G-KZ4T1KYLW3 Supreme Court Allows Appeals Against Provincial Service Tribunals under Article 212(3) – 2024 SCMR 563

Supreme Court Allows Appeals Against Provincial Service Tribunals under Article 212(3) – 2024 SCMR 563

Supreme Court Allows Appeals Against Provincial Service Tribunals under Article 212(3) – 2024 SCMR 563.


آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 212: انتظامی عدالتیں اور ٹربیونلز

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 212 پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ قانون سازی کے ذریعے خصوصی انتظامی عدالتیں یا ٹربیونلز قائم کریں جو سرکاری ملازمین کی بھرتی، ملازمت کی شرائط، ترقی، برطرفی اور دیگر سروس معاملات سے متعلق تنازعات کا فیصلہ کریں۔
آرٹیکل 212(2) کے تحت جب ایسا قانون نافذ ہو جائے تو عمومی طور پر ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ ان معاملات میں اپنا دائرہ اختیار استعمال نہیں کرتیں، سوائے آئینی حدود کے۔ تاہم اسی شق کے ساتھ موجود پروویزو کے اطلاق پر ماضی میں اختلاف پایا جاتا رہا کہ آیا یہ صوبائی ٹربیونلز پر بھی لاگو ہوتا ہے یا نہیں۔

آرٹیکل 212(3) ایک علیحدہ اور اہم شق ہے، جس کے مطابق


آرٹیکل 212(3) ایک علیحدہ اور اہم شق ہے، جس کے مطابق کسی بھی ایسے ٹربیونل کے فیصلے، حکم یا ڈگری کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ سپریم کورٹ یہ سمجھے کہ معاملہ عوامی اہمیت کے سوال پر مشتمل ہے۔

مقدمہ کا تعارف

Citation: 2024 SCMR 563
عدالت: سپریم کورٹ آف پاکستان
فریقین:
اپیل کنندہ: سید اصغر علی شاہ
مدعا علیہ: کلیم ارشد
یہ مقدمہ اس بنیادی آئینی سوال پر مبنی تھا کہ آیا صوبائی قانون کے تحت قائم کیے گئے سروس یا انتظامی ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں آرٹیکل 212(3) کے تحت اپیل قابلِ سماعت ہے یا نہیں، خصوصاً اس صورت میں جب آرٹیکل 212(2) کے پروویزو کا اطلاق اس صوبائی ٹربیونل پر نہ کیا گیا ہو۔

اکثریتی فیصلہ (Syed Mansoor Ali Shah, J.)

اکثریتی رائے میں معزز جج نے واضح طور پر قرار دیا کہ آرٹیکل 212(2) کا پروویزو صرف اسی شق تک محدود ہے اور اس کا اطلاق آرٹیکل 212(3) پر نہیں ہوتا۔ آرٹیکل 212(3) ایک خود مختار آئینی حق فراہم کرتا ہے جس کے تحت سپریم کورٹ، عوامی اہمیت کے سوال کی موجودگی میں، کسی بھی انتظامی یا سروس ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف اپیل سن سکتی ہے، خواہ وہ ٹربیونل وفاقی قانون کے تحت قائم ہوا ہو یا صوبائی قانون کے تحت۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ صوبائی انتظامی ٹربیونلز کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کو ناقابلِ سماعت قرار دینا آئین کی روح کے منافی ہے، کیونکہ آئین نے خود سپریم کورٹ کو یہ اختیار دیا ہے۔
اسی بنیاد پر سپریم کورٹ نے اپنے سابقہ فیصلے Gomal Medical College v. Armaghan Khan (PLD 2023 SC 190) میں اس حوالے سے دی گئی قانونی تشریح کو اوور رول کر دیا۔

اقلیتی فیصلہ (Ayesha A. Malik, J.)

اقلیتی رائے میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ چونکہ آرٹیکل 212(1) خود صوبائی اسمبلی کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ صوبائی ٹربیونل قائم کرے، اس لیے آئین بذاتِ خود ایسے ٹربیونل کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق بھی فراہم کرتا ہے۔ اس تناظر میں اکثریتی فیصلے میں فیڈرل لیجسلیٹو لسٹ کے انٹری 55 پر ہونے والی بحث کو غیر متعلق قرار دیا گیا۔
اگرچہ استدلال مختلف تھا، تاہم نتیجے کے اعتبار سے اقلیتی رائے بھی اس بات سے متفق تھی کہ سپریم کورٹ کو صوبائی ٹربیونلز کے فیصلوں کے خلاف اپیل سننے کا اختیار حاصل ہے۔

قانونی اہمیت اور اثرات

یہ فیصلہ سروس قانون اور آئینی دائرہ اختیار کے حوالے سے ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب یہ اصول واضح ہو چکا ہے کہ صوبائی سروس یا انتظامی ٹربیونلز کے فیصلے حتمی نہیں سمجھے جائیں گے اور عوامی اہمیت کے سوال کی موجودگی میں ان کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے۔
یہ فیصلہ سرکاری ملازمین کے لیے ایک مؤثر آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے اور ساتھ ہی سپریم کورٹ کے نگران کردار کو مضبوط بناتا ہے، تاکہ انتظامی انصاف میں یکسانیت اور آئینی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔

نتیجہ

2024 SCMR 563 میں دیا گیا فیصلہ آرٹیکل 212 کی درست تشریح کرتے ہوئے یہ طے کرتا ہے کہ آرٹیکل 212(3) کے تحت سپریم کورٹ کا اپیلی اختیار صوبائی ٹربیونلز تک بھی پھیلا ہوا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف ایک دیرینہ آئینی ابہام کو ختم کیا بلکہ سروس معاملات میں اعلیٰ ترین عدالتی نگرانی کا دروازہ بھی کھول دیا۔

آئین پاکستان کا آرٹیکل 

212 – Administrative Courts and Tribunals

(1) پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی قانون کے ذریعے ایسے خصوصی عدالتیں یا ٹربیونلز قائم کر سکتی ہے جو:

سرکاری ملازمین کی بھرتی


ملازمت کی شرائط

برطرفی، ترقی، یا سروس کے دوسرے معاملات


سے متعلق شکایات سنیں۔

(2) جب ایسا قانون موجود ہو، تو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ ایسے معاملات میں اپنے دائرہ اختیار کو استعمال نہیں کریں گی (سوائے آئینی حدود کے)۔
[پروویزو:] وفاقی قانون کے تحت بنے ٹریبونلز پر اس شق کا اطلاق ہوتا ہے، صوبائی پر نہیں (اس میں اختلاف تھا)۔

(3) ایسے کسی ٹربیونل کے فیصلے، حکم یا ڈگری کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکتی ہے، اگر سپریم کورٹ یہ سمجھتی ہو کہ اس میں عوامی اہمیت کا سوال شامل ہے۔

Must read Judgement 


Citation Name : 2024 SCMR 563 SUPREME-COURT
Side Appellant : Syed ASGHAR ALI SHAH
Side Opponent : KALEEM ARSHAD
Arts. 212(2) , proviso, 212(3) & 142---Order of a Tribunal created by a Provincial law---Appeal to the Supreme Court under Article 212(3) of the Constitution---Maintainability---Whether an appeal lies to the Supreme Court under Article 212(3) against an order of a Tribunal created by a Provincial law to which the proviso to Clause (2) of the Article 212 has not been made applicable---[Per Syed Mansoor Ali Shah, J. (Majority view): Proviso to clause (2) does not apply to clause (3) of Article 212 of the Constitution---Appeals against orders of the Provincial Administrative Tribunals are competent before the Supreme Court under Article 212(3) of the Constitution---Supreme Court over ruled the law declared in such regard in the judgment reported as Gomal Medical College v. Armaghan Khan (PLD 2023 SC 190)]---[Per Ayesha A. Malik, J. (Minority view): As Article 212(1) of the Constitution itself confers jurisdiction on the Provincial Legislature to establish the Provincial Tribunal under Article 212(1), the Constitution also confers appellate jurisdiction to the Supreme Court from a judgment, decree, order or sentence of the said Provincial Tribunal---Discussion of the majority opinion in the instant matter on Entry 55 of the Federal Legislative List (FLL), is not relevant to the dispute at hand

Supreme Court Allows Appeals Against Provincial Service Tribunals under Article 212(3) – 2024 SCMR 563


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post