G-KZ4T1KYLW3 Order VII Rule 11 CPC: Supreme Court's Landmark Ruling on Rejection of Plaint

Order VII Rule 11 CPC: Supreme Court's Landmark Ruling on Rejection of Plaint

Order VII Rule 11 CPC: Supreme Court's Landmark Ruling on Rejection of Plaint.


آرڈر VII، رول 11 سی پی سی: دعویٰ کے اخراج کا قانون اور سپریم کورٹ کا رہنما فیصلہ

تعارف:

دیوانی مقدمات میں ایک اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ آیا عدالت کسی مقدمے کو اس کی ابتدا میں ہی مسترد کر سکتی ہے یا نہیں؟ سول پروسیجر کوڈ 1908 کے آرڈر VII، رول 11 میں عدالت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ایسے دعویٰ کو ابتدائی مرحلے پر ہی مسترد کر دے جو کچھ قانونی خامیوں یا بنیادوں پر قابلِ سماعت نہ ہو۔ اس اصول کی حالیہ اور اہم ترین تشریح سپریم کورٹ کے فیصلے PLD 2025 SC 302 میں کی گئی ہے، جس نے اس موضوع پر روشن راہ فراہم کی ہے۔

فیصلے کا پس منظر:


اس مقدمے میں مدعی نے مختلف نوعیت کے ریلیف مانگتے ہوئے ایک دیوانی دعویٰ دائر کیا۔ مدعا علیہ کی جانب سے دعویٰ کے اخراج کی درخواست دائر کی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یہ دعویٰ قانونی طور پر ناقابلِ سماعت ہے۔ معاملہ بالآخر سپریم کورٹ تک پہنچا جہاں اس اہم سوال پر غور کیا گیا کہ کب اور کیسے کوئی دعویٰ مسترد کیا جا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے اہم اصول:


1. صرف دعویٰ پر انحصار نہیں: عدالت نے واضح کیا کہ دعویٰ کے اخراج کے وقت صرف دعویٰ کی عبارت (pleadings) ہی نہیں بلکہ ریکارڈ پر موجود وہ مواد بھی دیکھا جا سکتا ہے جسے مدعی نے تسلیم کیا ہو۔

2. حقائق اور قانون کے مخلوط سوالات

: جہاں مقدمے میں قانونی اور فکری (fact) پہلو ملے جلے ہوں، وہاں درست طریقہ یہ ہے کہ مقدمے کو مکمل کارروائی (written statement, discovery, trial) سے گزرنے دیا جائے۔

3. جزوی اخراج کی ممانعت

: عدالت نے قرار دیا کہ اگر دعویٰ میں مانگی گئی متعدد دعاؤں میں سے ایک بھی قابلِ سماعت ہو، تو قانون کسی بھی حصے کو علیحدہ مسترد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یعنی piecemeal rejection ناقابلِ قبول ہے۔

4. ازخود اخراج (Suo Motu Rejection): 

عدالت نے یہ اصول بھی طے کیا کہ آرڈر VII، رول 11 کا اطلاق کسی فریق کی درخواست کا محتاج نہیں بلکہ عدالت ازخود بھی اگر دیکھے کہ دعویٰ کسی قانونی معذوری یا خامی کا شکار ہے تو وہ اسے مسترد کر سکتی ہے۔

5. مؤثر حقِ دعویٰ (Subsisting Cause of Action): 


مدعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف یہ ثابت نہ کرے کہ اس کا حق مجروح ہوا ہے بلکہ یہ بھی کہ جب اس نے عدالت سے رجوع کیا تو اس وقت بھی اس کا حق مؤثر (alive and subsisting) تھا۔

نتیجہ:


سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ دیوانی مقدمات میں دعویٰ کے اخراج کے قانون کی گہرائی کو واضح کرتا ہے۔ اس میں عدالتی توازن، فریقین کے حقوق اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے رہنما اصول وضع کیے گئے ہیں۔ وکلاء، ججز اور قانون کے طلباء کے لیے یہ فیصلہ ایک قیمتی حوالہ ہے جو سول مقدمات کے ابتدائی مراحل میں دعویٰ کی جانچ کے لیے ایک مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

Must read Judgement.


----O. VII, R. 11---Rejection of plaint---Material to be relied upon---Principle---If some material apart from plaint is available on record and admitted by plaintiff, the Court may take such material into consideration---In case of mixed questions of law and fact, correct approach is to allow suit to proceed to written statement and discovery phases, determining the lis either by farming of preliminary issues or through a regular trial with equal opportunities for both parties.

Piecemeal rejection--- Multiple reliefs---Principle---Law does not permit piecemeal rejection---If even one prayer in plaint is found to be maintainable, plaint cannot be rejected in parts.
Rejection of plaint---Suo motu powers---Applicability---Application of Order VII, Rule 11, C.P.C. is independent and does not require waiting for filing of written statement---Court may even reject plaint on its own motion as a sense of duty, if it is found to be genuinely hit by any of the disability or infirmity provided in the clauses of Order VII, Rule 11, C.P.C.
Subsisting cause of action---Effect---Plaintiff is required to demonstrate not only that a right has been infringed in a manner entitling him to relief but also that at the time of approaching the Court, the right to seek that relief was subsisting.
PLD 2025 SC 302


For more information call us 0092-324-4010279 Whatsapp Dear readers if u like this post plz comments and follow us. Thanks for reading .as you know our goal is to aware people of their rights and how can get their rights. we will answer every question, so we need your help to achieve our goal. plz tell people about this blog and subscribe to our youtube channel and follow us at the end of this post.


































 




































Post a Comment

Previous Post Next Post