G-KZ4T1KYLW3 Forensic Value of Fingerprints – Supreme Court of Pakistan on Dactyloscopy (2025 SCMR 955)

Forensic Value of Fingerprints – Supreme Court of Pakistan on Dactyloscopy (2025 SCMR 955)

Forensic Value of Fingerprints – Supreme Court of Pakistan on Dactyloscopy (2025 SCMR 955)


فنگر پرنٹس کی قانونی حیثیت اور فارنزک اہمیت – سپریم کورٹ کا فیصلہ 2025 SCMR 955

تعارف


قانونی نظام میں شہادت کی اہمیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سائنسی ترقی نے عدالتوں کو ایسے ذرائع فراہم کیے ہیں جو کسی بھی مقدمے میں سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک معتبر ذریعہ فنگر پرنٹس کے ذریعے شناخت (Dactyloscopy) ہے۔

پس منظر


آئین کے آرٹیکلز 59 اور 84 کے تحت شہادت اور سائنسی ذرائع سے فائدہ اٹھانے کا سوال سامنے آیا۔ عدالت میں یہ بحث ہوئی کہ کیا فنگر پرنٹس کو قانونی طور پر بطور ثبوت قبول کیا جا سکتا ہے؟۔

سپریم کورٹ کا مشاہدہ


سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وضاحت کی کہ:

داکٹیلوسکوپی یعنی فنگر پرنٹس کے ذریعے شناخت ایک مسلمہ سائنسی اصول ہے۔

دنیا بھر میں یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ دو افراد کے فنگر پرنٹس ایک جیسے نہیں ہو سکتے۔

فنگر پرنٹس زندگی بھر تبدیل نہیں ہوتے، لہٰذا شناخت کے لیے یہ ایک مضبوط اور مستقل ذریعہ ہے۔

یہ طریقہ نہ صرف کم لاگت بلکہ سادہ اور مؤثر ہے۔

عدالتوں کے لیے ضروری ہے کہ فنگر پرنٹس کے تجزیے کو بطور فارنزک شہادت سنجیدگی سے لیا جائے۔


کیس کی کہانی


ایک مقدمے میں فنگر پرنٹس کو بطور شہادت پیش کیا گیا۔ مدعا علیہ نے اعتراض اٹھایا کہ یہ شہادت ناقابلِ اعتبار ہے۔ تاہم، ماہرینِ فارنزک نے بتایا کہ فنگر پرنٹس کی انفرادیت اور استحکام سائنس سے ثابت شدہ حقیقت ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ دلائل تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ فنگر پرنٹس کے ذریعے شناخت ایک یقینی اور قابلِ بھروسہ ذریعہ ہے اور عدالتوں کو اس پر اعتماد کرنا چاہیے۔

اہم نکات


سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ:

1. فنگر پرنٹس ہمیشہ منفرد رہتے ہیں۔


2. ان کی ساخت انسان کی پوری زندگی میں نہیں بدلتی۔


3. داکٹیلوسکوپی ایک معتبر، سستا اور مؤثر طریقہ ہے۔


4. عدالتوں کو فنگر پرنٹس کو بطور فارنزک ثبوت تسلیم کرنا چاہیے۔

نتیجہ


یہ فیصلہ مستقبل کے مقدمات میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ فنگر پرنٹس کی بنیاد پر شناخت کو قانونی طور پر قبول کر کے عدالت نے فارنزک سائنس کے کردار کو مزید مستحکم کیا ہے۔ اس سے نہ صرف انصاف کے معیار میں بہتری آئے گی بلکہ جھوٹے مقدمات اور غلط شناخت کے امکانات بھی کم ہوں گے۔


Must read part of Judgement



zArts. 59 & 84---Fingerprints---Forensic analysis---Dactyloscopy---Object, purpose and scope---Practice of utilizing fingerprints for identification, called dactyloscopy, has gained widespread acceptance and has become an indispensable tool to law due to its straightforward nature and cost-effectiveness---Dactyloscopy operates on the foundational principle that no fingerprints are alike and that an individual's fingerprint patterns remain constant throughout life---Such uniqueness makes fingerprints an invaluable asset in forensic science
2025 SCMR 955



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.



































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post