![]() |
| Right of appeal 2026 clc 895 |
نظرِ ثانی (ریویژن) میں ڈسٹرکٹ کورٹ کے حکم کے خلاف سول اپیل نہیں بنتی: ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر کا اہم فیصلہ
2026 CLC 895 (High Court AJ&K)
تعارف
عدالتی کارروائی میں یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ کون سا حکم اپیل کے ذریعے چیلنج کیا جا سکتا ہے اور کس حکم کے خلاف اپیل کا حق موجود نہیں۔ بہت سے مقدمات میں فریقین یہ سمجھتے ہیں کہ ہر عدالتی حکم کے خلاف اپیل دائر کی جا سکتی ہے، حالانکہ قانون ایسا نہیں کہتا۔
ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے 2026 CLC 895 میں اس اہم قانونی اصول کو واضح کیا کہ اگر ڈسٹرکٹ کورٹ نے اپنے نظرِ ثانی (Revision) کے اختیار کے تحت کوئی حکم جاری کیا ہو تو اس کے خلاف سول اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔ ایسے حکم کو چیلنج کرنے کے لیے قانون نے الگ راستہ مقرر کیا ہے۔
مقدمہ کا پس منظر
درخواست گزار نے ڈسٹرکٹ کورٹ کی جانب سے نظرِ ثانی (ریویژن) میں جاری کیے گئے حکم کے خلاف سول اپیل دائر کی۔ عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا قانون اس اپیل کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔
ہائی کورٹ نے سول پروسیجر کوڈ اور متعلقہ آئینی دفعات کا جائزہ لینے کے بعد اس سوال کا جواب نفی میں دیا۔
⚖️ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نظرِ ثانی (ریویژن) میں ڈسٹرکٹ کورٹ کے حکم کے خلاف سول اپیل قابلِ سماعت نہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ ڈسٹرکٹ کورٹ جب Section 115 CPC کے تحت اپنے ریویژنل اختیار کو استعمال کرتے ہوئے کوئی حکم جاری کرتی ہے تو اس کے خلاف سول اپیل دائر کرنے کی کوئی قانونی گنجائش موجود نہیں۔
⚖️ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ حقِ اپیل صرف قانون کی واضح اجازت سے پیدا ہوتا ہے۔
عدالت نے آبزرو کیا کہ اپیل کسی شخص کا فطری یا خودکار حق نہیں بلکہ یہ مکمل طور پر قانون کی تخلیق ہے۔ اگر قانون کسی مخصوص حکم کے خلاف اپیل کی اجازت نہ دے تو عدالت بھی ایسی اپیل کو قابلِ سماعت قرار نہیں دے سکتی۔
⚖️ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ سیکشن 104 CPC اور آرڈر XLIII رول 1 CPC میں قابلِ اپیل احکامات کی فہرست موجود ہے۔
عدالت نے نشاندہی کی کہ Section 104 CPC اور Order XLIII Rule 1 CPC ان احکامات کی نشاندہی کرتے ہیں جن کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے، لیکن ان میں ریویژن کے اختیار میں دیا گیا حکم شامل نہیں۔
⚖️ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ریویژنل حکم نہ ڈگری ہے اور نہ ہی قابلِ اپیل حکم۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ نظرِ ثانی (ریویژن) میں جاری ہونے والا حکم نہ تو "ڈگری" کی تعریف میں آتا ہے اور نہ ہی ایسا حکم ہے جس کے خلاف سول پروسیجر کوڈ اپیل کی اجازت دیتا ہو۔
⚖️ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ مناسب قانونی راستہ آئینی درخواست ہے۔
عدالت کے مطابق اگر کوئی شخص ڈسٹرکٹ کورٹ کے ریویژنل حکم سے متاثر ہو تو اس کے لیے مناسب قانونی علاج آرٹیکل 44، آزاد جموں و کشمیر عبوری آئین 1974 کے تحت آئینی درخواست دائر کرنا ہے، نہ کہ سول اپیل۔
قانونی اہمیت
یہ فیصلہ وکلاء، قانون کے طلبہ اور عام شہریوں کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ ہر عدالتی حکم اپیل کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی حکم کے خلاف اپیل دائر کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ متعلقہ قانون اس کی اجازت دیتا ہے یا نہیں۔
نتیجہ
ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے قرار دیا کہ ڈسٹرکٹ کورٹ کے ریویژنل اختیار میں جاری ہونے والے حکم کے خلاف سول اپیل ناقابلِ سماعت ہے۔ ایسے حکم کو چیلنج کرنے کا مناسب قانونی راستہ آئینی درخواست ہے۔ یہ فیصلہ اس بنیادی اصول کی بھی توثیق کرتا ہے کہ حقِ اپیل صرف وہی ہے جو قانون واضح طور پر فراہم کرے۔
اہم قانونی نکات
- ڈسٹرکٹ کورٹ کے ریویژنل حکم کے خلاف سول اپیل نہیں بنتی۔
- حقِ اپیل صرف قانون کی صریح اجازت سے پیدا ہوتا ہے۔
- سیکشن 104 CPC اور آرڈر XLIII رول 1 CPC کے علاوہ اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔
- ریویژنل حکم کو چیلنج کرنے کے لیے آئینی درخواست مناسب قانونی راستہ ہے۔
Must read judgment.
2026 C L C 895
[High Court (AJ&K)]
Before Syed Shahid Bahar, J
MOHAMMAD ISHFAQ AHMED-Appellant
Versus
MOHAMMAD FAROOQ and 8 others-Respondents
Civil Appeal No. 167 of 2020, decided on 10th December, 2025.
Civil Procedure Code (V of 1908)---
Ss. 104 & 115 & O.XLIII, R.1---Azad Jammu and Kashmir Interim Constitution Act (VIII of 1974), Art.44-Order passed by the District Court in its revisional jurisdiction, assailing of--Whether appeal or writ petition?---Held: An order passed by the District Judge in revision is not appealable and under C.P.C., the only remedy available to the appellant is a constitutional petition field under Art.44 of the Azad Jammu and Kashmir Interim Constitution Act, 1974---Section 104, C.P.C. and O. XLIII, R.1, C.P.C. clearly listed orders against which appeals are permissible, thus, an order passed in revision is not mentioned anywhere-It is clear enough that order impugned passed in revisional jurisdiction is neither an order appealable under O.XLIII R.1, C.P.C. nor a decree or an order appealable under C.P.C.--Appeal only lies when it is expressly provided in the law-Law recognizes only such lis which is provided the codal scheme and specifically listed the relevant law-Leaving aside the factual matrix of the lis, no appeal lies against an order passed by the District Court in revision; the only only re remedy provided in the law is a writ---Thus, present appeal was not competent---Appeal, being non-maintainable, was dismissed.
M. Aslam v. District Judge PLID 2003 SC 344; 2004 SCMR 1110; 2019 YLR 1559 and PLD 2001 SC 49 ref.
Ch. Mohammad Ashraf Ayaz for Appellant.
