Limitation Act Article 163: 30-Day Time Limit for Restoration Applications | Pakistan Law


Limitations 

⚖️ درخواست عدم پیروی کی وجہ سے خارج ہوگئی

ایک شخص کی آئینی درخواست عدالت میں زیرِ سماعت تھی، لیکن مقدمے کی پیروی نہ ہونے کی وجہ سے درخواست خارج ہوگئی۔ اس کے بعد درخواست گزار نے اپنی درخواست کی بحالی کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔

🔹 بحالی کی درخواست بھی عدم پیروی کی وجہ سے خارج ہوگئی

صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی جب درخواست بحال کرانے کے لیے دائر کی گئی درخواست بھی عدم پیروی کی وجہ سے خارج ہوگئی۔ درخواست گزار نے بعد ازاں اس درخواست کو دوبارہ بحال کرانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا۔

درخواست مقررہ مدت گزرنے کے بعد دائر کی گئی

سندھ ہائی کورٹ کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا ایسی درخواست مقررہ مدت گزرنے کے بعد بھی قابلِ سماعت ہوسکتی ہے؟

عدالت نے متعلقہ قانون کا جائزہ لیتے ہوئے قرار دیا کہ قانون کے تحت ایسی درخواست دائر کرنے کے لیے تیس دن کی مقررہ مدت موجود ہے۔

🔹 تاخیر معاف کرانے کی درخواست بھی دائر نہیں کی گئی

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ درخواست گزار کی جانب سے ہونے والی غیر معمولی تاخیر کو معاف کرانے کے لیے کوئی الگ درخواست دائر نہیں کی گئی تھی۔

درخواست گزار کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ مقدمے کا فیصلہ محض تکنیکی بنیادوں کے بجائے اصل معاملے کی بنیاد پر ہونا چاہیے، لیکن عدالت نے قرار دیا کہ قانونی مدت کی پابندی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

⚖️ قانونی کارروائی کے لیے مقررہ مدت کی پابندی ضروری ہے

عدالت نے قرار دیا کہ کوئی شخص اپنی سہولت کے مطابق جب چاہے مقدمہ یا درخواست دائر نہیں کرسکتا۔ قانونی کارروائی کے لیے قانون میں جو مدت مقرر کی گئی ہے، اس کی پابندی ضروری ہے۔

🔹 قانون کا مقصد مقدمات کو غیر معینہ مدت تک جاری رکھنا نہیں

عدالت نے واضح کیا کہ مدتِ معیاد کے قوانین اس اصول پر قائم ہیں کہ ہر مقدمے کا کسی نہ کسی مرحلے پر اختتام ہونا چاہیے۔

فریقین کو اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے بروقت اور محتاط انداز میں قانونی کارروائی کرنی چاہیے اور اپنے حقوق کے بارے میں غفلت نہیں برتنی چاہیے۔

⚠️ درخواست گزار اور وکیل کی عدم حاضری بھی اہم قرار پائی

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ بحالی کی درخواست خارج ہونے کے بعد اگلی ہی تاریخ پر درخواست گزار اور اس کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔

عدالت کے مطابق فریق کی جانب سے اس طرح کی عدم توجہی بھی اسے مطلوبہ ریلیف دینے کے حق میں نہیں تھی۔

درخواست بحال کرنے سے انکار

تمام حالات اور قانونی مدت کو مدنظر رکھتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ نے درخواست بحال کرنے سے انکار کردیا، کیونکہ درخواست مقررہ مدت کے بعد دائر کی گئی تھی۔

درخواست خارج کردی گئی۔

📌 اہم قانونی نکتہ

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ جب قانون کسی درخواست کے لیے مخصوص مدت مقرر کردے تو فریق کو مقررہ وقت کے اندر قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔ غیر ضروری تاخیر اور قانونی کارروائی میں غفلت کی صورت میں عدالت سے مطلوبہ ریلیف حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

⚖️ حوالہ: 2026 سی ایل سی 1089، سندھ ہائی کورٹ، حیدرآباد بینچ

Must read judgment.

2026 CLC 1089

[Sindh (Hyderabad Bench)]

Before Tasneem Sultana, J

Syed ZAMAN SHAH-Petitioner

Versus

X

IIND ADDITIONAL DISTRICT JUDGE, SANGHAR and 2 others ---Respondents

Constitutional Petition No. S-486 of 2021, decided on 19th September, 2025.

Limitation Act (IX of 1908)---

Vo

-First Sched., Art.163--Constitution of Pakistan, Art.199---Constitutional petition---Restoration of petition--Dismissal for non-prosecution--Limitation--Application seeking restoration of application for restoration of petition dismissed for non-prosecution---Delay, condonation of---Non-filing of application-Effect-Petitioner sought restoration of an application seeking restoration of the petition dismissed for non-prosecution Validity-Specific time-limit of thirty days is provided under Art.163 of the First Sched, to the Limitation Act, 1908 for filing an application in this regard, therefore, no Court can extend the time period in any circumstances-Petitioner sought decision on merits rather than on technicalities, but the application was barred under Art.163 of the First Sched, to the Limitation Act, 1908 and no application was filed for condonation of such inordinate delay-No one can be allowed to file litigation and/or any application at his/her leisure and must adhere to the provisions of the Limitation Act, 1908 which set specific time-limits for initiating legal actions-Provisions of the Limitation Act, 1908 are based on the principle that there should be an er end to litigation-Individuals should not sleep over their rights but should be vigilant in pursuing them-Even after dismissal of the restoration application, petitioner and his counsel remained absent on the very next date and such careless attitude on the part of the petitioner and his counsel disentitled the petitioner to the relief prayed for in the application-High Court declined to restore the

application as the same was barred by limitation-Application was dismissed, in circumstances. Mst. Riyasat Begum v. Ejaz Ahmad and another 2013 CLC 597 rel.

Imam Bux Baloch for Petitioner.


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

Post a Comment

Previous Post Next Post