Supreme Court Rules: Recruitment Committee Cannot Exceed Its Mandate
ریکروٹمنٹ کمیٹی اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہیں کر سکتی – سپریم کورٹ کا فیصلہ
تعارف
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ بھرتی کے عمل (Recruitment Process) میں شفافیت اور قواعد کی مکمل پابندی لازمی ہے۔ اگر کمیٹی اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کرے، غیر منظور شدہ یا غیر اشتہار شدہ پوسٹوں پر بھرتی کی کوشش کرے تو ایسا پورا عمل کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
کیس کا پس منظر
اس مقدمے میں درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ بھرتی کمیٹی نے ایسے اقدامات کیے جو نہ تو اشتہار میں شامل تھے اور نہ ہی متعلقہ قواعد و ضوابط کے مطابق تھے۔ کمیٹی نے اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے کچھ پوسٹوں کو شامل اور کچھ کو نکالنے کی کوشش کی۔
سپریم کورٹ کے مشاہدات
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ Rule 3 of Baluchistan Civil Servants (Appointment, Promotion and Transfer) Rules, 1979 بھرتی، پروموشن اور ٹرانسفر کے مکمل طریقہ کار کو واضح کرتا ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ریکروٹمنٹ کمیٹی صرف اشتہار شدہ اور منظور شدہ (Sanctioned) پوسٹوں پر کارروائی کر سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ کمیٹی اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کرتے ہوئے نہ تو نئی پوسٹ شامل کر سکتی ہے اور نہ ہی کوئی پوسٹ ختم کر سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بھرتی کے عمل میں اس قسم کی بے ضابطگی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اس لیے پورا ریکروٹمنٹ پروسیس منسوخ کیا گیا۔
نتیجہ
یہ فیصلہ سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے عمل کے لیے ایک اہم عدالتی نظیر ہے۔ عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ شفافیت، قواعد کی پابندی اور میرٹ سے انحراف کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
Must read Judgement
2025 SCMR 656
(1) Rule 3 of Baluchistan Civil Servants (APT) Rules, 1979, laid down the method of promotion, transfer, and initial appointment
(2) The Recruitment Committee cannot act beyond its mandate
(3) It cannot add or subtract any post beyond the (naeem)sanctioned or advertised posts
(4) The recruitment process was scrapped on valid reasons.
