Fresh Cause of Action from Wrong Revenue Entries: Limitation under Article 120 Explained.
2017 SCMR 1476 — اصولِ لیمیٹیشن مدت (Limitation) پر اہم فیصلہ
دعویٰ برائے ڈیکلریشن کی مدت
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ لمیٹیشن ایکٹ 1908 کے آرٹیکل 120 کے تحت دعویٰ برائے اعلامیہ (Suit for Declaration) دائر کرنے کے لیے عمومی طور پر مدت چھ سال مقرر ہے۔
ریونیو ریکارڈ کی سادہ درستی
عدالت نے واضح کیا کہ اگر معاملہ صرف ریونیو ریکارڈ کی سادہ تصحیح (simple correction of revenue record) سے متعلق ہو تو یہ ایک مختلف نوعیت کا معاملہ ہوتا ہے۔
ہر نئی غلط انٹری نیا سببِ دعویٰ
عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ ریکارڈِ حقوق میں ہر نئی غلط انٹری (fresh wrong entry) ایک نیا سببِ دعویٰ (fresh cause of action) پیدا کرتی ہے، بشرطیکہ متاثرہ فریق:
قبضہ بطور مالک
عدالت نے یہ شرط بھی عائد کی کہ متاثرہ شخص اس جائیداد پر حقیقی یا علامتی قبضہ (physical or symbolic possession) بطور مالک رکھتا ہو۔
قانونی اہمیت
عدالت نے قرار دیا کہ ایسے حالات میں دعویٰ محض وقت گزرنے کی بنیاد پر ناقابلِ سماعت قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ہر نئی غلط انٹری ازخود ایک نیا قانونی حقِ رجوع (right to sue) پیدا کرتی ہے۔
خلاصۂ اصول
عدالتِ عظمیٰ نے اصول وضع کیا کہ جہاں قبضہ برقرار ہو اور معاملہ محض ریونیو ریکارڈ کی درستی کا ہو، وہاں Limitation ہر نئی غلط انٹری سے دوبارہ شروع ہو سکتی
ہے۔
سال 2017 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلہ دیا جس میں لمیٹیشن ایکٹ 1908 کے آرٹیکل 120 کے تحت دعویٰ برائے اعلامیہ (Suit for Declaration) کی مدت اور ریونیو ریکارڈ میں غلطیوں کے اثرات کو واضح کیا گیا۔ مقدمہ اس نکتہ پر مرکوز تھا کہ جب کسی جائیداد کے ریکارڈ میں کوئی غلط اندراج ہو، تو متاثرہ فریق کے لیے قانونی دعویٰ دائر کرنے کی مدت کب شروع ہوتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ عام طور پر آرٹیکل 120 کے تحت دعویٰ برائے اعلامیہ چھ سال کے اندر دائر کیا جانا چاہیے۔ لیکن اگر معاملہ صرف ریونیو ریکارڈ کی سادہ درستی سے متعلق ہو، تو ہر نئی غلط اندراج ایک نیا سببِ دعویٰ (fresh cause of action) پیدا کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی جائیداد کے ریکارڈ میں بار بار غلط اندراج کیے جائیں، تو ہر بار متاثرہ فریق کو قانونی حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ نئی انٹری کے خلاف دوبارہ مقدمہ دائر کرے۔
عدالت نے مزید کہا کہ یہ اصول اس وقت تک لاگو ہوگا جب متاثرہ فریق اس جائیداد پر حقیقی یا علامتی قبضہ (physical or symbolic possession) بطور مالک رکھتا ہو۔ یعنی صرف ریکارڈ میں غلطی ہونا کافی نہیں، بلکہ فریق کو اس جائیداد پر قانونی یا عملی قبضہ ہونا ضروری ہے۔
یہ فیصلہ ایک اہم قانونی سبق فراہم کرتا ہے:
یہ فیصلہ ایک اہم قانونی سبق فراہم کرتا ہے: ہر نئی غلط اندراج اپنے ساتھ ایک نیا قانونی حق پیدا کرتی ہے، اور اس کے خلاف دعویٰ دائر کرنے کی مدت دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ اس طرح عدالت نے واضح کر دیا کہ ریونیو ریکارڈ کی تصحیح کے مقدمات میں Limitation کی مدت محض پرانی غلطیوں کے لیے ختم نہیں ہوتی بلکہ ہر نئی غلطی نئے مقدمے کی بنیاد بن سکتی ہے۔کہ ریونیو ریکارڈ کی ہر نئی غلطی کو قانونی طور پر نئے مقدمے کا جواز سمجھا جائے۔
یہ اصول خاص طور پر زمین اور جائیداد کے مقدمات میں اہمیت رکھتا ہے، جہاں ریکارڈ کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو نظر انداز کرنے سے مالک کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس فیصلے نے عدالتوں اور وکلا کے لیے ایک رہنمائی فراہم کی کہ ریونیو ریکارڈ کی ہر نئی غلطی کو قانونی طور پر نئے مقدمے کا جواز سمجھا جائے۔
Must read Part of Judgement.
2017 SCMR 1476
Generally, the time provided for filing a suit for a declaration under Art. 120 of the Limitation Act, 1908 is six years. In cases of simple correction of revenue record, every fresh wrong entry in the record of rights would provide the fresh cause of action provided the party aggrieved was in physical or symbolic possession of the property as owner. 2017SCMR1476
