Priority of Departmental Promotion Over Direct Recruitment: Analysis of 2017 PLC (C.S.) 242.
محکمانہ ترقی بمقابلہ براہ راست تقرری: اہم فیصلہ 2017 PLC (C.S.) 242
سرکاری ملازمتوں میں محکمانہ ترقی اور براہ راست تقرری کے درمیان توازن ایک اہم قانونی مسئلہ رہا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ایک نمایاں فیصلے 2017 PLC (C.S.) 242 میں اس معاملے کو واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
کیس کا پس منظر
ایک سرکاری محکمہ میں تین آسامیوں پر تقرری کرنا مقصود تھی۔ سروس رولز کے مطابق:
50 فیصد آسامیاں محکمانہ ترقی کے لیے، اور
50 فیصد آسامیاں ابتدائی (براہ راست) تقرری کے لیے مختص تھیں۔
جب ان آسامیوں کو پُر کرنے کا وقت آیا تو ایک موجودہ ملازم (درخواست گزار) نے مؤقف اپنایا کہ خالی آسامی پر اُسے ترقی دے کر تعینات کیا جانا چاہیے تھا، نہ کہ باہر سے نئے فرد کی تقرری کی جاتی۔
قانونی سوال
اس کیس میں بنیادی قانونی سوال یہ تھا:
کیا ایسے حالات میں جب محکمانہ ترقی اور ابتدائی تقرری دونوں کا امکان موجود ہو، تو محکمانہ ملازم کو ترجیح دی جانی چاہیے؟
عدالت کے مشاہدات
لاہور ہائی کورٹ نے اصول طے کیا کہ:
اگر ترقی اور براہ راست تقرری دونوں ایک ساتھ ممکن ہوں تو محکمانہ ترقی کے امیدوار کو ترجیح دی جائے گی۔
تین آسامیوں کی تقسیم کچھ یوں ہوگی:
پہلی آسامی محکمانہ ترقی کے کوٹہ میں،
دوسری آسامی براہ راست تقرری کے کوٹہ میں،
تیسری آسامی دوبارہ محکمانہ ترقی کے کوٹہ میں۔
یوں تین میں سے دو آسامیاں محکمانہ ترقی کے لیے اور ایک آسامی براہ راست تقرری کے لیے مخصوص ہوگی۔
محکمانہ ترقی کے لیے مخصوص آسامی کو پہلے پُر کیا جانا چاہیے، اس کے بعد براہ راست تقرری کی جائے۔
کیس کا نتیجہ
موجودہ کیس میں، محکمہ نے ایک ایسی آسامی کو جو براہ راست تقرری کے کوٹہ میں تھی، باقاعدہ طور پر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پُر کیا تھا اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے تھے۔
لہٰذا عدالت نے قرار دیا کہ:
درخواست گزار کا حق متاثر نہیں ہوا تھا۔
اس کا اعتراض قانونی بنیاد سے محروم تھا۔
نتیجتاً عدالت نے درخواست مسترد کر دی۔
حوالہ جات
فیصلے میں درج ذیل سابقہ اہم فیصلوں کا حوالہ دیا گیا:
1989 PLC (C.S.) 546
1993 SCMR 2258
یہ دونوں فیصلے اس اصول کی تائید کرتے ہیں کہ جب کوٹہ متعین ہو اور قواعد کے مطابق عمل ہو، تو کسی امیدوار کا دعویٰ قابل قبول نہیں ہوتا۔
اہم نکات
جہاں قواعد اجازت دیتے ہوں، وہاں محکمانہ ترقی کو ترجیح دی جائے گی۔
کوٹہ سسٹم کی مکمل پابندی ضروری ہے۔
براہ راست تقرری جائز ہے اگر مخصوص کوٹہ کے تحت کی جائے۔
امیدواروں کو درخواست دائر کرنے سے پہلے سروس رولز کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے۔
نتیجہ:
2017 PLC (C.S.) 242 کا فیصلہ محکمانہ ترقی اور براہ راست تقرری کے تنازعات میں ایک اہم رہنما اصول مہیا کرتا ہے۔ یہ فیصلے قواعد کی پابندی اور کوٹہ کی تقسیم کا احترام کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
Must read judgement
2017 PLC CS 242
Quota for initial appointment and departmental promotion---Distribution of posts---Procedure---If a candidate for direct recruitment and a candidate claiming promotion to a particular job simultaneously had contested for the job then the candidate claiming promotion should be given priority---Three posts existed in the department for which 50% quota had been provided for departmental promotion and 50% had been reserved for initial recruitment---If all three posts are divided between the two components then right of person claiming promotion should be considered on priority and second post should go to the quota reserved for direct recruitment and third post again would go to the departmental promotion---Out of three posts two would fall in favour of quota reserved for promotion and one post would fall for quota reserved for initial recruitment---Post reserved for departmental promotion should be filled first before making direct recruitment---One post had been rightly requisitioned by the department and after due process a candidate had been appointed against the advertised post on recommendation of Public Service Commission---Petitioner had no bone of contention to fight upon---Writ petition was dismissed in circumstances
