Advocacy's fee | The legal advisers made a constitutional plea that the Municipal Corporation pay them dues and advocacy fees, on which the respondent took the stand that their appointments were not made in accordance with the rules. Directed. 2024 C L C 325
ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی، جس میں انہوں نے میونسپل کارپوریشن سے درخواست کی کہ انہیں بقایاجات اور موجودہ ایڈوکیسی فیس کی ادائیگی کی جائے۔
مقدمے کا پس منظر
زیرِ نظر مقدمہ لاہور ہائی کورٹ، راولپنڈی بنچ کے روبرو آیا جس میں درخواست گزار محمد اظہر عباسی اور مسعود احمد عباسی نے میونسپل کارپوریشن اور دیگر کے خلاف اپنی قانونی فیس اور بقایا جات کی وصولی کے لیے رٹ دائر کی۔ درخواست گزار اپنے آپ کو مقامی حکومت کے لیے باقاعدہ قانونی مشیر کے طور پر تعینات شدہ ظاہر کر رہے تھے۔
Punjab Local Government (Legal Advisers) Rules, 2003 کے تحت تقرری کا طریقہ کار
عدالت نے وضاحت کی کہ قاعدہ 4(1) کے تحت، مقامی حکومت جو قانونی مشیر کو باقاعدگی سے مقرر کرنا چاہتی ہے، اسے درخواستیں کم از کم دو قومی روزناموں میں شائع کر کے وصول کرنی ہوں گی جن میں مطلوبہ تعلیمی قابلیت، تجربہ، وکیل کی حیثیت اور کم از کم معاوضہ واضح کیا جائے۔ قاعدہ 4(2) کے مطابق امیدوار اپنی درخواست متعلقہ مقامی حکومت کو بھیجیں اور اس کی کاپی حکومت پنجاب، محکمہ قانون و پارلیمانی امور کو بھی ارسال کریں۔ قاعدہ 4(3) کے تحت مقامی حکومت تمام درخواستیں اپنی سفارشات کے ساتھ حکومت کو ارسال کرے گی تاکہ قاعدہ 4(4) کے تحت تشکیل دی گئی سلیکشن کمیٹی ان کا جائزہ لے۔ قاعدہ 4(5) کے مطابق کمیٹی منتخب وکیل اور اس کے معاوضے کی منظوری دے گی اور متعلقہ مقامی حکومت وکیل کو منظور شدہ شرائط کے مطابق مقرر کرے گی۔
تقرری کے قانونی تقاضے اور غیر تعمیل کے اثرات
عدالت نے کہا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 4 کے تحت ہر فرد کا حق ہے کہ اس کے ساتھ قانون کے مطابق پیش آیا جائے جبکہ آرٹیکل 5(2) کے تحت ہر شہری پر لازمی ہے کہ وہ آئین اور قانون کی پابندی کرے۔ درخواست گزار کی تقرری قانونی قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں ہوئی کیونکہ میونسپل کارپوریشن نے سلیکشن کمیٹی کی منظوری حاصل کیے بغیر اور قواعد کے مقررہ طریقہ کار کو اپنائے بغیر وکلاء کو مقرر کیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی قانون میں مقرر کردہ طریقہ کار کو اختیار کیے بغیر کیے گئے اقدامات، صرف ایک نامزدگی یا سفارش کے مترادف ہیں اور اس سے کسی کا قانونی حق پیدا نہیں ہوتا۔
عدالتی فیصلہ اور ہدایات
ہائی کورٹ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ دیا کہ درخواست گزاروں کی تقرری غیر قانونی تھی اور ان کی فیس یا بقایا جات کا دعویٰ درست نہیں۔ عدالت نے متعلقہ محکمے کو ہدایت کی کہ وہ اس افسر (میونسپل کارپوریشن ایڈمنسٹریٹر) کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کرے جس نے قانون کے مقررہ طریقہ کار کے بغیر وکلاء کی تقرری کی۔ آئینی درخواست مسترد کی گئی۔
قانونی حوالہ جات اور تشریح
عدالت نے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیا، جن میں محمد اکبر بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان (1996 SCMR 1017)، نذیر اے خان سواتی بمقابلہ وزارت قانون و انصاف (1998 PLC (C.S) 372)، ہدایات اللہ و دیگر بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان (2022 SCMR 1991) اور عطا اللہ خان بمقابلہ علی اعظم افریدی (2023 PLC (C.S) 182) شامل ہیں، تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ جب قانون کسی عمل کو خاص طریقے سے مکمل کرنے کا کہتا ہے، تو اسے وہیں تک محدود رہنا چاہیے اور اس سے تجاوز قانونی طور پر جائز نہیں ہے۔
قانونی اہمیت
یہ فیصلہ مقامی حکومت کے لیے قانونی مشیروں کی تقرری کے طریقہ کار، آرٹیکل 4 اور 5 کے مطابق شہری حقوق، اور قواعد کی خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی کی ضرورت کے حوالے سے ایک اہم نظیر ہے۔ عدالت نے اصول واضح کیا کہ غیر قانونی تقرری سے نہ صرف قانونی حقوق متاثر ہوتے ہیں بلکہ ذمہ دار افسر کے لیے تادیبی اقدامات لازمی ہیں۔
درخواست (پٹیشن):
محمد اظہر عباسی اور مسعود احمد عباسی نے ہائی کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی، جس میں انہوں نے میونسپل کارپوریشن سے درخواست کی کہ انہیں بقایاجات اور موجودہ ایڈوکیسی فیس کی ادائیگی کی جائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ انہیں قانونی مشیر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا اور وہ اس حیثیت میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں، مگر ان کی خدمات کے عوض فیس کی ادائیگی نہیں کی گئی۔
جواب (Respondents’ Stance):
جواب دہندہ، یعنی میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر اور محکمہ قانون کے سیکرٹری نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ کوئی بھی محکمہ یا ادارہ بغیر مناسب طریقہ کار کے کسی نجی وکیل کی خدمات حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی افسر نے کسی وکیل کی تقرری کی ہے تو وہ افسر خود اس کی پیشہ ورانہ فیس ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا اور اس کے خلاف تادیبی کارروائی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ درخواست گزاروں کی تقرریاں تقریباً دو سال پہلے ختم ہو چکی تھیں اور انہیں باقاعدہ طور پر توسیع نہیں دی گئی تھی۔
کورٹ کا فیصلہ:
ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ درخواست گزاروں کی تقرریاں پنجاب مقامی حکومت (قانونی مشیر) قواعد، 2003 کے تحت مقرر کردہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی تھیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ درخواست گزاروں کے پاس تقرری کا کوئی قانونی حق نہیں تھا، کیونکہ ان کی تقرریاں صرف نامزدگی یا سفارش کے طور پر تھیں اور ان کی تقرری کا عمل صحیح طریقے سے مکمل نہیں ہوا۔ اس لیے عدالت نے درخواست مسترد کر دی اور متعلقہ محکمے کو ہدایت کی کہ وہ ایڈمنسٹریٹر (میونسپل کارپوریشن) کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کرے، جس نے درخواست گزاروں کی تقرری بغیر مناسب طریقہ کار کے کی تھی۔
Must read Judgement
2024 C L C 325
