Bank Statement is Not Definite Information – Supreme Court of Pakistan Landmark Ruling on Section 122(5A.
بینک اسٹیٹمنٹ آمدن کا ثبوت نہیں – سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
📝 تعارف
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم مقدمے میں فیصلہ دیا ہے کہ بینک اسٹیٹمنٹ بذاتِ خود آمدن کا ثبوت نہیں۔ اس فیصلے سے ٹیکس دہندگان کے حقوق کا تحفظ ہوا ہے اور یہ طے کر دیا گیا ہے کہ بغیر واضح، مخصوص اور قابل تصدیق معلومات کے ٹیکس دہندہ کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
📌 مختصر کہانی
ایف بی آر نے "خداداد ہائٹس، اسلام آباد" کو نوٹس جاری کیا کہ ان کے بینک اکاؤنٹ میں موجود کریڈٹ انٹریز چھپی ہوئی آمدن (Undisclosed Income) ہیں۔ یہ کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 122(5A) کے تحت صرف بینک اسٹیٹمنٹ کی بنیاد پر کی گئی۔
ٹیکس دہندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بینک اسٹیٹمنٹ صرف لین دین کا ریکارڈ ہے، یہ آمدن کا براہ راست ثبوت نہیں۔ ماتحت عدالت، اسلام آباد ہائی کورٹ اور بالآخر سپریم کورٹ نے ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ایف بی آر کا مؤقف مسترد کر دیا۔
⚖️ عدالتی فیصلہ
سپریم کورٹ کے جسٹس محمد شفیع صدیقی نے فیصلہ دیتے ہوئے کہا:
> "بینک اسٹیٹمنٹ بذاتِ خود 'Definite Information' نہیں ہے جب تک اس کا آمدن سے واضح، مخصوص اور قابل تصدیق تعلق ثابت نہ ہو۔"
عدالت نے مزید کہا کہ محض قیاس یا شبہ کی بنیاد پر ازسرِ نو آمدنی کا تعین (ری اسسیسمنٹ) نہیں کیا جا سکتا۔
✅ اہم نکات
بینک اسٹیٹمنٹ صرف ایک مالیاتی ریکارڈ ہے، آمدنی کا خودکار ثبوت نہیں۔
سیکشن 122(5A) کے لیے معلومات کا آمدنی سے براہ راست، مخصوص اور قابل تصدیق تعلق ہونا ضروری ہے۔
محض شبہ یا عمومی معلومات پر ٹیکس نوٹس جاری کرنا غیرقانونی ہے۔
عدالت نے ایف بی آر کا مؤقف رد کرتے ہوئے ٹیکس دہندہ کو ریلیف دیا۔
🔍 فیصلے کا قانونی اثر
یہ فیصلہ اب نظیر (precedent) کے طور پر استعمال ہوگا۔ آئندہ ایف بی آر صرف بینک اسٹیٹمنٹ یا غیر واضح معلومات کی بنیاد پر ٹیکس دہندگان کے خلاف کارروائی نہیں کر سکے گا۔ ہر کارروائی کے لیے واضح، مخصوص اور تصدیق شدہ معلومات درکار ہوں گی۔
📘 نتیجہ
یہ فیصلہ ٹیکس نظام میں شفافیت لانے، ٹیکس دہندگان کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور ایف بی آر کی بلاجواز کارروائیوں کو روکنے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ بینک اسٹیٹمنٹ آمدن کا ثبوت نہیں جب تک اس کا آمدنی سے براہ راست اور قابل تصدیق تعلق نہ ہو۔
بینک اسٹیٹمنٹ آمدن کا ثبوت نہیں – سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ!
اس کیس میں ایف بی آر نے صرف بینک اسٹیٹمنٹس کی بنیاد پر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 122(5A) کے تحت ازسرنو اسیسمنٹ کی کارروائی شروع کی۔ ایف بی آر کا مؤقف تھا کہ ٹیکس دہندہ کے بینک اکاؤنٹ میں موجود کریڈٹ انٹریز "Undisclosed Income" ہیں، لہٰذا انہیں نوٹس جاری کیا گیا۔
لیکن ٹیکس دہندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بینک اسٹیٹمنٹس بذات خود "Definite Information" نہیں ہوتیں کیونکہ یہ صرف لین دین کا ریکارڈ ہیں، ان سے براہ راست یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ آمدن ہے، یا یہ کسی مخصوص ٹیکس ایئر کی آمدن سے متعلق ہے۔
ماتحت عدالت نے ٹیکس دہندہ کے حق میں فیصلہ دیا جسے ہائی کورٹ اور بالآخر سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔
عدالتی فیصلہ:
بینک اسٹیٹمنٹس صرف ایک لین دین کا ریکارڈ ہیں، یہ خود بخود "Definite Information" نہیں بنتیں جب تک یہ مخصوص اور قابل تصدیق شواہد کے ساتھ کسی آمدنی سے واضح تعلق ظاہر نہ کریں۔
عدالت نے مزید کہا کہ "سیکشن 122(5A) کے تحت کوئی بھی کارروائی صرف اسی وقت ہو سکتی ہے جب معلومات واضح، مخصوص اور قابلِ تصدیق ہوں، محض قیاس یا شبہ کی بنیاد پر کارروائی نہیں ہو سکتی۔
اہم نکات:
بینک اسٹیٹمنٹ بذاتِ خود "Definite Information" نہیں ہے۔
معلومات کا ٹیکس ایبل آمدنی سے براہِ راست تعلق ہونا ضروری ہے۔
صرف قیاسی یا عمومی معلومات کی بنیاد پر سیکشن 122(5A) کے تحت نوٹس غیرقانونی ہوگا۔
عدالت نے ایف بی آر کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے ٹیکس دہندہ کو ریلیف دیا۔.
Must read Judgement
IN THE SUPREME COURT OF PAKISTAN
(Appellate Jurisdiction)
Present:
Mr. Justice Yahya Afridi, CJ
Mr. Justice Muhammad Shafi Siddiqui
Civil Petition No. 862 of 2024
(Against the judgment dated 18.11.2023 of the Islamabad High Court, Islamabad passed in I.T. R.No.60/2015)
Commissioner Inland Revenue, (Special Zone for Builders and Developers) Regional Tax Office, Islamabad.
Versus
Petitioner
M/s Khudadad Heights, Islamabad.
Respondent
For the Petitioner:
Dr. Farhat Zafar, ASC.
Dr. Ishtiaq Ahmed Khan, Director-General (Law), FBR.
For the Respondent:
Not represented.
Date of Hearing:
27.02.2025.
ORDER
Muhammad Shafi Siddiqui, J. The question proposed is about 'definite information' required for the amendment of the assessment under section 122 of the Income Tax Ordinance, 2001 ('the Ordinance'). It started via notice under subsections 1, 5 and 9 of section 122 of the Ordinance, 2001 issued to the assessee for the tax year 2006, finalized under section 120 of the Ordinance by accepting a declared version. The cause is a bank statement alone, on the basis of which proceedings commenced.
2. The explanation provided by the taxpayer was found unsatisfactory and the assessing officer re-assessed the net income of the taxpayer. Being aggrieved of such treatment, the taxpayer filed an appeal before the Commissioner Inland Revenue (Appeals-1). Islamabad ('the Commissioner') and was able to successfully established his response to
Popular articles
