G-KZ4T1KYLW3 2006 SCMR 1786: Supreme Court Ruling on FIR Delay, Witness Testimony, and Evidence Reappraisal

2006 SCMR 1786: Supreme Court Ruling on FIR Delay, Witness Testimony, and Evidence Reappraisal

Supreme Court Ruling on FIR Delay, Witness Testimony, and Evidence Reappraisal.


ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر، مدعی کے چشم دید گواہ ہونے اور شواہد کے دوبارہ جائزے جیسے اہم نکات پر فیصلہ دیا

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ


مقدمہ کا پس منظر: کیس 2006 SCMR 1786 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر، مدعی کے چشم دید گواہ ہونے اور شواہد کے دوبارہ جائزے جیسے اہم نکات پر فیصلہ دیا۔

مقتول کی لاش کو پہاڑی علاقے سے لانے میں تین گھنٹے کا وقت لگا


 اس کیس میں، مقتول کی لاش کو پہاڑی علاقے سے لانے میں تین گھنٹے کا وقت لگا، جس پر ایف آئی آر میں تاخیر کی بات سامنے آئی۔ سپریم کورٹ نے اس کیس میں کئی اہم قانونی اصولوں کو واضح کیا۔

1. ایف آئی آر میں تاخیر:


سپریم کورٹ نے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر کو فطری قرار دیا۔
کیس میں بتایا گیا کہ مقتول کی لاش کو پہاڑی راستے سے واپس لانے میں وقت لگا،



  پھر پولیس نے موقع پر پہنچ کر مقدمہ درج کیا


 اور پھر پولیس نے موقع پر پہنچ کر مقدمہ درج کیا۔ عدالت نے کہا کہ تین گھنٹے کی تاخیر کسی بدنیتی کی علامت نہیں بلکہ یہ واقعاتی حالات کے مطابق فطری تھی۔ اس لیے تاخیر کی بنیاد پر مقدمہ مشکوک نہیں سمجھا جا سکتا۔

2. مدعی کا چشم دید گواہ ہونا ضروری نہیں:


سپریم کورٹ نے یہ واضح کیا کہ ایف آئی آر کے اندراج کے لیے مدعی کا خود وقوعہ کا گواہ ہونا ضروری نہیں۔
اس کیس میں مدعی نے خود وقوعہ نہیں دیکھا تھا، بلکہ اسے دوسرے افراد سے واقعے کی اطلاع ملی تھی۔ عدالت نے اس کو قانونی طور پر درست قرار دیا اور کہا کہ ایف آئی آر درج کرنے کے لیے چشم دید گواہ ہونے کی ضرورت نہیں۔


3. شواہد کا دوبارہ جائزہ (Reappraisal of Evidence):


عدالت نے مقدمے کی شہادتوں اور شواہد کا بغور جائزہ لیا۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو صحیح قرار دیا اور شہادتوں کو قابلِ اعتماد اور مستند تسلیم کیا۔ اس بنیاد پر ملزم کی سزائے موت برقرار رکھی گئی۔

Must read judgement 

---
2006 SCMR 1786
--S. 302---Criminal Procedure Code (V of 1898), S.154---Reappraisal of evidence---Delay in lodging F.I.R.---Deceased was fired at while going on a Kacha path in hilly area leading to a village at a distance of about two kilometers from his house---Bringing dead body to deceased's house took three hours---S.H.O. on coming to know about incident on his own reached at deceased's house, where he recorded statement of complainant and on its basis registered case---Delay in registration of case would be of no significance.


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post