⚖️ ماں کی تیسری شادی کے باوجود بچوں کی حضانت کا حق ختم نہیں ہوتا، بلوچستان ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
2026 C I C 927 — بلوچستان ہائی کورٹ
⚖️ مقدمے کا پس منظر
بلوچستان ہائی کورٹ نے نابالغ بچوں کی حضانت کے ایک اہم مقدمے میں قرار دیا کہ ماں کی تیسری شادی محض اس بنیاد پر بچوں کی حضانت ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
اس مقدمے میں والد پہلے ہی اپنے بچوں کی حضانت حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کر چکا تھا اور اس کی چار درخواستیں مسترد ہو چکی تھیں۔ بعد ازاں والد نے پانچویں مرتبہ بچوں کی حضانت کے لیے درخواست دائر کر دی۔
📌 والد کی پانچویں درخواست
عدالت کے سامنے ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ والد اس سے قبل چار مرتبہ بچوں کی حضانت کے لیے درخواستیں دائر کر چکا تھا اور وہ درخواستیں حتمی طور پر مسترد ہو چکی تھیں۔
خاص طور پر چوتھی درخواست میں والد نے ماں کی تیسری شادی کا معاملہ بھی عدالت کے سامنے اٹھایا تھا۔
اس درخواست کو بھی فیملی کورٹ نے مسترد کیا اور بعد ازاں اپیلٹ عدالت نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔
⚖️ ماں نے درخواست خارج کرنے کی استدعا کی
والد کی پانچویں درخواست کے خلاف ماں نے ضابطۂ دیوانی کے حکم ہفتم، قاعدہ 11 کے تحت درخواست دائر کی اور مؤقف اختیار کیا کہ یہی معاملہ پہلے ہی عدالتوں کے سامنے آ چکا ہے اور اس پر حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔
فیملی کورٹ نے اصولِ سابقہ فیصلہ (Res Judicata) کا اطلاق کرتے ہوئے والد کی درخواست خارج کر دی۔
⚖️ اپیلٹ عدالت کا فیصلہ
والد نے فیملی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی، جسے اپیلٹ عدالت نے منظور کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ میرٹ پر فیصلہ کرنے کے لیے فیملی کورٹ کو بھجوا دیا۔
اس فیصلے کے خلاف ماں نے بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
👩👧👦 ماں کی تیسری شادی کا معاملہ
ہائی کورٹ کے سامنے والد کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ چونکہ ماں نے تیسری شادی کر لی ہے، اس لیے وہ بچوں کی حضانت کا حق کھو چکی ہے۔
ہائی کورٹ نے اس مؤقف کو قبول نہیں کیا۔
⚖️ بچے کی فلاح و بہبود سب سے اہم
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کی حضانت کے معاملے میں سب سے اہم اصول بچے کی فلاح و بہبود اور بہترین مفاد ہے۔
صرف یہ حقیقت کہ ماں نے دوسری یا تیسری شادی کر لی ہے، اپنے آپ میں ایسا فیصلہ کن سبب نہیں بن جاتی جس کی بنیاد پر بچوں کو ماں سے الگ کر دیا جائے۔
عدالت کو ہر معاملے میں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ بچے کے بہترین مفاد میں حضانت کس شخص کے پاس رہنی چاہیے۔
📜 اصولِ سابقہ فیصلہ کا اطلاق
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ والد پہلے ہی چار درخواستیں دائر کر چکا تھا اور وہ تمام درخواستیں حتمی ہو چکی تھیں۔
مزید اہم بات یہ تھی کہ ماں کی تیسری شادی کا معاملہ بھی والد اپنی چوتھی درخواست میں پہلے ہی اٹھا چکا تھا۔
لہٰذا اس بنیاد پر دوبارہ پانچویں درخواست دائر کرنا قابلِ قبول نہیں تھا۔
🚫 نیا سببِ دعویٰ موجود نہیں تھا
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ موجودہ معاملے میں کوئی ایسا نیا سببِ دعویٰ پیدا نہیں ہوا تھا جس کی بنیاد پر والد دوبارہ بچوں کی حضانت کا مقدمہ شروع کر سکتا۔
جب ایک ہی معاملہ پہلے عدالت کے سامنے آ چکا ہو، اس پر فیصلہ ہو چکا ہو اور وہ فیصلہ حتمی حیثیت اختیار کر چکا ہو تو فریق اسی معاملے کو دوبارہ نئی درخواست کے ذریعے نہیں اٹھا سکتا۔
🏛️ بلوچستان ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اپیلٹ عدالت کا فیصلہ قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا۔
چنانچہ بلوچستان ہائی کورٹ نے آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے اپیلٹ عدالت کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور فیملی کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا۔
🔑 اہم قانونی اصول
⚖️ ماں کی تیسری شادی بذاتِ خود حضانت ختم کرنے کی حتمی بنیاد نہیں۔
⚖️ نابالغ کی حضانت میں بچے کی فلاح و بہبود بنیادی اور اولین اصول ہے۔
⚖️ جو معاملہ پہلے عدالت کے سامنے آ کر حتمی طور پر طے ہو چکا ہو، اسے دوبارہ اسی بنیاد پر نہیں اٹھایا جا سکتا۔
⚖️ پہلے سے حتمی فیصلے کے بعد نئی درخواست کے لیے نیا سببِ دعویٰ موجود ہونا ضروری ہے۔
⚖️ اگر ماں کی تیسری شادی کا معاملہ پہلے ہی عدالت کے سامنے اٹھایا جا چکا ہو تو بعد میں اسی بنیاد پر دوبارہ حضانت کی درخواست قابلِ سماعت نہیں ہوگی۔
📚 متعلقہ عدالتی نظائر
- Mst. Hameed Mai v. Irshad Hussain — PLD 2002 SC 267
- Mst. Shahista Naz v. Muhammad Naeem Ahmed — 2004 SCMR 990
- Raja Muhammad Owais v. Mst. Nazia Jabeen — 2022 SCMR 2123
- Mst. Qurat-ul-Ain v. The Station House Officer, Police Station Saddar Jalalpur Jattan, District Gujrat — 2024 SCMR 486
📝 کیس حوالہ
Bibi Geroza and another v. Abdul Hadi and 2 others
C.P. No. 1999 of 2022
فیصلہ: 11 اپریل 2025
2026 C I C 927 — بلوچستان ہائی کورٹ
Must read judgment.
2026 C I. C 927
[Balochistan]
Before Rozi Khan Barrech and Shaukat Ali Rakhshant, JJ
ΒΙΒΙ ΓEROZA and another ---Petitioners
Versus
ABDUL HADI and 2 others---Respondents
C.P. No. 1999 of 2022, decided on 11th April, 2025.
Guardians and Wards Act (VIII of 1890)---
Ss.7, 10 & 12---Family Courts Act (XXXV of 1964), Ss. 17 & 25---Civil Procedure Code (V of 1908), S. 11 & O. VII, R.11--Custody of minors-Re-marriage/3rd marriage of mother-Principle of res judicata After failure in getting custody of minors in earlier 04. applications, father/respondent filed 05th application---Mother also filed an application under O.VII R.11, Č.P.C. read with S.17 of the Family Court Act, 1964, which was accepted by Family Court on the principle of res judicata, which was assailed by the father in appeal, which was accepted by the Appellate Court with a direction to decide the matte on merits-Validity-Stance taken by the father that on account of the mother's third marriage, she had lost the right of custody over her children had fallen on earth as the paramount consideration for custody of minor was the welfare of the children, which was to be considered in the best interest of the child---Before filing the instant 05th application for custody of minors, father/respondent had previously filed four applications, which were subsequently dismissed, attaining finality---Respondent in the fourth application had specifically mentioned regarding third marriage of petitioner, which application was dismissed by the Family Court and subsequently upheld by the Appellate Court and as such, it attained finality too, squaring within the ambit of res judicata as enshrined under S.11, C.P.C. read with S.17 of the Family Court Act, 1964, thus, the same was not maintainable under the law as no new cause of action had arisen, thus, order of Appellate Court was held to be unsustainable Constitutional petition was allowed, in circumstances upholding the order of Family Court.
Mst. Hameed Mai v. Irshad Hussain PLD 2002 SC 267; Mst. Shahista Naz v. Muhammad Naeem Ahmed 2004 SCMR 990; Raja Muhammad Owais v. Mst. Nazia Jabeen 2022 SCMR 2123 and Mst. Qurat-ul-Ain v. The Station House Officer, Police Station Saddar Jalalpur Jattan, District Gujrat 2024 SCMR 486 rel.
Nemo for Petitioners.
Arbab Nasruminallah, Additional Advocate General ("A.A.G.") for Respondent No. 3.
