High Court Allows Additional Evidence to Ensure Complete Justice in Civil Case 2025 C L C 452
ہائی کورٹ نے اضافی شواہد کی اجازت دی تاکہ انصاف مکمل ہو –
2025 CLC 452
اضافی شہادت اور اپیلیٹ کورٹ کے اختیارات
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ
(2025 C L C 452)
تمہید
سول مقدمات میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ فریقین سے ٹرائل کے دوران بعض اہم دستاویزات یا شہادتیں پیش نہیں ہو پاتیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اپیل کے مرحلے پر اضافی شہادت کی اجازت دی جا سکتی ہے؟ لاہور ہائی کورٹ، ملتان بنچ نے اس اہم قانونی نکتے پر واضح اور اصولی فیصلہ دیا ہے۔مقدمے کا پس منظر
مدعیان نے اعلانیہ دعویٰ اور دائمی حکمِ امتناع کے لیے مقدمہ دائر کیا، جو ٹرائل کورٹ نے ان کے حق میں ڈگری کر دیا۔
اس فیصلے کے خلاف مدعا علیہان نے اپیل دائر کی اور دورانِ اپیل Order XLI Rule 27 CPC کے تحت اضافی شہادت پیش کرنے کی اجازت مانگی، مگر لوئر اپیلیٹ کورٹ نے یہ درخواست مسترد کر دی۔
قانونی سوال
کیا اپیلیٹ کورٹ اضافی شہادت کی اجازت دینے سے انکار کر سکتی ہے، حالانکہ وہ شہادت:
تنازع کے حل کے لیے ضروری ہو
مستند اور قابلِ اعتماد ہو
انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتی ہو؟
لاہور ہائی کورٹ کا مؤقف
لاہور ہائی کورٹ نے لوئر اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کو غلط قانونی استعمالِ اختیار قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا اور قرار دیا کہ:
تنازع کے حل کے لیے ضروری ہو
مستند اور قابلِ اعتماد ہو
انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتی ہو؟
لاہور ہائی کورٹ کا مؤقف
لاہور ہائی کورٹ نے لوئر اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کو غلط قانونی استعمالِ اختیار قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا اور قرار دیا کہ:
اہم قانونی اصول
انصاف کے مفاد میں اضافی شہادت کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
عدالتیں کسی بھی مرحلے پر ضروری ریکارڈ اور گواہ طلب کرنے کے اختیار سے محروم نہیں ہوتیں۔
اگر کوئی شہادت متعلقہ، مستند اور قابلِ اعتماد ہو تو اسے محض اس بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ پہلے پیش نہیں کی گئی۔
عدالتیں کسی بھی مرحلے پر ضروری ریکارڈ اور گواہ طلب کرنے کے اختیار سے محروم نہیں ہوتیں۔
اگر کوئی شہادت متعلقہ، مستند اور قابلِ اعتماد ہو تو اسے محض اس بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ پہلے پیش نہیں کی گئی۔
پاکستان کی عدالتی نظیر میں اب “lacuna filling” (خلا پُر کرنے) پر مکمل پابندی کا تصور باقی نہیں رہا۔
عدالت کا فرض ہے کہ وہ ایسا مواد ریکارڈ پر لائے جو مکمل اور حقیقی انصاف کے حصول میں معاون ہو۔
عدالت کا حتمی فیصلہ
لوئر اپیلیٹ کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیا گیا۔
مدعیان کو بھی حق دیا گیا کہ وہ جوابی شہادت پیش کر سکیں۔
یوں ریویژن درخواست منظور کر لی گئی۔
مدعیان کو بھی حق دیا گیا کہ وہ جوابی شہادت پیش کر سکیں۔
یوں ریویژن درخواست منظور کر لی گئی۔
مدعا علیہان کو اضافی دستاویزی اور زبانی شہادت پیش کرنے کی اجازت دی گئی۔
عدالتی نظائر
عدالت نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے متعدد مستند فیصلوں پر انحصار کیا، جن میں یہ اصول واضح کیا گیا کہ:عدالتیں تکنیکی رکاوٹوں کے بجائے انصاف کو ترجیح دیں گی۔
نتیجہ
یہ فیصلہ سول مقدمات میں ایک اہم رہنما اصول فراہم کرتا ہے کہ:اپیلیٹ کورٹ کا کردار محض تکنیکی نہیں بلکہ انصاف کی تکمیل ہے۔
مستند اور ضروری شہادت کو ریکارڈ پر آنے سے روکنا انصاف کے منافی ہے۔
یہ فیصلہ وکلا، ججز اور قانون کے طلبہ کے لیے Order 41 Rule 27 CPC کی درست تشریح اور عملی اطلاق کی بہترین مثال ہے۔
پاکستانی عدالتی نظام
پاکستانی عدالتی نظام میں شواہد کو مکمل انصاف کے لیے ریکارڈ پر لانے کا اصول ایک مرتبہ پھر واضح ہو گیا ہے۔ کیس Mst. Ilyas Akhtar and others vs. Province of Punjab and others (Civil Revision No. 250 of 2017) میں، مدعی/مطالب کنندگان نے ٹرائل کورٹ میں
دعوی برائے ڈیکلریشن اعلامیہ اور روک تھام جیتا۔
اپیل کے دوران مدعا علیہ/petitioners نے اضافی شواہد پیش کرنے کی درخواست کی، لیکن لوئر اپیلیٹ کورٹ نے درخواست مسترد کر دی۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر انصاف کے تقاضے اور مقدمے کی نوعیت اضافی شواہد کا تقاضا کریں تو انہیں ریکارڈ پر لانے سے نہیں روکا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مربوط، حقیقی اور قابل اعتماد شواہد عدالت میں پیش کرنے سے فریقین کو نہیں روکا جا سکتا، چاہے شواہد جمع کرنے میں کوئی تکنیکی یا قانونی کمی ہوئی ہو۔
ہائی کورٹ نے لوئر اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مدعا علیہ کو اضافی شواہد ریکارڈ کرنے کی اجازت دی۔ ساتھ ہی مدعی کو بھی حق دیا گیا کہ وہ قانونی شواہد کے ذریعے جواب پیش کر سکے، تاکہ مقدمہ انصاف کے تقاضے کے مطابق مکمل طور پر حل ہو سکے۔
یہ فیصلہ پاکستان کی عدالتی روایت میں شواہد کے سلسلے میں ایک اہم معیار قائم کرتا ہے، اور واضح کرتا ہے کہ عدالتیں تمام ضروری شواہد کو ریکارڈ پر لانے اور خلا پر پُر کرنے کی مکمل طاقت رکھتی ہیں۔
اہم نکات مختصر:
ہائی کورٹ نے قرار دیا: اگر انصاف کے تقاضے اضافی شواہد کا تقاضا کریں تو اجازت دی جائے۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا: عدالتیں دونوں فریقین سے شواہد طلب کر سکتی ہیں تاکہ خلا پر کیے جائیں۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا: حقیقی اور متعلقہ شواہد کو ریکارڈ پر لانے سے نہیں روکا جا سکتا۔
ہائی کورٹ نے قرار دیا: لوئر اپیلیٹ کورٹ کا حکم کالعدم اور اضافی شواہد درج کرنے کی ہدایت۔
Must read Judgement
2025 C L C 452
[Lahore (Multan Bench)]
Before Ahmad Nadeem Arshad, J
Mst. ILYAS AKHTAR and others ---Petitioners
Versus
PROVINCE OF PUNJAB and others ---Respondents
Civil Revision No. 250 of 2017, decided on 13th December, 2022.
Civil Procedure Code (V of 1908)---
----O. XLI, R. 27---Specific Relief Act (I of 1877), Ss. 42 & 54---Suit for declaration and injunction---Additional evidence, production of---Pre-condition---Appellate Court, jurisdiction of---Filling in lacuna---Scope---Suit filed by respondents/plaintiffs was decreed in their favour by Trial Court---During appeal, petitioners/defendants sought permission to adduce additional evidence but Lower Appellate Court declined the request---Validity---Where interest of justice and requirement of Court in adjudicating on the matter demand that such additional evidence is necessary, then the same should be allowed and recorded---Courts are not denuded of the power to summon all necessary record and also to summon witnesses so as to supply omissions from both sides---If a piece of evidence is relevant and pertinent for the decision of any issue, and it is genuine and reliable, it should not be stopped from being brought on record merely because in process employed for collection of material an irregularity or an illegality was committed---Concept of bar against filling gaps is no more available in jurisprudence of Pakistan---Courts should collect and record evidence which is authentic, consistent with pleadings and relevant to findings so as to advance and do complete justice between the parties---Interest of justice demanded that petitioners/defendant could have been allowed to bring on record documents as well as oral evidence which were otherwise of unimpeachable authenticity for resolving controversy and meeting ends of justice---Lower Appellate Court failed to exercise jurisdiction in accordance with law by disallowing the application---High Court in exercise of revisional jurisdiction set aside order passed by Lower Appellate Court and allowed application for additional evidence filed by petitioners/defendants---High Court directed Lower Appellate Court to record additional evidence of petitioners/defendants and respondents/plaintiffs would have a right to produce any lawful evidence in rebuttal---Revision was allowed accordingly.
Asadullah Khan v. Abdul Karim 2001 AC 290; Defence Science and Technology Organization through Director General v. Arif Engineering International through Sole Proprietor 2021 CLC 103; Trustees of the Port of Karachi v. Muhammad Saleem 1994 SCMR 2213; Muhammad Idrees and others v. Muhammad Pervaiz and others 2010 SCMR 5; H.M. Saya and Co v. Wazir Ali Industries Limited PLD 1969 SC 65; Bisvil Spinners (Pvt) Ltd. v. Pakistan through Secretary Ministry of Finance, Islamabad and others PLD 1992 SC 96; Syed Phul Shah v. Muhammad Hussin and 10 others PLD 1991 SC 1051; Ahmad Ashraf v. University of the Punjab 1988 SCMR 1782; Mst. Fazal Jan v. Roshan Din and 2 others PLD 1992 SC 811; Zar Wali Shah v. Yousaf Ali Shah and 9 others 1992 SCMR 1778; Muhammad Tariq and others v. Mst. Shamsa Tanveer and others PLD 2011 SC 151; Commissioner Multan Division, Multan and others v. Muhammad Hussain and others 2015 SCMR 58; Syed Sharif Ul Hassan through L.Rs. v. Hafiz Muhammad Amin and others 2012 SCMR 1258; Muhammad Azam v. Muhammad Iqbal and others PLD 1984 SC 95 and Khurshid Ali and 6 others v. Shah Nazar PLD 1992 SC 822 rel.
Malik Javed Akhtar Wains for Petitioners.
Maher Muhammad Imtiaz Hussain Mirali, Assistant Advocate General Punjab for Respondent No.1.
Ch. Ghulam Din Aslam for Respondents Nos. 2 to 7.
