High Court Decision on Setting Aside Ex-Parte Decree for Breach of Scholarship Bond.
غیر حاضری کی معقول وجہ نہ ھونے پر یکطرفہ حکم کی منسوخی کی درخواست مسترد
مقدمہ:
ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) پشاور کے خلاف اسکالرشپ بونڈ کی خلاف ورزی پر دائر کردہ ہرجانے کے مقدمے میں پیش نہ ہونے کی وجہ سے دو بار یکطرفہ حکم کا سامنا کیا۔ پہلی بار ٹرائل کورٹ نے ان کی درخواست پر یکطرفہ حکم منسوخ کیا، لیکن دوسری بار درخواست ناقص اور غیر جواز یافتہ قرار پائی جس پر عدالت نے اسے خارج کر دیا۔
مقدمے کی تفصیل:
ڈاکٹر امتیاز علی شاہ نے یونیورسٹی سے بیرون ملک تعلیم کے لیے اسکالرشپ حاصل کی، جس کے لیے انہوں نے ایک بونڈ پر دستخط کیے۔ تاہم، انہوں نے اس معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی، جس پر یونیورسٹی نے ان کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا۔ ڈاکٹر امتیاز خود بیرون ملک تھے اور ان کا بھائی مقدمہ چلا رہا تھا۔
مقدمے کے دوران ڈاکٹر امتیاز دو بار عدالت میں غیر حاضر رہے جس کی بنیاد پر ان کے خلاف یکطرفہ حکم جاری کیا گیا۔ پہلی بار ان کی درخواست پر یہ حکم ختم کیا گیا، مگر دوسری بار عدالت نے درخواست مسترد کر دی کیونکہ ان کی غیر حاضری کی وجوہات غیر معقول تھیں۔
ہائی کورٹ کا فیصلہ اور قانونی نکتہ:
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ عدالت میں غیر حاضری کی معقول اور قابلِ قبول وجہ پیش کرنا فریق کی ذمہ داری ہے۔ صرف بیرون ملک موجودگی کو غیر حاضری کا جواز نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت نے آرڈر IX رول 13 کے تحت یکطرفہ حکم کو ختم کرنے کے لیے مضبوط اور قابلِ اعتماد ثبوت کا تقاضا کیا۔
چنانچہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے اپیل بھی خارج کر دی۔ اس فیصلے سے یہ سبق ملتا ہے کہ عدالت میں پیشی کی پابندی اور غیر حاضری کی مناسب وضاحت بہت ضروری ہے، ورنہ یکطرفہ حکم کو برقرار رکھا جائے گا۔
اہم نکات:
اسکالرشپ بونڈ کی خلاف ورزی پر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا گیا۔
فریق بیرون ملک تھا، مگر غیر حاضری کی معقول وضاحت نہ دی۔
پہلی بار یکطرفہ حکم ختم ہوا، دوسری بار درخواست مسترد۔
عدالت نے آرڈر IX رول 13 کے تحت مضبوط جواز کا تقاضا کیا۔
ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے یکطرفہ حکم کو برقرار رکھا۔
نتیجہ:
یہ فیصلہ فریقین کو یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ عدالتی کارروائیوں میں شرکت اور معقول وضاحت دینا لازمی ہے۔ اسکالرشپ یا بونڈ کی شرائط کی خلاف ورزی پر عدالت سختی سے نمٹتی ہے، اور غیر حاضری کی صورت میں یکطرفہ فیصلے کو برقرار رکھا جاتا ہے۔
Must read Judgement
Citation Name : 2025 MLD 282 PESHAWAR-HIGH-COURT
Side Appellant : Dr. Imtiaz Ali Shah
Side Opponent : University of Engineering and Technology through Registrar UET Peshawar
O.IX, R.13---Suit for recovery of damages---Application for setting aside ex-parte order---Execution of bond between the appellant and respondent-University for foreign higher studies on scholarship---Breach of terms and conditions of bond---Filing of suit for recovery of damages---Disappearance of counsel/brother of appellant from the proceedings of the suit---Passing of ex-parte order/decree twice---First application for setting aside ex-parte order was accepted, however, the second one was dismissed---Validity---Appellant was living abroad and instead, his counsel/brother was pursuing the recovery suit on his behalf---Appellant was twicely placed ex-parte, however, first order was set aside on his request by the Trial Court and subsequently, when he once again absented himself from the proceedings, he was proceeded against ex-parte and finally after recording of evidence of the respondent-University, ex-parte decree was passed---Contents of the application qua setting aside the ex-parte decree showed that the same were flimsy, bald and unsubstantiated---It was the duty of the appellant to have satisfied the court qua his non-appearance and diligence in pursuing his case by forwarding reasonable and justifiable grounds for his absence, however, he failed to do so, thus, the Trial Court had rightly dismissed the application of the appellant for setting aside the ex-parte decree passed against him for recovery of damages---Regular First Appeal was dismissed, in circumstances
