Supreme Court Sets Aside Verdict Against Pervaiz Rasheed Over PTV Appointment and Alleged Financial Loss – 2024 SCMR 942
سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184(3) کے تحت پرویز رشید کی بطور چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر PTV تقرری کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
ا۔ پس منظرِ مقدمہ
ا) سپریم کورٹ نے آرٹیکل 184(3) کے تحت پرویز رشید کی بطور چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر PTV تقرری کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
ب) عدالت نے مبینہ مالی نقصان Rs.197,867,491 کی وصولی کا حکم دیا تھا۔
ج) یہ رقم پرویز رشید، وزیر اطلاعات، وزیر خزانہ اور سیکریٹری ٹو پرائم منسٹر سے وصول کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
ب۔ بنیادی قانونی سوالات
ا) کیا آرٹیکل 184(3) کا استعمال اس نوعیت کے معاملے میں جائز تھا؟
ب) کیا مبینہ مالی نقصان کا تعین قانونی اور شواہد پر مبنی تھا؟
ج) کیا دیگر سرکاری عہدیداران کو مالی ذمہ دار ٹھہرانے کی کوئی قانونی بنیاد موجود تھی؟
ج۔ آرٹیکل 184(3) کے استعمال پر عدالت کے مشاہدات
ا) آرٹیکل 184(3) ایک غیر معمولی آئینی اختیار ہے۔
ب) اس اختیار کا استعمال صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے جب عوام کے بنیادی حقوق خطرے میں ہوں۔
ج) کسی ایک فرد کی تنخواہ یا مراعات کو بنیاد بنا کر اس اختیار کا استعمال مشکوک ہے۔
د۔ آرٹیکلز 18 اور 25 کا اطلاق
ا) فیصلے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آرٹیکل 18 کیسے لاگو ہوتا ہے۔
ب) آرٹیکل 25 کے اطلاق کی بھی کوئی معقول وضاحت موجود نہیں تھی۔
ج) ان دفعات کا اطلاق خود بخود ثابت نہیں ہوتا۔
ہ۔ مبینہ مالی نقصان کا تعین
ا) مالی نقصان کا تعین من مانا اور حقائق کے خلاف تھا۔
ب) پرویز رشید کو دی گئی تنخواہ ان کے پیش رو سے معمولی زیادہ تھی۔
ج) مہنگائی کو مدنظر رکھا جائے تو تنخواہ میں اضافہ قابلِ جواز تھا۔
و۔ پروگرام اور ریونیو سے متعلق مفروضہ
ا) یہ مفروضہ غلط تھا کہ ان کے پروگرام سے PTV کو نقصان ہوا۔
ب) یہ بھی ممکن تھا کہ پروگرام نے PTV کی آمدن میں اضافہ کیا ہو۔
ج) محض قیاس آرائی کی بنیاد پر کسی کو ذمہ دار ٹھہرانا ناانصافی ہے۔
ز۔ مبینہ رقم کے شواہد
ا) کوئی ثبوت موجود نہیں تھا کہ Rs.197,867,491 پرویز رشید کو ادا کی گئی۔
ب) یہ بھی ثابت نہیں ہو سکا کہ یہ نقصان ان کی وجہ سے ہوا۔
ج) بغیر ثبوت مالی ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔
ح۔ دیگر سرکاری عہدیداران کی ذمہ داری
ا) وزراء اور سیکریٹری کو آدھی رقم کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں تھی۔
ب) اس کی کوئی عدالتی نظیر موجود نہیں تھی۔
ج) نہ مالی فائدہ ثابت ہوا اور نہ اقربا پروری کا کوئی ثبوت تھا۔
ط۔ حتمی فیصلہ
ا) سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سابقہ فیصلہ قانونی و حقائق پر مبنی غلطیوں کا شکار تھا۔
ب) مالی نقصان کی وصولی نہ قانونی تھی نہ درست۔
ج) ریویو پٹیشنز منظور کر لی گئیں اور سابقہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔
عنوان:
سپریم کورٹ نے پرویز رشید کی پی ٹی وی میں تعیناتی اور مبینہ مالی نقصان کے خلاف فیصلہ کالعدم قرار دے دیا – 2024 SCMR 942
مضمون:
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں پرویز رشید اور دیگر کی نظرثانی درخواستیں منظور کرتے ہوئے اپنا سابقہ فیصلہ واپس لے لیا، جس میں ان کی بطور چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی) تقرری کو غیرقانونی قرار دیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ 2024 SCMR 942 کے عنوان سے رپورٹ ہوا ہے۔
عدالت نے آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت کارروائی کرتے ہوئے یہ حکم دیا تھا
ابتدائی فیصلے میں، عدالت نے آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت کارروائی کرتے ہوئے یہ حکم دیا تھا کہ پرویز رشید سمیت چار افراد (وزیر اطلاعات، وزیر خزانہ، اور سیکرٹری برائے وزیراعظم) سے مبینہ مالی نقصان کی رقم وصول کی جائے۔
تاہم نظرثانی میں عدالت نے درج ذیل نکات پر غور کیا:
آئین کا آرٹیکل 184(3)
آئین کا آرٹیکل 184(3) ایک غیرمعمولی دائرہ اختیار فراہم کرتا ہے، جو صرف بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے معاملات میں استعمال کیا جانا چاہیے۔
تنخواہ یا فرد واحد کے مالی معاملات پر اس دائرہ اختیار کو استعمال کرنا مناسب نہیں تھا۔
آرٹیکلز 18 اور 25 کے اطلاق کی کوئی معقول وضاحت سابقہ فیصلے میں موجود نہیں تھی۔
پرویز رشید کی تنخواہ ان کے پیشرو کے مقابلے میں معمولی اضافہ تھی، جو مہنگائی کے تناظر میں درست سمجھی جا سکتی ہے۔
کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں تھا کہ پرویز رشید نے پی ٹی وی کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا ہو۔
یہ قیاس آرائی کہ ان کے پروگرامز کی وجہ سے پی ٹی وی کو مالی نقصان ہوا، ناقابل قبول اور ثبوت سے عاری تھی۔
بغیر کسی ثبوت کے دیگر سرکاری عہدیداروں پر مالی ذمہ داری ڈالنا قانونی اور اخلاقی اصولوں کے منافی تھا۔
ان وجوہات کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے پرانا فیصلہ واپس لے کر نظرثانی درخواستیں منظور کر لیں اور پرویز رشید سمیت تمام متعلقہ افراد کو ریلیف فراہم کیا۔
یہ فیصلہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ غیرمعمولی آئینی اختیارات کا استعمال انتہائی احتیاط اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہی کیا جانا چاہیے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔
Must read judgement.
Citation Name : 2024 SCMR 942 SUPREME-COURT
Side Appellant : PERVAIZ RASHEED
Side Opponent : PAKISTAN TELEVISION CORPORATION
Arts. 184(3) & 188---Chairman and Managing Director of Pakistan Television Corporation ("PTV")---Appointment, salary and allowances---Legality---Purported financial loss caused to PTV, recovery of---By way of judgment under review [which was heard and decided under Article 184(3) of the Constitution) the appointment of petitioner as Chairman and Managing Director of PTV was declared illegal and directions were given to recover the purported loss to PTV from four persons, i.e., the petitioner, the then Minister for Information, Minister for Finance and Secretary to the Prime Minister---Validity---Article 184(3) of the Constitution is an extraordinary power bestowed by the Constitution on the Supreme Court and it may be invoked when Fundamental Rights of the people are under attack or are being undermined---It is questionable whether the emoluments of a single individual would justify invoking the jurisdiction of the Supreme Court under Article 184(3)---Applicability of the Articles 18 and 25 is also not self evident, and it has not been explained in the judgment under review, how either of these two provisions were attracted---Factual determination of the purported loss was arbitrary and also incorrect---Petitioner was paid just a little more than his predecessor, which if inflation is factored in would be justified---It was a material error to assume that petitioner's programme's air time was lost revenue; it could also be contended that his programme contributed towards PTV's earnings---It would not be fair to penalize someone on the basis of mere conjecture---There is no evidence to suggest that an amount of Rs.197,867,491 was paid to the petitioner or that he had caused such a loss to PTV---As regards the salary of one million and five hundred thousand rupees being paid to the petitioner is concerned, it was just a little over what was paid to the previous MD, which was an important fact which was overlooked and also the fact that the petitioner's increased salary a few years later could be justified on account of inflation---In these circumstances, to seek the recovery of an arbitrarily determined loss was neither legally permissible nor factually correct---Moreover, to make liable the then Minister for Information, Minister for Finance and the Secretary to the Prime Minister with regard to half the purported loss amount, and to pay it, had no legal basis, was without precedence and was not justified, and to do so when there was nothing on record to suggest that they had financially benefited from petitioner's appointment nor was there any proof of nepotism on the record---Review petitions were allowed and the judgment under review was recalled.
Supreme Court Sets Aside Verdict Against Pervaiz Rasheed Over PTV Appointment and Alleged Financial Loss – 2024 SCMR 942
For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp
Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.