Deposit of One-Third Sale Price in Pre-emption Suits under Punjab Pre-emption Act.
![]() |
| 2024 S C M R 1369 |
پنجاب پری ایمپشن ایکٹ کے تحت ملکیت کی دعوے میں رقم جمع کرنے کے قواعد
تعارف
یہ کیس محمد ارشد بمقابلہ بشیر احمد اور دیگر میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے سے متعلق ہے۔ مقدمہ پنجاب پری ایمپشن ایکٹ، 1991 کے تحت دائر کیا گیا جس میں مدعی/پری-ایمپٹر نے کسی پراپرٹی کے حصول کے لیے دعویٰ کیا۔
رقم جمع کرنے کی شرط اور وقت کی حد
سیکشن 24 کے تحت مدعی کو پراپرٹی کی فروخت کی رقم کا ایک تہائی حصہ عدالت میں جمع کروانا ضروری ہے۔ اس رقم کو جمع کرنے کے لیے مدت تیس دن مقرر کی گئی ہے، جو دعویٰ دائر کرنے کی تاریخ سے شروع ہوتی ہے۔
عدالتی حوالہ جات اور قانونی اصول
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ اصول واضح کیا کہ پری-ایمپٹر کو مقررہ مدت میں رقم جمع کرنی لازمی ہے۔ اس سلسلے میں سابقہ مقدمات جیسے ملک طارق محمود بمقابلہ غلام احمد، حسن نین نواز خان بمقابلہ غلام اکبر، اور حافظ محمد رمزان بمقابلہ محمد بخش کے فیصلے بھی حوالہ دیے گئے تاکہ عدالتی رُویے کی وضاحت کی جا سکے۔
نتیجہ
عدالت نے اس اصول کی روشنی میں فیصلہ دیا کہ پری-ایمپٹر کو مقررہ مدت میں رقم جمع کرنی ہوگی تاکہ اس کا دعویٰ جائز تسلیم کیا جا سکے۔ اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ قانونی مدت کی پابندی اور رقم کی بروقت جمع کاری دعویٰ کی صحت کے لیے لازمی ہے۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا،
جس میں کہا گیا تھا کہ مدعی (محمد ارشد مرحوم کے قانونی ورثاء) نے حقِ شفعہ کے قانون کے مطابق جائیداد کی قیمت کا 1/3 حصہ مقررہ مدت میں جمع نہیں کروایا تھا، جس کی وجہ سے ان کا حق شفعہ ختم ہوگیا۔
سپریم کورٹ نے اس بات کی وضاحت کی
کہ پنجاب حق شفعہ ایکٹ 1991 کی دفعہ 24 کے تحت، مدعی کو جائیداد کے دعویٰ دائر کرنے کے دن سے 30 دن کے اندر جائیداد کی قیمت کا ایک تہائی حصہ عدالت میں جمع کرانا لازمی ہے۔ اس شرط کی عدم تکمیل کی صورت میں دعویٰ خود بخود ختم ہو جاتا ہے، چاہے مدعی کی نیت یا حالات کچھ بھی ہوں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اس قانونی نکتے کو واضح کیا کہ قانون کی مقررہ شرائط اور وقت کی پابندی لازم ہے، اور کسی بھی تاخیر یا کوتاہی کا نتیجہ حق شفعہ کی منسوخی کی صورت میں نکلتا ہے۔
یہ مقدمہ "حقِ شفعہ" (Pre-emption) کے قانون کے تحت جائیداد کے قبضے سے متعلق ہے۔ مقدمے میں مدعی (محمد ارشد مرحوم کے قانونی ورثاء) نے حق شفعہ کے تحت جائیداد پر قبضے کے لیے دعویٰ دائر کیا۔ حق شفعہ کے تحت قانون کے مطابق، اگر کوئی جائیداد بیچی جائے تو پڑوسی یا قریبی رشتہ دار کو اس جائیداد کو خریدنے کا پہلا حق حاصل ہوتا ہے۔
قانون کے مطابق، جب کوئی شخص حق شفعہ کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے دعویٰ دائر کرنے کے 30 دن کے اندر جائیداد کی قیمت کا ایک تہائی حصہ (1/3) عدالت میں جمع کرانا ہوتا ہے۔ اس مقدمے میں یہ بحث ہوئی کہ مدعی نے قانون کے مطابق 30 دن کے اندر یہ رقم جمع کروائی یا نہیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے پہلے یہ فیصلہ دیا تھا کہ مدعی نے مقررہ مدت میں یہ رقم جمع نہیں کروائی، جس کی بنا پر اس کا حق شفعہ ختم ہو گیا۔ لیکن سپریم کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے قانون کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف حوالہ جات دیے اور طے کیا کہ مدعی کو دعویٰ دائر کرنے کے دن سے 30 دن کے اندر یہ رقم جمع کرانی ہوتی ہے۔
یہ کیس اس اہم نکتے پر تھا کہ حق شفعہ کا دعویٰ کرتے وقت جائیداد کی قیمت کا 1/3 حصہ جمع کرانے کی شرط کا درست اطلاق کیسے ہوتا ہے۔
Must read Judgement
2024 S C M R 1369
[Supreme Court of Pakistan]
Present: Yahya Afridi, Amin-ud-Din Khan and Ayesha A. Malik, JJ
MUHAMMAD ARSHAD (deceased) through L.Rs.---Appellants
Versus
BASHIR AHMAD (deceased) through L.Rs. and others---Respondents
Civil Appeals Nos. 138-L and 139-L of 2010, decided on 8th May, 2024.
(Against the judgment dated 21.02.2007 passed by the Lahore High Court, Lahore in W.P. No. 18465 of 2005 and W.P. No. 18466 of 2005).
Punjab Pre-emption Act (IX of 1991)---
----S. 24---Suit for possession through pre-emption---Plaintiff to deposit in Court 1/3rd of the sale price of the property---Period of thirty days for depositing, commencement of---Plaintiff/pre-emptor is required to deposit the 1/3rd amount within 30 days from the date of filing/ institution of suit.
Malik Tariq Mahmood and others v. Ghulam Ahmed and others PLD 2017 SC 674; Hasnain Nawaz Khan v. Ghulam Akbar and another PLD 2013 SC 489 and Hafiz Muhammad Ramzan v. Muhammad Bakhsh PLD 2012 SC 764 ref.
Junaid Anwar, Advocate Supreme Court and Syed Rifaqat Hussain Shah, Advocate-on-Record for Appellants.
Tariq Ahmed Mian, Advocate Supreme Court via video link from Lahore for Respondents
Tags
pre-emption
