![]() |
| Family partition |
آبائی زمین کی دوبارہ تقسیم، نجی بٹوارہ اور سول کورٹ کا اختیار — بلوچستان ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
مقدمے کا پس منظر
یہ مقدمہ فریقین کے آباؤ اجداد سے وراثت میں ملنے والی مشترکہ زمین کے تنازع سے متعلق تھا۔ فریقین کے آباؤ اجداد نے زمین چھوڑی تھی اور بعد میں اس زمین کی نجی تقسیم (Private Partition) کی گئی، جس کے نتیجے میں مدعی کا مخصوص زمین میں حق اور ملکیتی مفاد قائم ہوگیا۔
مدعی کمال الدین کا مؤقف تھا کہ نجی تقسیم کے بعد اس کی ملکیت اور حق واضح ہوچکا تھا، لیکن اس کے باوجود ریونیو حکام نے دوبارہ تقسیم کی کارروائی کی، جس سے اس کے پہلے سے قائم حقِ ملکیت کو متاثر کیا گیا۔ مدعی نے اپنے حق کے تحفظ کے لیے سول کورٹ سے رجوع کیا۔
مدعی کا دعویٰ
مدعی نے سول کورٹ میں دعویٰ دائر کرتے ہوئے اپنی ملکیت کے اعلان، متعلقہ انتقال کی منسوخی، قبضہ اور مستقل حکمِ امتناعی کی استدعا کی۔ اس کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ نجی تقسیم کے نتیجے میں وہ متنازعہ زمین کا مالک بن چکا تھا اور ریونیو حکام کی جانب سے دوبارہ تقسیم کرکے اس کے حق کو ختم یا متاثر نہیں کیا جاسکتا۔
ٹرائل کورٹ کا فیصلہ
ٹرائل کورٹ نے فریقین کے مؤقف، دستیاب ریکارڈ اور شہادت کا جائزہ لینے کے بعد مدعی کے حق میں فیصلہ دیا۔ عدالت نے مدعی کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے دعوے کو منظور کرلیا۔
اس فیصلے کے خلاف مخالف فریق نے اپیل دائر کی اور بنیادی اعتراض یہ اٹھایا کہ زمین کی تقسیم سے متعلق معاملہ ریونیو حکام کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، اس لیے سول کورٹ کو اس مقدمے کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
⚖️ بلوچستان ہائی کورٹ کا اہم قانونی اصول
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اس مقدمے میں صرف زمین کی تقسیم کا معاملہ نہیں تھا بلکہ بنیادی طور پر حقِ ملکیت (Question of Title) کا سوال موجود تھا۔
عدالت نے واضح کیا کہ جب کسی مقدمے میں فریقین کے درمیان ملکیت کا حقیقی تنازع پیدا ہوجائے تو اس سوال کا فیصلہ مناسب شہادت ریکارڈ کرنے کے بعد سول کورٹ ہی کرسکتی ہے۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ بلوچستان لینڈ ریونیو ایکٹ، 1967 کی دفعہ 172(2)(xviii) سول کورٹ کے اختیار میں اس وقت رکاوٹ نہیں بنتی جب مقدمے میں اصل سوال کسی جائیداد کے حقِ ملکیت سے متعلق ہو۔
بٹوارے اور ملکیت میں فرق
عدالت نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ اگر معاملہ صرف کسی جائیداد یا ہولڈنگ کے بٹوارے کا ہو تو ریونیو قوانین کے تحت سول کورٹ کا اختیار محدود ہوسکتا ہے۔ تاہم اگر بٹوارے کے دوران یہ بنیادی سوال پیدا ہوجائے کہ زمین کا اصل مالک کون ہے یا کس فریق کا حقِ ملکیت قائم ہے تو یہ محض ریونیو معاملہ نہیں رہتا۔
ایسی صورت میں ملکیت کے تنازع کا فیصلہ سول کورٹ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
🏡 نجی تقسیم کا قانونی اثر
اس مقدمے میں عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ فریقین کے درمیان ہونے والی نجی تقسیم کے نتیجے میں مدعی کا زمین میں حق اور مفادِ ملکیت قائم ہوچکا تھا۔ بعد میں ریونیو کارروائی کے ذریعے دوبارہ تقسیم کیے جانے سے اس بنیادی حقِ ملکیت کا سوال پیدا ہوا، جسے سول کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا تھا۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ مدعی کا دعویٰ سول کورٹ کے دائرۂ اختیار میں تھا اور ٹرائل کورٹ نے اس معاملے کا فیصلہ کرکے کوئی قانونی غلطی نہیں کی۔
📌 اہم قانونی نکات
- ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ حقِ ملکیت کا سوال پیدا ہونے کی صورت میں سول کورٹ اس تنازع کا فیصلہ کرسکتی ہے۔
- ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ محض اس وجہ سے کہ معاملہ زمین کی تقسیم سے متعلق ہے، ہر صورت میں سول کورٹ کا اختیار ختم نہیں ہوجاتا۔
- ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ریونیو قوانین کی پابندیاں اس وقت سول کورٹ کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتیں جب اصل تنازع ملکیت کا ہو۔
- ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نجی تقسیم کے ذریعے قائم ہونے والے حقِ ملکیت کے بارے میں پیدا ہونے والے تنازع کا فیصلہ سول کورٹ کرسکتی ہے۔
- ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کا مدعی کے حق میں فیصلہ درست تھا۔
🏛️ حتمی فیصلہ
بلوچستان ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ مدعی کا مقدمہ سول کورٹ کے دائرۂ اختیار میں آتا تھا اور ٹرائل کورٹ نے اس کے حق میں درست فیصلہ دیا۔ چنانچہ مخالف فریق کی اپیل خارج کردی گئی اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔
قانونی حوالہ
2021 CLC 37 — بلوچستان ہائی کورٹ، کوئٹہ
Kamaluddin vs. Abdullah
نتیجہ
اس فیصلے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اگر زمین کے بٹوارے کے ساتھ ساتھ حقِ ملکیت کا حقیقی تنازع بھی موجود ہو تو معاملہ صرف ریونیو کارروائی تک محدود نہیں رہتا؛
Must read Judgment.
Citation Name: 2021 CLC 37 QUETTA-HIGH-COURT-BALOCHISTAN
Side Appellant: KAMALUDDIN
Side Opponent: ABDULLAH
Ss.42, 39 & 54---Balochistan Land Revenue Act (XVII of 1967), S.172(2)(xviii)--Suit for declaration, cancellation of mutation, possession and permanent injunction---Jurisdiction of Civil Court---Scope--Contention of plaintiff was that he was owner of suit property which had not been partitioned---Suit was decreed by the Trial Court---Validity---Question of title was involved in the present case and Civil Court was the only forum to resolve the controversy after recording evidence---Civil Court could not exercise jurisdiction over a claim for partition of an estate or holding or any question connected with or arising out of the proceedings of partition, not being a question as to title in any of such property---When question of title was raised in a suit then provisions of S.172(2) (xviii) of Balochistan Land Revenue Act, 1967, would not come in the way of Civil Court to decide the issue---Present suit had been filed for partition on the ground of Inheritance --Suit property had been left by the forefathers of the parties---Private partition had created title and interest of plaintiff in the suit property---Suit of plaintiff did fall within the domain of Civil Court, in circumstances---Plaintiff was owner of suit land---Trial Court had rightly passed the impugned judgment and decree in favour of plaintiff---Appeal was dismissed, in circumstances.
