Child Marriage Declared Illegal: Court Orders FIR Against Groom and Nikah Witnesses in Bahawalpur Case.
کم عمری کی شادی: عدالت کا اہم فیصلہ اور قانون کی روشنی میں نکاح کی قانونی حیثیت
تعارف:
پاکستان میں کم عمری کی شادی ایک سنگین سماجی اور قانونی مسئلہ ہے۔ حالیہ عدالتی حکم میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں عدالت نے 14/15 سالہ لڑکی کی شادی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے متعلقہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ پنجاب میں نافذ Child Marriage Restraint Act 1929 (ترمیم شدہ 2015) کی روشنی میں دیا گیا۔
عدالتی فیصلہ:
مورخہ 26 مئی 2025 کو معزز عدالت نے ایک حکم جاری کیا، جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے بی وی اسپتال بہاولپور کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے ایک رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق لڑکی (مسمات اسماء بی بی) کی عمر 14 تا 15 سال پائی گئی۔ یہ عمر موجودہ قانون کے مطابق بچی کی تعریف میں آتی ہے اور وہ کسی بھی نکاح یا ازدواجی معاہدے کے لیے قانونی طور پر اہل نہیں۔
عدالت نے اس بنیاد پر پولیس اسٹیشن اوچ شریف، تحصیل احمد پور شرقیہ، ضلع بہاولپور کو ہدایت کی کہ وہ:
مبینہ دولہا محمد زاہد ولد خیل حسین،
نکاح خواں،
نکاح رجسٹرار،
اور نکاح کے گواہان و دیگر دستخط کنندگان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کریں۔
متعلقہ قانون کی وضاحت:
Child Marriage Restraint Act 1929 (ترمیم شدہ 2015):
یہ قانون کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ ترمیم شدہ قانون کے مطابق:
لڑکی کی عمر: 16 سال سے کم
لڑکے کی عمر: 18 سال سے کم
ایسی صورت میں اگر کوئی بھی فرد نکاح کرواتا ہے، نکاح رجسٹر کرتا ہے، یا اس کا گواہ بنتا ہے، تو وہ قانونی جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔
قانون کی دفعات:
سیکشن 4، 5 اور 6:
ان دفعات کے تحت کم عمر شادی میں ملوث تمام افراد کے لیے سزا اور جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔
قانونی اہمیت:
یہ فیصلہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ:
بچہ (Child) شادی جیسے سنجیدہ معاہدے کا قانونی اہل نہیں ہوتا۔
کم عمری کی شادی نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ قانوناً جرم ہے۔
والدین، نکاح خواں، گواہان اور رجسٹرار سب برابر کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
نتیجہ:
یہ فیصلہ معاشرے میں ایک مثال بنے گا اور والدین، علماء، نکاح خواں اور دیگر افراد کو متنبہ کرے گا کہ وہ قانون کی خلاف ورزی سے باز رہیں۔ بچوں کو ان کی عمر اور ذہنی بلوغت کے مطابق زندگی کے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں قبل از وقت ازدواجی بندھن میں باندھ دیا جائے۔
Must read Judgement
---
In compliance with the order of this Court dated 26.05.2025, the learned Law Officer has submitted a report from the Medical Superintendent, BV Hospital, Bahawalpur, wherein it has been opined by the Medical Board that the age of the detenue, Miss Asma Bibi, is 14-15 years. The Child Marriage Restraint Act, 1929 (Act XIX of 1929), as amended by the Punjab Marriage Restraint (Amendment) Act, 2015, has been enacted to restrain the solemnization of child marriages. Under the definition clause of the said Act, a "child" is defined as a female under the age of sixteen years and a male under the age of eighteen years. Sections 4, 5, and 6 of the Act prescribe punishments for performing, conducting, or directing a child marriage.
As the detenue, Miss Asma Bibi, is a child being 14/15 years of age, she was not competent to enter into any contract of marriage. Therefore, the SHO of Police Station Uch Sharif, Tehsil Ahmadpur East, District Bahawalpur (respondent No. 1) is directed to register a criminal case against the alleged bridegroom namely Muhammad Zahid S/O Khel Hussain, the Nikah Khawan, the Nikah Registrar concerned, as well as the witnesses of the Nikah and other signatories of the marriage contract.
