G-KZ4T1KYLW3 The parties are bound by their pleadings PLD 2025 SC 302:

The parties are bound by their pleadings PLD 2025 SC 302:

The parties are bound by their pleadings PLD 2025 SC 302:


فریقین اپنے دعوے کے پابند ہوتے ہیں – سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ (PLD 2025 SC 302)


مقدمہ: احمد علی تالپور بنام سب رجسٹرار
حوالہ: C.P.L.A. No. 290-K/2024
فیصلہ: PLD 2025 SC 302
عدالت: سپریم کورٹ آف پاکستان

تعارف:


سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے یہ اصول واضح کیا ہے کہ فریقین اپنے دعوے اور جواب میں جو موقف اختیار کرتے ہیں، وہی ان کے مقدمے کی بنیاد ہوتا ہے، اور عدالت اس سے باہر کسی نئے مؤقف یا ثبوت کو تسلیم نہیں کرتی۔

پس منظر:


احمد علی تالپور نے دعویٰ دائر کیا کہ اسے متنازعہ جائیداد ھبہ (gift) میں دی گئی تھی۔ مقدمہ مکمل طور پر ھبہ کی بنیاد پر دائر کیا گیا۔ تاہم بعد میں دلائل کے دوران انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ زمین خریدی گئی تھی۔

عدالت نے اس نئے مؤقف کو قبول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ:

ابتدائی دعویٰ میں کہیں بھی "خریداری" کا ذکر نہیں تھا۔

فریق نے اپنے موقف کو مقدمے کے دوران تبدیل کرنے کی کوشش کی، جو قانوناً درست نہیں۔

عدالتی مشاہدات:


عدالت نے قرار دیا:

> "فریقین اپنے Pleadings کے پابند ہوتے ہیں۔ کوئی بھی نیا مؤقف جو ابتدائی دعوے یا جواب میں شامل نہ ہو، بعد میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔"

عدالت نے مزید کہا:


> "ایسا کوئی ثبوت جو دعوے کے دائرہ کار سے باہر ہو، اسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔"

قانونی اہمیت:


یہ فیصلہ پاکستانی سول مقدمات میں ایک بنیادی اصول کی یاددہانی ہے، کہ:

✅ دعویٰ اور جواب میں جو مؤقف اختیار کیا جائے، وہی مقدمے کی بنیاد ہوتا ہے۔
✅ بعد میں مؤقف تبدیل کرنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اس سے انصاف کے تقاضے بھی مجروح ہوتے ہیں۔
✅ عدالت صرف انہی نکات پر غور کرے گی جو فریقین نے شروع میں بیان کیے ہوں۔

نتیجہ:


PLD 2025 SC 302 ایک ایسا فیصلہ ہے جو ہر وکیل، جج، اور قانون کے طالب علم کے لیے قابل مطالعہ ہے۔ اس میں عدالت نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ قانونی کارروائی میں شفافیت، دیانتداری اور وضاحت ضروری ہے۔ کوئی بھی فریق مقدمے کے دوران اپنی حکمت عملی تبدیل کر کے عدالت کو گمراہ نہیں کر سکتا۔

Must read judgement 


PLD 2025 SC 302
The parties are bound by their pleadings, and any plea not raised initially cannot be introduced subsequently. The entire framework of the lawsuit was(naeem) based on the plea of gift, not purchase, and no such plea was incorporated in the plaint. The plaintiff cannot substantiate or prove a case beyond the scope of their pleadings. Any evidence brought on record outside the purview of the pleadings can be ignored by the Court.
C.P.L.A.290-K/2024
Ahmed Ali Talpur v. Sub-Registrar


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

































 




































2 Comments

  1. Can a plaintiff add more witnesses other than those mentioned in plaintiff?

    ReplyDelete
  2. In a revised plaint

    ReplyDelete
Previous Post Next Post