Specific Performance Denied Due to Plaintiff’s Failure to Pay Sale Consideration – 2025 CLC 40 (Sindh High Court).
زمین کی خریداری کا معاہدہ، مخصوص کارکردگی اور عدالت کا صوابدیدی اختیار – ایک عدالتی تجزیہ
پس منظر:
2025 CLC 40 کے تحت سندھ ہائی کورٹ کراچی نے ایک اہم فیصلہ سنایا جس میں مخصوص کارکردگی (Specific Performance) کے دعوے کو خارج کرتے ہوئے مدعی کی نیت اور رویہ کو مرکزی حیثیت دی گئی۔
حقائق:
مدعی (Shabbir Ahmed) نے زمین کی خریداری کے لیے معاہدہ کیا اور بیعانہ ادا کیا، مگر بعد ازاں تین سال تک باقی قیمت ادا نہ کی۔ مزید برآں، اس دوران اس نے بیچنے والے کو کوئی قانونی نوٹس بھی ارسال نہیں کیا جو کہ خریدار کی نیت اور تیاری پر سوال اٹھاتا ہے۔ دوسری جانب، موجودہ خریدار (HAJI) نے زمین خرید کر مکمل قیمت ادا کی، رجسٹرڈ معاہدہ حاصل کیا اور زمین کا قبضہ بھی حاصل کیا۔
قانونی نکات:
Specific Relief Act, 1877 کی دفعہ 12 اور 22: مخصوص کارکردگی کا دعویٰ عدالت کا صوابدیدی اختیار ہے، جو صرف اس وقت دیا جاتا ہے جب مدعی نیک نیتی سے معاہدہ مکمل کرنے کے لیے تیار ہو۔
Contract Act, 1872 کی دفعات 51 اور 54: باہمی وعدوں کی کارکردگی کے اصول۔
عدالتی مشاہدات:
ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ:
مدعی نے تین سال کے دوران کوئی عملی قدم نہ اٹھایا جو معاہدے کی تکمیل کی نیت ظاہر کرے۔
صرف بیعانہ کی ادائیگی مخصوص کارکردگی کے لیے کافی نہیں۔
قانونی نوٹس نہ دینا اور معاہدے کی تکمیل کے لیے عدم تیاری مدعی کے خلاف گئی۔
رجسٹرڈ معاہدہ رکھنے والے موجودہ خریدار زیادہ مضبوط قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔
فیصلہ:
مدعی کا دعویٰ مسترد کیا گیا اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ بحال کیا گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مخصوص کارکردگی کا دعویٰ صرف اسی وقت تسلیم کیا جائے گا جب مدعی معاہدہ مکمل کرنے کے لیے سنجیدہ، تیار اور نیک نیت ہو۔
نتیجہ:
یہ فیصلہ اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ زمین یا کسی بھی جائیداد کے معاہدے میں صرف بیعانہ دینا کافی نہیں، بلکہ مکمل عمل، نیت اور وقت پر ادائیگی ضروری ہے۔ عدالتیں مخصوص کارکردگی کا ریلیف صرف اُنہیں دیتی ہیں جو ثابت کریں کہ وہ معاہدے کی مکمل پاسداری کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔
Specific Performance Denied Due to Plaintiff’s Failure to Pay Sale Consideration – 2025 CLC 40 (Sindh High Court)
