G-KZ4T1KYLW3 Time Is Not Always the Essence of a Contract – Supreme Court of Pakistan Clarifies in 2025 SCMR 495

Time Is Not Always the Essence of a Contract – Supreme Court of Pakistan Clarifies in 2025 SCMR 495

Time Is Not Always the Essence of a Contract – Supreme Court of Pakistan Clarifies in 2025 SCMR 495.


کیا ہر معاہدے میں وقت کی پابندی لازمی ہوتی ہے؟ – سپریم کورٹ کا رہنما فیصلہ


(Zeeshan Pervez vs Muhammad Nasir – 2025 SCMR 495 / PLJ 2025 SC 188)

تعارف:

معاہدات (Contracts) میں وقت کی پابندی ایک اہم عنصر سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، سوال یہ ہے کہ کیا ہر معاہدے میں وقت کی خلاف ورزی سے معاہدہ خودبخود ختم ہو جاتا ہے؟ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس اہم قانونی نکتے پر 2025 کے ایک فیصلے میں وضاحت کی ہے۔

کیس کی مختصر کہانی:


Zeeshan Pervez اور Muhammad Nasir کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جس میں ایک خاص کام مخصوص وقت میں مکمل ہونا تھا۔ جب Muhammad Nasir نے طے شدہ وقت پر کام مکمل نہ کیا، تو Zeeshan Pervez نے معاہدے کو منسوخ قرار دیتے ہوئے کارروائی شروع کی۔

نچلی عدالتوں نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ معاہدے میں وقت کو "بنیادی شرط" (essential term) کے طور پر درج نہیں کیا گیا، اس لیے صرف تاخیر کی بنیاد پر معاہدہ ختم نہیں ہو سکتا۔

Zeeshan Pervez نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ:


سپریم کورٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا:

> "کیا وقت معاہدے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے؟ اس کا انحصار معاہدے کی زبان، فریقین کی نیت، اور حالات و واقعات پر ہوتا ہے۔ یہ ایک قانونی سوال نہیں بلکہ واقعاتی معاملہ (Question of Fact) ہے۔"

عدالت نے مزید فرمایا:


> "اگر معاہدے میں وقت کو لازمی شرط (time as essence) کے طور پر شامل نہ کیا جائے، تو محض تاخیر کی بنیاد پر معاہدہ قابل تنسیخ (voidable) نہیں ہوتا۔ ایسی صورت میں متاثرہ فریق صرف ہرجانے (compensation) کا مطالبہ کر سکتا ہے۔"

قانونی اہمیت:


یہ فیصلہ پاکستان میں معاہداتی قانون کے حوالے سے ایک اہم نظیر فراہم کرتا ہے۔ اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

1. ہر معاہدے میں وقت کو خودکار طور پر لازمی شرط نہیں سمجھا جائے گا۔


2. اگر فریقین نے معاہدے میں وقت کی اہمیت کو واضح نہیں کیا، تو اس کی خلاف ورزی سے معاہدہ ختم نہیں ہوتا۔


3. صرف مالی نقصان کی صورت میں ہرجانے کا مطالبہ ممکن ہے۔


4. عدالت وقت کی اہمیت کا تعین معاہدے کی زبان اور واقعاتی پس منظر سے کرے گی۔

نتیجہ:


سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ:

وقت کی خلاف ورزی صرف اسی صورت میں معاہدے کو ختم کر سکتی ہے جب وقت کو معاہدے میں لازمی اور بنیادی شرط کے طور پر شامل کیا گیا ہو۔

بصورت دیگر، معاہدہ قائم رہتا ہے اور فریقِ اول صرف ہرجانے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔


Must read part of judgement 


Time Is Not Always the Essence of a Contract – Supreme Court of Pakistan Clarifies in 2025 SCMR 495

2025 SCMR 495
PLJ 2025 SC 188
Time as essence of contract---Scope---Whether time is essence of contract always depends upon wordings of an agreement, intention of parties and above all is a question of fact---Agreements where time is not essence of contract does not become voidable by failure to do such thing at or before specified time and only remedy available to promisee is compensation from the promisor.

C.P.L.A.812-K/2022 Zeeshan Pervez vs Muhammad Nasir



For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.



































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post