G-KZ4T1KYLW3 Photocopy as Evidence Requires Proof of Original's Loss – 2025 MLD 1165"

Photocopy as Evidence Requires Proof of Original's Loss – 2025 MLD 1165"

 value of a Photocopy as Evidence Requires Proof of Original's Loss – 2025 MLD 1165.


📄 فوٹو کاپی بطور شہادت — صرف ثانوی ثبوت کے طور پر قابل قبول🔖 (2025 MLD 1165 کے تناظر میں قانونی تجزیہ)


پس منظر:


عدالت عالیہ نے حالیہ فیصلہ 2025 MLD 1165 میں ایک اہم اصول کو واضح کیا ہے کہ کسی بھی دستاویز کی فوٹو کاپی کو بطور شہادت اس وقت تک قبول نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اصل دستاویز کی غیر موجودگی یا ضیاع کو واضح اور معتبر شواہد کے ذریعے ثابت نہ کیا جائے۔

قانونی مسئلہ:


کیا بغیر کسی ثبوت کے، صرف فوٹو کاپی کو عدالت میں پیش کر کے اسے قابلِ قبول شہادت تسلیم کیا جا سکتا ہے؟

عدالتی فیصلہ:


عدالت نے قرار دیا کہ:

> "Photocopy of any document cannot be exhibited and read in evidence except as a secondary evidence. In absence of any evidence with regard to loss of original document, photocopy, even if exhibited without objection, is not admissible in evidence."
(2025 MLD 1165)




---

اہم نکات:


1. فوٹو کاپی ایک ثانوی شہادت ہے:

قانون شہادت (Qanun-e-Shahadat Order, 1984) کے تحت، اصل دستاویز کے بغیر فوٹو کاپی کو صرف ثانوی شہادت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، وہ بھی مخصوص شرائط کے تحت۔


2. اصل دستاویز کی غیر موجودگی لازمی ہے:

اگر کوئی فریق یہ دعویٰ کرے کہ اصل دستاویز گم ہو گئی ہے یا دستیاب نہیں، تو اسے اس دعوے کے حق میں واضح ثبوت فراہم کرنا ہوگا، جیسے:

گواہ کا بیان

ایف آئی آر (اگر دستاویز چوری ہو جائے)

متعلقہ ریکارڈ سے تصدیق

3. بغیر اعتراض کے پیش کردہ فوٹو کاپی بھی ناقابل قبول:

اگر مخالف فریق نے فوٹو کاپی کے پیش کیے جانے پر اعتراض نہ کیا ہو، تب بھی قانون کی نگاہ میں وہ فوٹو کاپی قابل قبول شہادت نہیں بن سکتی جب تک کہ قانوناً درکار شرائط پوری نہ ہوں۔

4. قابل قبولیت اور نمائش دو الگ چیزیں ہیں:

کسی دستاویز کی صرف "نمائش" (Exhibit) اس کو admissible evidence نہیں بناتی۔ قابلِ قبول شہادت بننے کے لیے قانونی شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔

قانونی اثرات:


یہ فیصلہ ان تمام مقدمات کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے جہاں دستاویزات بطور ثبوت پیش کی جاتی ہیں، خاص طور پر:

سول مقدمات

خاندانی مقدمات

کرمنل ٹرائلز

تجارتی تنازعات

مشورہ:


کسی بھی مقدمے میں دستاویزی شہادت پیش کرتے وقت:

ہمیشہ اصل دستاویز پیش کریں۔

اگر اصل موجود نہ ہو تو اس کی عدم دستیابی کے شواہد فراہم کریں۔

صرف فوٹو کاپی پر انحصار نہ کریں جب تک کہ وہ قانوناً ثانوی شہادت کے طور پر قابل قبول نہ ہو۔

نتیجہ:


2025 MLD 1165 ایک اہم عدالتی فیصلہ ہے جو ثبوت کے قانون میں وضاحت لاتا ہے کہ ثبوت میں اصل دستاویز کو فوقیت حاصل ہے، اور فوٹو کاپی کو صرف مخصوص حالات میں بطور ثانوی شہادت قبول کیا جا سکتا ہے۔


Must read Judgement 


Document s---Photocopy---Scope---Photocopy of any Document cannot be exhibited and read in evidence except as a secondary evidence---In absence of any evidence with regard to loss of any Document , photocopy of the same, even if taken on record and exhibited without any objection, would not qualify the Document as admissible in evidence.
2025 MLD 1165



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.



































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post