Comparison of Signatures Without Expert Opinion
 |
| Handwriting comparison. |
عدالت کی جانب سے دستخطوں کا موازنہ
احتیاط کا لازمی اصول — 2026 SCMR 171
تعارف
قانونی مقدمات میں دستخطوں یا تحریر کی صحت اکثر فیصلے کا بنیادی نکتہ بن جاتی ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال نہایت اہم ہے کہ آیا عدالت خود دستخطوں کا موازنہ کر سکتی ہے یا اس کے لیے ماہر کی رائے ضروری ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس سوال کا واضح جواب 2026 SCMR 171 میں دیا ہے۔
مقدمے کے حقائق
اس مقدمے میں دستخطوں کی صحت بنیادی تنازع تھی۔ ماتحت عدالت نے متنازعہ دستخطوں کا موازنہ خود کیا اور کسی handwriting expert کی رائے کے بغیر فیصلہ صادر کر دیا، جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔
قانونی پس منظر: آرٹیکل 84 قانونِ شہادت
آرٹیکل 84 قانونِ شہادت عدالت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ تسلیم شدہ اور متنازعہ دستخطوں یا تحریر کا موازنہ کر سکے۔ تاہم یہ اختیار اپنی نوعیت میں فنی اور حساس ہے اور محتاط استعمال کا تقاضا کرتا ہے۔
سپریم کورٹ کا مؤقف
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ عدالت کو دستخطوں کے موازنہ کا قانونی اختیار حاصل ہے، مگر جج handwriting expert نہیں ہوتا۔ محض ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر دستخطوں کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا خطرناک اور غیر یقینی عمل ہے۔
ماہر کی رائے کی اہمیت
عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ دستخط یا تحریر کا تنازع ایک تکنیکی معاملہ ہے جس میں handwriting expert کی رائے کو ترجیح دینا انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ عدالت کی جانب سے خود کیا گیا موازنہ زیادہ سے زیادہ ضمنی مدد فراہم کر سکتا ہے۔
احتیاط کا اصول (Rule of Prudence)
سپریم کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ عدالت جب بھی آرٹیکل 84 کے اختیار کو استعمال کرے تو اسے انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ ماہر کے بغیر کیا گیا موازنہ عام طور پر قابلِ اعتماد نتیجہ فراہم نہیں کرتا۔
فیصلے کی عملی اہمیت
یہ فیصلہ خاص طور پر ان مقدمات میں رہنمائی فراہم کرتا ہے جہاں معاہدات، رسیدیں، مختار نامہ، وصیت یا دیگر دستاویزات دستخطوں کی بنیاد پر متنازعہ ہوں۔ عدالتوں کے لیے یہ فیصلہ ایک اہم نظیر ہے۔
نتیجہ
2026 SCMR 171 اس اصول کو مستحکم کرتا ہے کہ عدالت دستخطوں کا موازنہ کر سکتی ہے، مگر بغیر ماہر کی رائے کے اس بنیاد پر فیصلہ کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہو سکتا ہے۔ فنی معاونت کے بغیر انصاف کا معیار برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
Must read Judgement
2026 SCMR 171
Art. 84---Comparison of handwriting or signatures by court---Scope---Court making comparison on its own motion without any expert---Cautious approach---Courts have the power to compare the admitted signatures with the ones in dispute---But the rule of prudence is that comparison of signatures by courts as a mode of ascertaining the truth should be used with great care and caution---Where a Judge compares the handwriting or signatures with other documents which are produced before him and which are not challenged as fabricated, such a process of comparison by the court upon its own initiative and without the guidance of an expert is hazardous and recognizably inconclusive.
C.A. No. 132-L of 2013
Tasneem Abas vs ADJ
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.