G-KZ4T1KYLW3 Peshawar High Court Validates Sale Mutation Based on Admitted Signatures and Revenue Records – 2024 YLR 2366

Peshawar High Court Validates Sale Mutation Based on Admitted Signatures and Revenue Records – 2024 YLR 2366

Peshawar High Court Validates Sale Mutation Based on Admitted Signatures and Revenue Records – 2024 YLR 2366.


پشاور ہائی کورٹ: گواہی، دستخط اور ریونیو ریکارڈ کی بنیاد پر دعویٰ مسترد – 2024 YLR 2366

تعارف:

پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم مقدمے میں نچلی عدالتوں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے زمین کی فرد بیع (Mutation) کو درست قرار دیا۔ یہ فیصلہ قانونی ورثاء کی طرف سے دائر کردہ ایک دعویٰ کے تناظر میں سامنے آیا جس میں انہوں نے زمین کی ملکیت سے انکار کیا تھا۔

کیس کا پس منظر:

مدعیان نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے والد کی وفات کے بعد ایک کنال زمین کے مالک ہیں اور مدعا علیہ عبدالرحمان خان نے جعلسازی سے زمین اپنے نام منتقل کروائی۔ انہوں نے فرد بیع کو غلط، جعلی اور ریونیو اہلکاروں کی ملی بھگت قرار دیا۔

مدعا علیہ کا مؤقف:

عبدالرحمان خان نے بتایا کہ زمین ان کے والد اور مدعیان کے والد نے 1961-62 میں مسجد کو فروخت کی تھی، جس کی فرد بیع اُس وقت درج ہوئی مگر فرقہ وارانہ مخالفت کے باعث تصدیق نہ ہو سکی۔ بعد ازاں 1988 اور 1997 میں مدعیان نے خود فرد بیع کی تصدیق کی۔

ہائی کورٹ کا مشاہدہ اور فیصلہ:

عدالت نے درج ذیل حقائق کی بنیاد پر دعویٰ مسترد کر دیا:

مدعی نمبر 2 نے عدالت میں دستخط تسلیم کیے۔

مدعی کے بھائی (مدعا علیہ نمبر 2) نے تحریری بیان میں زمین کی فروخت تسلیم کی۔

ریونیو ریکارڈ میں 1961، 1988 اور 1997 کی فردات سے زمین کی فروخت ثابت ہوئی۔

مدعیان کی گواہی میں تضاد پایا گیا۔

1997 کی فرد بیع گواہوں کی موجودگی میں تصدیق ہوئی۔

نتیجہ:

ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ نچلی عدالتوں نے شواہد کا درست جائزہ نہیں لیا، لہٰذا دونوں فیصلے کالعدم کر کے ریویژن منظور کی گئی اور مدعا علیہ کے حق میں فیصلہ سنایا گیا۔


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.

































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post