Election Nomination papers case lawion papers 2024 C L C 85.
![]() |
| Election Nomination papers |
کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ انکم ٹیکس ریٹرن منسلک کرنا لازمی ہے یا نہیں؟
2024 C L C 85
لاہور ہائیکورٹ (بہاولپور بنچ)
ملک فہیم اللہ خان بنام ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر وغیرہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
مقدمے کا پس منظر:
اس مقدمے میں اپیل کنندہ ملک فہیم اللہ خان کے کاغذاتِ نامزدگی ریٹرننگ آفیسر نے اس بنیاد پر مسترد کر دیے کہ ان کے ساتھ انکم ٹیکس ریٹرن اور اسٹیٹمنٹ آف نیٹ ایسٹس منسلک نہیں تھی، جس پر اپیل کنندہ نے الیکشن اپیل دائر کی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اہم قانونی سوال:
کیا الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 60(2)(d) کے تحت کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ انکم ٹیکس ریٹرن منسلک کرنا لازمی ہے یا نہیں؟
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عدالت کا مشاہدہ:
معزز عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 60(2)(d) الیکشن ایکٹ 2017 اور فارم-بی کے تحت امیدوار پر صرف یہ لازم ہے کہ وہ اپنے، اپنی شریکِ حیات اور زیرِ کفالت بچوں کے اثاثہ جات و واجبات (Assets & Liabilities) کی تفصیل 30 جون سے قبل کی صورتِ حال کے مطابق جمع کروائے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انکم ٹیکس ریٹرن کی قانونی حیثیت:
عدالت نے واضح کیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 اور الیکشن رولز 2017 میں کہیں بھی یہ شرط موجود نہیں کہ امیدوار اپنے کاغذاتِ نامزدگی کے ساتھ انکم ٹیکس ریٹرن لازمی طور پر منسلک کرے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ریٹرننگ آفیسر کا اختیار:
عدالت کے مطابق ریٹرننگ آفیسر نے انکم ٹیکس ریٹرن طلب کر کے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا، کیونکہ قانون نے اسے ایسی کوئی پابندی عائد کرنے کا اختیار نہیں دیا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ریکارڈ کا جائزہ:
الیکشن کمیشن کے اصل ریکارڈ کے مطابق اپیل کنندہ نے فارم-بی کے ساتھ اثاثہ جات کی مکمل فہرست منسلک کی تھی، جس میں زرعی زمین، مکان، بینک اکاؤنٹ، گاڑی اور دیگر اثاثے واضح طور پر درج تھے، اور اس کی تصدیق الیکشن کمیشن کے لا آفیسر نے بھی کی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
قانونی اصول:
عدالت نے اس مسلمہ اصول کو دہرایا کہ جب کوئی قانون کسی کام کو ایک خاص طریقے سے اور مخصوص شرائط کے ساتھ کرنے کا حکم دے، تو وہ کام اسی طریقے اور انہی شرائط کے مطابق کیا جانا چاہیے، اس میں ازخود کوئی نئی شرط شامل نہیں کی جا سکتی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
عدالتی نتیجہ:
ان تمام وجوہات کی بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ ریٹرننگ آفیسر کی جانب سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کرنا غیر قانونی اور بلا جواز تھا، لہٰذا اپیل منظور کرتے ہوئے مستردی کا حکم کالعدم قرار دے دیا گیا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
قانونی اہمیت:
یہ فیصلہ انتخابی قوانین کی درست تشریح اور ریٹرننگ آفیسرز کے اختیارات کی حد بندی کے حوالے سے ایک اہم نظیر ہے، جو امیدواروں کے انتخابی حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
یہ کیس ملک فہیم اللہ خان بنام ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر کے درمیان تھا، جو کہ بہاولپور بنچ لاہور ہائی کورٹ میں 18 اگست 2022 کو سنا گیا۔ کیس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ریٹرننگ آفیسر نے ملک فہیم اللہ خان کے نامزدگی کاغذات مسترد کر دیے تھے کیونکہ انہوں نے اپنے کاغذات کے ساتھ ٹیکس ریٹرن اور اثاثہ جات کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی تھیں۔
ملک فہیم اللہ خان نے مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن ایکٹ 2017 اور الیکشن رولز 2017 کے تحت ٹیکس ریٹرن کا نامزدگی کاغذات کے ساتھ لازمی جمع کرانا ضروری نہیں ہے۔ عدالت نے اس دلیل کو قبول کیا اور کہا کہ سیکشن 60(2)(d) کے مطابق صرف اثاثوں اور ذمہ داریوں کی تفصیل فراہم کرنی ہوتی ہے، اور یہ تفصیلات امیدوار نے اپنے کاغذات کے ساتھ جمع کرائی تھیں۔
عدالت نے فیصلہ دیا کہ چونکہ قانون میں ٹیکس ریٹرن کے جمع کرانے کی کوئی شرط نہیں ہے، اس لیے ریٹرننگ آفیسر کا فیصلہ غلط اور غیر مناسب تھا۔ عدالت نے ریٹرننگ آفیسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل منظور کرلی۔
یہ فیصلہ اس اصول کی روشنی میں دیا گیا کہ جب قانون کسی عمل کو ایک مخصوص طریقے سے انجام دینے کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ اسی طریقے سے کیا جانا چاہیے۔
Must read judgement
2024 C L C 85
