کو بے دخل کر سکتی ہے۔
یہ فیصلہ خاص طور پر ان معاملات کے لیے اہم ہے جہاں کرایہ دار اپنی کرایہ داری کو مالک بننے کے دعوے کے ذریعے طوالت دینے کی کوشش کرتا ہے۔
اس فیصلے کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
1. اسلام آباد کرایہ داری آرڈیننس (2001) کے تحت ایجیکٹمنٹ درخواست:
درخواست گزار (مستاجیر) کے خلاف کرایہ داری کیس میں فیصلہ کرتے ہوئے عدالت نے یہ قرار دیا کہ اگر کرایہ دار صرف یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جائیداد کا مالک ہے اور اس نے اس سلسلے میں درخواست دائر کی ہے، تو وہ کرایہ داری کے قانونی تعلق کو مسترد نہیں کر سکتا جب تک کہ عدالت اس کی ملکیت کا فیصلہ نہ کرے۔ اس معاملے میں، کرایہ دار کی ملکیت کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کرایہ داری کے حوالے سے درخواست گزار (مالکن) کے حق میں فیصلہ کیا گیا۔
2. ایکس پارٹ فیصلے:
جب کرایہ دار نے بار بار عدالت میں پیش ہونے سے انکار کیا اور جان بوجھ کر کارروائی میں تاخیر کی، تو عدالت نے اس کے خلاف ایکس پارٹ کارروائی کی اجازت دی۔ اس کے باوجود کہ کرایہ دار کو متعدد طریقوں سے سمن جاری کیے گئے، وہ ان کارروائیوں میں شریک نہیں ہوا۔ اس بنیاد پر عدالت نے ایکس پارٹ فیصلہ کیا اور کرایہ دار کو جائیداد خالی کرنے کا حکم دیا۔
3. دیر سے درخواست:
کرایہ دار کی جانب سے تاخیر سے درخواست دائر کی گئی اور اس نے کسی معقول وجہ کے بغیر اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ کیوں وہ کرایہ داری مقدمہ میں شامل نہیں ہوا۔ اس طرح کی تاخیر اور غیر حاضری عدالت کی جانب سے اس کے خلاف فیصلہ سنانے کا جواز فراہم کرتی ہے۔
فیصلہ یہ تھا کہ کرایہ دار کو جائیداد سے نکالنے کی درخواست درست تھی اور اس کے خلاف درخواست کے بارے میں اپیل مسترد کر دی گئی۔
Tags
rent controler
