Limitation Law Prevails: Section 12(2) CPC Application Dismissed as Time-Barred | 2025 CLC 684.
دفعہ 12(2) کی درخواست مدتِ میعاد سے باہر قرار — قانونِ میعاد کا سخت اطلاق
Ijaz Ahmad Khan v. Muhammad Bootay Khan | 2025 CLC 684 | PLJ 2024 Lahore 156
تعارف:
قانونِ میعاد (Limitation Law) کسی بھی عدالتی نظام کی بنیادوں میں سے ایک اہم ستون ہے۔ یہ قانون صرف فریقین کے حقوق کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ ریاستی نظم و ضبط، امن، اور عدالتی عمل کی مؤثریت کے لیے بھی انتہائی ضروری سمجھا جاتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے C.R. No. 78446/2023 کے مقدمہ میں Ijaz Ahmad Khan کی جانب سے دائر کردہ دفعہ 12(2) سی پی سی کی درخواست کو محض اس بنا پر خارج کر دیا کہ یہ قانونی مدت گزرنے کے بعد دائر کی گئی تھی، اور اس تاخیر کی کوئی معقول وجہ پیش نہ کی گئی۔
مختصر پس منظر:
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈگری میں دھوکہ دہی اور غلط بیانی ہوئی ہے، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔ تاہم، عدالت نے دیکھا کہ یہ اعتراض قانون میں مقرر کردہ مدت کے بعد دائر کیا گیا، اور درخواست گزار نے اس تاخیر کی کوئی تسلی بخش وضاحت نہیں دی۔
عدالتی مشاہدات:
عدالت نے درج ذیل نکات پر زور دیا:
1. قانونِ میعاد کی نوعیت روک تھام کی ہے تاکہ مقدمات غیر معینہ مدت تک نہ چلیں اور لوگوں میں قانونی یقین (legal certainty) پیدا ہو۔
2. اگر کوئی فریق مقررہ مدت میں عدالت سے رجوع نہ کرے تو دوسرے فریق کے حق میں ایک مستحکم قانونی حق (vested right) پیدا ہو جاتا ہے، جسے تاخیر سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
3. دفعہ 12(2) سی پی سی میں دی گئی سہولت ہمیشہ دستیاب نہیں ہوتی بلکہ اس کا استعمال مخصوص شرائط کے تحت اور بروقت کرنا ضروری ہوتا ہے۔
4. عدالت نے واضح الفاظ میں قرار دیا کہ یہ درخواست hopelessly time barred ہے، یعنی اتنی تاخیر سے دائر کی گئی کہ اسے سنا ہی نہیں جا سکتا۔
فیصلے کی قانونی اہمیت:
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ عدالتیں قانونِ میعاد کو ایک فنی تکنیکی اصول نہیں بلکہ ایک سبسٹینٹو (substantive) اصول سمجھتی ہیں، جو فریقین کے حقوق کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
نتیجہ:
یہ فیصلہ ایک وارننگ ہے اُن افراد کے لیے جو بغیر کسی جواز کے برسوں بعد عدالت سے رجوع کرتے ہیں۔ عدالت نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ "قانون اُن کی مدد نہیں کرتا جو اپنی مدد خود نہیں کرتے"۔ قانونِ میعاد کے تحت بروقت اقدامات کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے، ورنہ حاصل شدہ حقوق بھی ضائع ہو سکتے ہیں۔
قانونی حوالہ جات:
2025 CLC 684 – Lahore High Court
PLJ 2024 Lahore 156
C.R. No. 78446 of 2023
Ijaz Ahmad Khan vs Muhammad Bootay Khan
Section 12(2), Civil Procedure Code (CPC)
Must read judgement
2025 CLC 684
PLJ 2024 Lahore 156
Law of limitation is considered to be preventive in nature which serves as a major deterrent against the factors and elements which can affect peace, tranquility and due order of State and society and bar of limitation in litigation also brings forth valuable rights in favour of other party. The law of limitation requires that a person must approach a Court of law and take legal remedies with due care, diligence and within the time provided by the law, which is not the case in hand, hence, the application under Section 12(2) of C.P.C. was/is hopelessly time barred.
C.R. No. 78446 of 2023
IJAZ AHMAD KHAN versus MUHAMMAD BOOTAY KHAN
Tags
قانون معیاد کا مقصد۔
