Supreme Court Rules in Favor of University Lecturers on Study Leave with Pay – 2021 SCMR 678.
سپریم کورٹ کا فیصلہ: یونیورسٹی لیکچررز مطالعہ کی مکمل تنخواہ کے ساتھ چھٹی کے حقدار – 2021 SCMR 678
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک اہم فیصلے میں 2021 SCMR 678 کے تحت یونیورسٹی کے لیکچررز کو مکمل تنخواہ کے ساتھ مطالعہ کی چھٹی دینے کا حق تسلیم کر لیا، چاہے ان کی ابتدائی بھرتی کنٹریکٹ بنیاد پر ہی کیوں نہ ہوئی ہو۔
کیس کا پس منظر
یونیورسٹی آف ملاکنڈ نے 2001 سے 2005 کے دوران مختلف لیکچررز کو کنٹریکٹ بنیاد پر بھرتی کیا۔ بعد میں، 2007 میں ان کی خدمات کو ریگولر کر دیا گیا، اور تقرری کے آرڈرز میں واضح طور پر لکھا گیا کہ ان کی سابقہ کنٹریکٹ سروس کو سینئارٹی کے لیے شمار کیا جائے گا۔
تین سال سے زائد سروس مکمل ہونے کے بعد، ان لیکچررز نے مکمل تنخواہ کے ساتھ بیرون ملک تعلیم کے لیے چھٹی کی درخواست دی، لیکن یونیورسٹی نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ صرف مستقل (ریگولر) ملازمین کو یہ سہولت حاصل ہے۔
متاثرہ لیکچررز نے یونیورسٹی کے انکار کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
ہائی کورٹ کا فیصلہ
ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ یونیورسٹی کے سروس رولز، خصوصاً قاعدہ 89 میں صرف "ملازم" کا ذکر کیا گیا ہے، اور اس میں ریگولر یا کنٹریکٹ ملازم کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جس ملازم نے تین سال کی سروس مکمل کر لی ہو، وہ مکمل تنخواہ کے ساتھ مطالعہ کی چھٹی کا اہل ہے۔
لہٰذا ہائی کورٹ نے لیکچررز کے حق میں فیصلہ دیا۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ
یونیورسٹی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی، مگر سپریم کورٹ نے بھی:
- یہ قرار دیا کہ قاعدہ 89 میں ریگولر یا کنٹریکٹ کا کوئی فرق موجود نہیں۔
- جب سروس ریگولر ہو چکی ہو اور سابقہ سروس سینئارٹی میں شامل ہو جائے، تو مکمل سروس کو مدِنظر رکھا جائے گا۔
- تین سال مکمل کرنے والے ملازمین مطالعہ کی مکمل تنخواہ کے ساتھ چھٹی کے مستحق ہیں۔
- یونیورسٹی کا انکار قانون کے خلاف تھا۔
سپریم کورٹ نے یونیورسٹی کی اپیلیں خارج کر دیں اور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔
اہم نکات
- ریگولرائز ہونے کے بعد کنٹریکٹ پر گزری ہوئی سروس بھی شمار کی جاتی ہے۔
- ادارے ملازمین کو ان کے سروس رولز کے تحت حاصل حقوق سے محروم نہیں کر سکتے۔
- قواعد کی سادہ اور صاف تشریح ملازمین کے حق میں کی جائے گی جہاں کوئی واضح تفریق نہ ہو۔
نتیجہ
یونیورسٹی آف ملاکنڈ بمقابلہ ڈاکٹر عالم زیب کا یہ فیصلہ کنٹریکٹ سے ریگولرائز ہونے والے ملازمین کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ جب قانون کوئی فرق نہ کرے تو ملازمین کے حقوق برابر ہوتے ہیں۔
