G-KZ4T1KYLW3 Expiry of Tenancy Period and Eviction of Tenant without Express Consent of Landlord (PLD 2018 SC 81)

Expiry of Tenancy Period and Eviction of Tenant without Express Consent of Landlord (PLD 2018 SC 81)

Expiry of Tenancy Period and Eviction of Tenant without Express Consent of Landlord (PLD 2018 SC 81)



PLD 2018 SC 81 — مدتِ کرایہ ختم ہونے کے بعد کرایہ دار کی حیثیت اور بے دخلی

تمہید

کرایہ داری کے مقدمات میں ایک اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ جب کرایہ نامہ اپنی مقررہ مدت پوری کر لے تو اس کے بعد کرایہ دار کی قانونی حیثیت کیا رہتی ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے PLD 2018 SC 81 میں اسی بنیادی نکتے کو واضح کرتے ہوئے کرایہ دار اور مالکِ مکان کے حقوق و فرائض کا تعین کیا ہے، خصوصاً اسلام آباد رینٹ ریسٹرکشن آرڈیننس، 2011 کے تناظر میں۔

مدتِ کرایہ کا خاتمہ اور اس کے اثرات

عدالتِ عظمیٰ کے مطابق جب کرایہ داری کی متعین مدت ختم ہو جاتی ہے تو کرایہ داری بذاتِ خود اختتام پذیر ہو جاتی ہے۔ اگرچہ کرایہ دار عملی طور پر کرایہ شدہ جگہ پر قابض رہ سکتا ہے، لیکن محض قبضہ برقرار رہنا کرایہ داری کے جاری رہنے کا ثبوت نہیں بنتا۔ قانونی طور پر ایسی صورت میں کرایہ دار کی حیثیت ایک جائز کرایہ دار کی نہیں رہتی۔

مالکِ مکان کی صریح رضامندی کی اہمیت

فیصلے میں اس اصول کو نمایاں کیا گیا کہ کرایہ داری میں توسیع کے لیے مالکِ مکان کی صریح (express) رضامندی ناگزیر ہے۔ خاموشی، عدمِ اعتراض یا وقتی برداشت کو کرایہ داری میں توسیع نہیں سمجھا جا سکتا۔ جب تک مالکِ مکان واضح طور پر کرایہ داری بڑھانے پر رضامند نہ ہو، کرایہ دار کی موجودگی غیر مجاز شمار ہو گی۔

شرائطِ کرایہ داری کی خلاف ورزی

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مدت ختم ہونے کے بعد، مالکِ مکان کی صریح اجازت کے بغیر قابض رہنا کرایہ داری کی شرائط کی خلاف ورزی ہے۔ اس خلاف ورزی کے نتیجے میں کرایہ دار اسلام آباد رینٹ ریسٹرکشن آرڈیننس، 2011 کی دفعہ 17(2)(ii)(b) کے تحت بے دخلی کا ذمہ دار ٹھہرتا ہے۔

قانونی نتیجہ

یہ فیصلہ اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ مدت پوری ہونے کے بعد کرایہ دار کا قبضہ خود بخود محفوظ نہیں رہتا۔ اگر کرایہ داری کی باقاعدہ تجدید یا مالکِ مکان کی واضح رضامندی ثابت نہ ہو تو مالکِ مکان کو قانون کے تحت بے دخلی کا حق حاصل ہے، اور کرایہ دار کو قانونی تحفظ حاصل نہیں رہتا۔

خلاصہ

PLD 2018 SC 81 کرایہ داری کے قانون میں ایک رہنما فیصلہ ہے جو واضح کرتا ہے کہ:
مدتِ کرایہ کے خاتمے کے بعد کرایہ داری ختم ہو جاتی ہے؛
محض قبضہ برقرار رکھنا توسیعِ کرایہ داری نہیں؛
مالکِ مکان کی صریح رضامندی کے بغیر قبضہ غیر مجاز ہے؛
ایسی صورت میں کرایہ دار دفعہ 17(2)(ii)(b) کے تحت بے دخل کیا جا سکتا ہے۔
یہ فیصلہ کرایہ داری کے معاملات میں قانونی یقین اور وضاحت فراہم کرتا ہے اور فریقین کو اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتا ہے۔

Must read Judgement


PLD 2018 SC 81

After expiration of tenancy period, a tenant though could continue to hold over the possession of the rented premises, but his tenancy was rendered invalid, in that, it had come to an end, and if there was no express consent of the Landlord to extend the tenancy period the tenant shall be guilty of having infringed the conditions of tenancy, rendering him liable to be evicted under S-17(2)(ii)(b) of the Islamabad Rent Restriction Ordinance, 2011.


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

Post a Comment

Previous Post Next Post