Gift Mutation Cancelled Due to Fraud and Lack of Evidence — 2025 YLR 164 Lahore.
Gift Mutation Cancelled Due to Fraud and Lack of Evidence — 2025 YLR 164 Lahore
(ھبہ کا انتقال کی تبدیلی فراڈ اور ناقص ثبوت پر کالعدم قرار)
🔍 تعارف
پاکستانی عدالتی نظیروں میں خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے جعلی ھبہ کے معاملات ایک سنجیدہ مسئلہ رہے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے 2025 YLR 164 میں اسی نوعیت کے ایک مقدمے میں واضح کیا گیا کہ بغیر ٹھوس شواہد کے ھبہ کا دعویٰ نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ یہ قانونی وراثت کے حق پر حملہ ہے۔
🧾 کیس کا پس منظر
مدعی محمودہ بی بی نے اپنے تین بھائیوں کے خلاف سول مقدمہ دائر کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کی والدہ سرداران بی بی نے صرف بیٹوں کے حق میں جائیداد منتقل کی، جو ایک فراڈ اور دباؤ کے تحت ہوا ھبہ تھا۔ انہوں نے استدعا کی کہ Gift Mutation No.1315 (مورخہ 31-10-2002) کو کالعدم قرار دیا جائے۔
⚖️ عدالت کا مشاہدہ اور فیصلے کی بنیاد
لاہور ہائی کورٹ نے تفصیل سے شواہد اور قانونی اصولوں کا جائزہ لیتے ہوئے درج ذیل نکات پر فیصلہ دیا:
✅ 1. ھبہ کے تین بنیادی اجزاء
پیش کش (Offer)
قبولیت (Acceptance)
قبضہ (Delivery of possession)
مدعا علیہان یہ تینوں اجزاء ثابت کرنے میں ناکام رہے۔
✅ 2. وقت، جگہ، گواہان کا ذکر نہیں
ھبہ کے وقت، مقام، اور موجود گواہوں کی تفصیل نہ دعوے میں بیان کی گئی اور نہ شواہد سے ثابت ہوئی۔
✅ 3. بیٹیوں کو محروم کرنے کی کوئی معقول وجہ نہیں دی گئی
عدالت نے قرار دیا کہ صرف بیٹوں کو جائیداد دینا اور بیٹیوں کو محروم کرنا بذات خود مشتبہ عمل ہے۔
✅ 4. والدہ کی عمر اور حالات
سرداران بی بی اس وقت 75 سے 80 سال کی تھیں، بیٹوں کے زیر کفالت تھیں، اور ان کے پاس نہ آزادانہ مشورہ تھا اور نہ سمجھنے کا موقع۔
✅ 5. ریونیو ریکارڈ میں بے ضابطگیاں
پٹواری نے عطیہ دہندہ کی شناخت کے لیے CNIC نمبر درج نہیں کیا، اور یہ تسلیم کیا کہ وہ خاتون کو جانتا تک نہیں تھا۔
✅ 6. نچلی عدالتوں کی غلطی
عدالت نے واضح کیا کہ ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ کورٹ دونوں نے شواہد اور قانون کا درست اطلاق نہیں کیا، اس لیے نظرثانی میں ہائی کورٹ کو مداخلت کا اختیار حاصل تھا۔
📌 نتیجہ
عدالت نے Gift Mutation No.1315 کو کالعدم قرار دیا اور وراثت کے مطابق جائیداد کی تقسیم کا حکم دیا۔ اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے کئی حوالہ جات جیسے:
PLD 2022 SC 85 (Faqir Ali Case)
2016 SCMR 1417 (Peer Bakhsh Case)
2005 SCMR 1885 (Muhammad Boota Case)
کو بطور نظیر استعمال کیا گیا۔
👩⚖️ قانونی سبق
یہ فیصلہ ایک واضح پیغام ہے کہ:
> "کسی بھی خاتون کو اس کے وراثتی حق سے محروم کرنے کے لیے بنایا گیا جعلی ھبہ، عدالت میں قائم نہیں رہ سکتا۔"
📢 نتیجہ اخذ کریں
اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا کوئی معاملہ ہو رہا ہو جہاں جائیداد کو ھبہ کے ذریعے غیر منصفانہ طور پر منتقل کیا گیا ہو، تو قانونی کارروائی کے لیے مکمل شواہد جمع کریں اور عدالت سے رجوع کریں۔
