Nikahnama Entry Alone Is Not Proof of Property Transfer as Haq Mehr | PLJ 2026 Lahore 448

Haq mahar given or not


⚖️ حقِ مہر میں جائیداد کی منتقلی صرف نکاح نامہ سے ثابت نہیں ہوتی

PLJ 2026 Lahore 448
W.P. No. 6543 of 2022
Irshad Bibi Versus ADJ

📖 مقدمہ کا پس منظر

درخواست گزار خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا حقِ مہر ادا نہیں ہوا کیونکہ نکاح نامہ میں غیر منقولہ جائیداد حقِ مہر کے طور پر درج ہونے کے باوجود وہ جائیداد قانون کے مطابق اس کے نام منتقل نہیں کی گئی۔
مخالف فریق نے کہا کہ چونکہ نکاح نامہ کے کالم نمبر 16 میں جائیداد بطور حقِ مہر درج ہے، اس لیے حقِ مہر ادا ہو چکا ہے۔
ٹرائل کورٹ نے قرار دیا کہ صرف نکاح نامہ کا اندراج ادائیگی یا جائیداد کی قانونی منتقلی کا ثبوت نہیں بنتا۔
تاہم اپیلیٹ عدالت نے نکاح نامہ کے کالم نمبر 16 کو کافی ثبوت سمجھتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ تبدیل کر دیا۔

معاملہ لاہور ہائی کورٹ کے سامنے آیا، جس نے اپیلیٹ عدالت کے فیصلے کا جائزہ لیا۔

⚖️ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ
✅ صرف نکاح نامہ کے کالم نمبر 16 میں درج عبارت غیر منقولہ جائیداد کی قانونی منتقلی ثابت نہیں کرتی۔
✅ زمین یا مکان کی منتقلی کے لیے قانون کے مطابق باقاعدہ قانونی دستاویزات اور متعلقہ ریونیو ریکارڈ کا موجود ہونا ضروری ہے۔
✅ جب ایسی قانونی دستاویزات اور ریونیو اندراجات موجود نہ ہوں تو صرف نکاح نامہ کی بنیاد پر حقِ مہر کی ادائیگی یا جائیداد کی منتقلی ثابت نہیں کی جا سکتی۔
✅ اپیلیٹ عدالت نے صرف نکاح نامہ کے اندراج پر انحصار کر کے شہادت کے مسلم اصولوں کو نظر انداز کیا، جو قانونی غلطی تھی۔

📌 اہم قانونی اصول

⚖️ نکاح نامہ میں درج عبارت بذاتِ خود جائیداد کی منتقلی کا ثبوت نہیں۔
📑 غیر منقولہ جائیداد کی منتقلی قانون کے مقررہ طریقہ کار کے مطابق ثابت کرنا ضروری ہے۔
🏛️ عدالت صرف نکاح نامہ کی عبارت پر انحصار کر کے جائیداد کی منتقلی فرض نہیں کر سکتی۔
📚 حقِ مہر میں جائیداد دینے کا دعویٰ بھی دیگر قانونی تقاضوں کے تابع ہوتا ہے۔

✍️ نتیجہ

یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ اگر حقِ مہر میں زمین یا مکان دیا جائے تو صرف نکاح نامہ میں اس کا اندراج کافی نہیں بلکہ اس کی قانونی منتقلی مناسب دستاویزات اور ریونیو ریکارڈ سے ثابت کرنا لازم ہے۔

Must read judgment.

PLJ 2026 Lahore 448

The learned Appellate Court, however, reversed the said finding primarily on the basis of an entry in Column No.16 of the Nikahnama, interpreting the same as proof of payment. With utmost respect, this approach is legally untenable. A mere recital in the Nikahnama, particularly one relating to transfer of immovable property, cannot be equated with or substituted for the mandatory legal requirements governing such transfer. It is well-settled that transfer of immovable property of this nature must be evidenced through duly executed legal instruments and supported by corresponding entries in the revenue record. In the absence of such material, no presumption of payment or transfer could lawfully be drawn. The learned Appellate Court, therefore, fell in patent error by treating a bare recital as conclusive proof, thereby misreading the document and disregarding settled principles governing appreciation of evidence.
W.P. No.6543 of 2022
Irshad Bibi Versus ADJ



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

Post a Comment

Previous Post Next Post