Fake Mark Sheet & MBBS Admission Cancellation – Supreme Court of Pakistan (2024 SCMR 443)
![]() |
| 2024 S C M R 443 |
ایم بی بی ایس میں داخلہ بذریعہ جعلی مارک شیٹ۔
کیس کا تعارف
LUMHS جامشورو بمقابلہ محمد احسن شکیل
سپریم کورٹ نے میڈیکل یونیورسٹی میں جعلی و بوگس مارک شیٹ کی بنیاد پر حاصل کی گئی MBBS داخلہ کی منسوخی کو مکمل طور پر درست اور قانونی قرار دیا۔
⚖️ بنیادی قانونی سوال
کیا عدالتیں یونیورسٹیوں کے اندرونی تعلیمی و تادیبی معاملات میں مداخلت کر سکتی ہیں، خاص طور پر جب داخلہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر لیا گیا ہو؟
🔑 اہم نکات (ہر نکتہ الگ اور واضح)
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ تعلیمی اداروں، خصوصاً میڈیکل یونیورسٹیوں میں سخت نظم و ضبط ناگزیر ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جعلی یا من گھڑت دستاویزات پیش کرنا سنگین بددیانتی اور فراڈ ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ میڈیکل ادارے صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ قوم کی صحت کے امین ہیں۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یونیورسٹیوں کو نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے آزاد اختیار دیا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جب تک یونیورسٹی کی پالیسی قانون یا بنیادی حقوق کے خلاف نہ ہو، عدالتی مداخلت مناسب نہیں۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ متعلقہ بورڈ نے دو مرتبہ مارک شیٹ کو جعلی اور بوگس قرار دیا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ طالب علم نے داخلے کے وقت حلف نامہ دیا تھا کہ تمام دستاویزات درست ہیں۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ جعلی مارک شیٹ ثابت ہونے پر داخلہ منسوخ کرنا مکمل طور پر جائز تھا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ فراڈ کے ذریعے حاصل کردہ فائدہ کو تحفظ دینا انصاف کے منافی ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ عدالتیں کبھی بھی ناپاک ہاتھوں (unclean hands) والے شخص کو ریلیف نہیں دیتیں۔
🧠 قانونی اصول (Rule of Law)
Fraud vitiates everything — فراڈ ہر قانونی تحفظ کو ختم کر دیتا ہے۔
Equity
صرف اسی کو ملتی ہے جو صاف نیت اور صاف ہاتھوں کے ساتھ عدالت آئے۔
تعلیمی اداروں کی خودمختاری عدالتی نظام کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔
📚 نظائر (Case Law References)
PLD 2022 SC 92 (Khyber Medical University Case)
2023 SCMR 2145 (PMDC Case)
PLD 2010 SC 483 (Equity & Unclean Hands Principle)
🧾 مختصر کہانی (چند سطروں میں)
طالب علم نے جعلی مارک شیٹ کی بنیاد پر MBBS میں داخلہ لیا۔
یونیورسٹی نے تصدیق کے بعد مارک شیٹ کو جعلی پایا اور داخلہ منسوخ کر دیا۔
ہائی کورٹ نے مداخلت کی، مگر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ
فراڈ پر مبنی داخلہ کسی صورت تحفظ کے قابل نہیں۔
🏁 نتیجہ
یہ فیصلہ واضح پیغام ہے کہ
میڈیکل تعلیم میں جعلسازی، بددیانتی اور دھوکہ دہی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی
اور عدالتیں ایسے غیر قانونی فائدے کو تحفظ فراہم نہیں کریں گی۔
اس کیس کی کہانی کچھ یوں تھی:
محمد احسن شکیل (طالب علم) نے لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (LUMHS) جامشورو میں ایم بی بی ایس کے پروگرام میں داخلے کے لیے درخواست دی۔ درخواست کے ساتھ اس نے جو مارک شیٹ فراہم کی تھی، وہ جعلی اور جعل سازی کی ہوئی تھی۔ یونیورسٹی نے اس مارک شیٹ کی تصدیق کے لیے متعلقہ بورڈ کو دو مرتبہ بھیجا، اور ہر بار وہ جعلی قرار پائی۔
یونیورسٹی نے داخلہ کے وقت ایک حلف نامہ بھی طلب کیا تھا جس میں طالب علم نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اس کے تمام دستاویزات صحیح اور درست ہیں، اور اگر کوئی دستاویز جھوٹی ثابت ہوئی تو اس کا داخلہ منسوخ کر دیا جائے گا۔ چونکہ مارک شیٹ جعلی نکلی، اس لیے یونیورسٹی نے اس کا داخلہ منسوخ کر دیا۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ تعلیمی اداروں کے پاس اپنے اندرونی ضوابط اور انضباطی کارروائی کرنے کا حق ہوتا ہے، اور اگر کسی طالب علم نے جعلی دستاویزات فراہم کی ہیں، تو عدالتیں اس میں مداخلت نہیں کر سکتیں۔ عدالت نے یونیورسٹی کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس اپیل کو منظور کر لیا اور داخلہ منسوخ کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
Must read judgement
2024 S C M R 443
