How Property is Inherited If There Are No Children in Islam.
How Property is Inherited If There Are No Children in Islam
(اگر کسی کی اولاد نہ ہو تو جائیداد کیسے تقسیم ہو گی؟)
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں زندگی کے ہر پہلو کے لیے رہنمائی موجود ہے، حتیٰ کہ مرنے کے بعد جائیداد کی تقسیم کے لیے بھی واضح احکامات موجود ہیں۔ اکثر لوگ اس بات میں الجھ جاتے ہیں کہ اگر کسی مسلمان کا انتقال ہو جائے اور اس کی اولاد نہ ہو، تو جائیداد کس کو ملے گی؟ اس مضمون میں ہم اسی سوال کا سادہ اور مختصر جواب پیش کر رہے ہیں۔
جائیداد قریبی رشتہ داروں میں
اگر کسی مسلمان کی اولاد نہ ہو تو اُس کی جائیداد قریبی رشتہ داروں میں اسلامی قانونِ وراثت کے مطابق تقسیم کی جاتی ہے۔
بیوی کا حصہ
اگر بیوی زندہ ہو تو وہ شوہر کی جائیداد میں سے چوتھائی (1/4) حصہ پائے گی۔
شوہر کا حصہ
اگر شوہر زندہ ہو تو وہ بیوی کی جائیداد میں سے آدھا (1/2) حصہ پائے گا۔
ماں کا حصہ۔
اگر ماں زندہ ہو تو اُسے ایک تہائی (1/3) یا چھٹا حصہ (1/6) دیا جائے گا، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ اور کون کون وارث موجود ہے۔
اگر باپ زندہ ہو تو وہ بھی جائیداد کا وارث ہو گا۔ اگر کوئی قریبی وارث نہ ہو تو باپ کو پوری جائیداد مل سکتی ہے۔
بھائی بھینوں کا حصہ
اگر بھائی اور بہنیں زندہ ہوں تو بھائی کو دو حصے اور بہن کو ایک حصہ ملتا ہے۔
چچا پھوپھی وغیرہ کا حصہ۔
اگر قریبی رشتہ دار موجود نہ ہوں تو چچا، پھوپھی، خالہ، ماموں جیسے دور کے رشتہ دار جائیداد کے حقدار بن سکتے ہیں۔
اسلام میں مرنے والے کو اپنی زندگی میں وصیت کا حق بھی حاصل ہے، مگر وہ صرف ایک تہائی (1/3) جائیداد تک محدود ہے، اور وہ بھی صرف غیر وارث کے حق میں ہو سکتی ہے۔ وارث کے حق میں کی گئی وصیت صرف دیگر وارثوں کی رضامندی سے ہی نافذ ہو سکتی ہے۔
نتیجہ:
اگر اولاد نہ ہو تو جائیداد کی تقسیم کا عمل اسلامی قانون کے مطابق واضح اور منصفانہ ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگ ان اصولوں کو جانیں، سمجھیں اور اُن پر عمل کریں تاکہ وراثت کے معاملات میں فساد، تنازع اور ناانصافی سے بچا جا سکے۔
