🏛️ Right to Summon Marginal Witnesses and Arbitrator Despite No Prior Witness List – Supreme Court Clarifies in 2020 SCMR 2155.
گواہوں کی فہرست وقت پر نہ دی گئی ہو۔ اس فیصلے نے کے بعد گواہوں کی طلبی کے معاملے کو مزید واضح کر دیا ہے۔
📚 فیصلہ: 2020 SCMR 2155
عدالت: سپریم کورٹ آف پاکستان
موضوع: گواہوں کی طلبی اور CPC کی دفعہ Order XVI Rule 1 کی تشریح
⚖️ کیس کی مختصر کہانی:
مدعی نے ایک دیوانی مقدمہ دائر کیا جس میں ایک تحریری معاہدے کا ذکر موجود تھا۔ اس معاہدے کو بطور ثبوت شہادت میں پیش کر دیا گیا اور اسے Exhibit بھی کروا دیا گیا۔ یہ معاہدہ دو دستخط کنندگان (Marginal Witnesses) اور ایک ثالث (Arbitrator) پر مشتمل تھا۔ مدعی نے جب ان گواہوں کو عدالت میں پیش کرنے کی کوشش کی تو اعتراض اٹھایا گیا کہ Order XVI Rule 1 CPC کے تحت گواہوں کی فہرست عدالت میں پہلے سے جمع نہیں کروائی گئی۔
مدعی نے اس پابندی سے استثنیٰ کی اجازت طلب کی تاکہ وہ معاہدے کے ان لازمی گواہوں کو پیش کر سکے۔ ابتدائی عدالتوں نے یہ درخواست مسترد کر دی، جس کے بعد مدعی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
🔍 اہم قانونی نکات:
1️⃣ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ Order XVI Rule 1 کے تحت گواہوں کی فہرست جمع کروانا ضروری ہوتا ہے، لیکن اگر معاہدہ خود مدعی کی طرف سے عدالت میں Exhibit ہو چکا ہو، تو اس معاہدے کے اہم گواہوں کو بعد میں پیش کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
2️⃣ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ Marginal Witnesses اور Arbitrator کی گواہی براہ راست معاہدے سے متعلق تھی، اس لیے ایسے گواہوں کی طلبی کو روکا نہیں جا سکتا۔
3️⃣ عدالت نے قرار دیا کہ مدعی شہادت کے دن ایسے گواہان کو بغیر پیشگی درخواست کے بھی عدالت میں پیش کرنے کا حق رکھتا ہے، بشرطیکہ وہ معاہدے کے لازمی فریق ہوں۔
4️⃣ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ٹرائل کورٹ مدعی کو اجازت دے کہ وہ مذکورہ تینوں گواہان کو ایک ہی دن عدالت میں پیش کرے تاکہ ان کی شہادت مکمل ہو سکے اور تاخیر سے بچا جا سکے۔
✅ فیصلہ:
مدعی کی اپیل منظور کر لی گئی۔ عدالت نے اجازت دی کہ گواہوں کو ایک ہی دن میں پیش کر کے شہادت ریکارڈ کی جائے۔ یوں ابتدائی عدالتی پابندی کو ختم کر دیا گیا۔
📌 قانونی اہمیت:
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ اگر کسی معاہدے کو خود مدعی نے شہادت میں پیش کر دیا ہو، تو اس معاہدے کے لازمی گواہوں کو عدالت میں طلب کرنا اس کا حق ہے، چاہے گواہوں کی فہرست وقت پر نہ دی گئی ہو۔ اس فیصلے نے PLD 2013 SC 257 کے بعد گواہوں کی طلبی کے معاملے کو مزید واضح کر دیا ہے۔
Must read judgement
2020 SCMR 2155
An important judgement on the issue of summoning of witnesses after PLD 2013 SC 257
Civil Procedure Code (V of 1908)--- ---0. XVI, R. 1---Summoning and attendance of witnesses---List of witnesses presented in court---Embargo on calling any witness outside the said list--Marginal witnesses and arbitrator of agreement---In the present case list of witnesses as required under 0. XVI, R. 1(1), C.P.C. was not available on record--Consequently, an application was moved by the plaintif seeking permission to produce two marginal witnesses.........Held, that the witnesses sought to be produced were marginal witnesses of the agreement and the arbitrator of the said agreement---Said agreement which found mention in the plaint, had been produced and exhibited by the plaintif in his evidence---In suth circumstances the plaintiff was entitled to produce witnesses on his own motion as of right on the day of recording of evidence even if no application had been made--Supreme Court directed that the Trial Court shall allow the production of two witnesses to the agreement and the arbitrator, and the plaintiff shall produce all the witnesses together for recording of the evidence on the same day--- Petition for leave to appeal was converted into appeal and allowed.
